گر پاکستان کسی دو فریقین کے درمیان صلح کا کردار ادا کر رہا ہے تو سب سے پہلی ذمہ داری ہے کہ اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ بیرونی دنیا میں امن کا علمبردار بننے کے بجائے اپنے ملک میں پھیلی انتشار کی فضا کا خاتمہ کرے۔
اپنے ہی شہریوں پر گولیاں برسانے والی حکومت کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ امن کے شادیانے بجائے۔ ریاست کا اولین فرض اپنے عوام کے جان و مال اور روز گار کا تحفظ ہوتا ہے۔ چند مخصوص افراد کے لیے شہر کی سڑکوں، ٹرانسپورٹ اڈوں، اسکولوں اور کالجوں کو بند کر دینا اپنے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس ظلم کو عمومی طور پر مکمل نظر انداز کر دیا جاتا ہے مگر اس وقت چیخیں بلند ہوتی ہیں جب تحریک لبیک پاکستان کے پر امن کارکنان حضور سید دو عالم ﷺ کی ناموس پر پہرا دینے کے لیے نکلتے ہیں۔
مزید برآں ملک کی معیشت کمزور ہو رہی ہے۔ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے مگر دجالی میڈیا اور حکومتی غنڈوں کا ان مسائل پر سنجیدہ توجہ دینے کے بجائے ترجیحات ریاستی دہشت گرد آقاؤں کے تحفظ پر مرکوز دکھائی دیتی ہیں۔
تبصرے 0