غزوۂ خندق (احزاب) اسلامی تاریخ کا ایک ایسا عظیم اور فیصلہ کن مرحلہ ہے جس میں حکمتِ عملی، صبر اور اجتماعی جدوجہد اپنی بلند ترین مثالوں کے ساتھ نمایاں ہوئے۔ اس معرکے کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں صرف میدانِ جنگ میں تلوار اٹھانے والے مرد ہی نہیں، بلکہ پردے کے پیچھے رہ کر خواتینِ اسلام نے بھی وہ غیر معمولی خدمات انجام دیں کہ انکی بصیرت، استقامت اور ایثار نے اسلامی معاشرے اور خواتین کیلئے عملی نمونہ پیش کیا
جب کفارِ مکہ، یہودی قبائل اور دیگر مخالف طاقتوں نے متحد ہو کر مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایاتو ایسے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے مشاورت کے ذریعے خندق کھودنے کی حکمتِ عملی اختیار فرمائی، جو دفاعی لحاظ سے ایک غیر معمولی اقدام تھا۔ شدید سردی، بھوک اور مسلسل خطرے کے ماحول میں مسلمان مرد و خواتین دونوں نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے بے مثال خدمات پیش کیں۔
غزوۂ خندق میں خواتین کا کردار خاموش مگر نہایت مؤثر تھا۔ خواتین نے زخمی مجاہدین کی دیکھ بھال کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔۔ یہ خدمت صرف جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی تقویت کا ذریعہ بھی تھی، جس سے مجاہدین کا حوصلہ بلند رہتا تھا۔
جب مرد میدانِ جنگ میں مصروف تھے تو خواتین نے گھروں، بچوں اور بزرگوں کی مکمل ذمہ داری سنبھالی۔ یہ استحکام دراصل جنگی محاذ کی کامیابی کی بنیاد بنا، کیونکہ ایک پُرسکون داخلی ماحول ہی بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔
مشکل حالات میں خوراک اور ضروریات کی فراہمی آسان کام نہیں تھا، لیکن خواتین نے قلیل وسائل کے باوجود ایثار کا مظاہرہ کیا۔ ان کے ہاتھوں تیار ہونے والا سادہ کھانا بھی مجاہدین کے لیے طاقت اور حوصلے کا ذریعہ بنتا تھا۔
جب حالات نے تقاضا کیا تو خواتین نے براہِ راست دفاع میں بھی حصہ لیا۔ حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کا واقعہ اس کی روشن مثال ہے، جس میں انہوں نے دشمن کے جاسوس کو جرأت کے ساتھ ختم کر کے قلعے کے اندر موجود خواتین اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔
خواتین کی دعائیں، صبر اور یقین دراصل اس پورے ماحول کو ایک روحانی طاقت فراہم کر رہے تھے۔ وہ مردوں کے حوصلے بلند رکھتی تھیں اور ہر مشکل گھڑی میں ثابت قدمی کا پیغام دیتی تھیں۔
غزوۂ خندق کی یہ روشن مثالیں آج کی خواتین کے لیے بھی نہایت بامعنی اور قابلِ عمل سبق رکھتی ہیں۔ اسلامی تاریخ یہ واضح کرتی ہے کہ عورت محض ایک محدود کردار تک مقید نہیں، بلکہ وہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصہ لے سکتی ہے۔ آج کی خواتین کو چاہیے کہ وہ تعلیم، سماجی خدمات اور پیشہ ورانہ میدان میں اپنی اسلامی حدود و احکام کی روشنی میں رہتے ہوئے صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔
آج کی خواتین کو اسلام کی خدمت میں پیش مشکلات اور زندگی کے چیلنجز سے گھبراہٹ کے بجائے صبر اور حکمت کے ساتھ مقابلہ کرنا سیکھنا چاہیے۔ خواتینِ اسلام نے سخت ترین حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری، بلکہ انہیں بہترین مواقع میں تبدیل کیا۔
کسی بھی قوم کی کامیابی صرف خالی میدانِ جنگ سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے پسِ پردہ ایک مضبوط، باہمت اور باکردار معاشرہ بھی ہوتا ہے، جس میں خواتین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ خواتینِ اسلام کی خدمات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ وہ نہ صرف خاندان کی معمار ہیں بلکہ امت کی قوت بھی ہیں۔
تبصرے 0