پاکستان کی اسلامی و نظریاتی اساس کو عالمی دجالی قوتوں کے آگے سرنڈر کرنے اور ملک کو اسرائیل کی غیر اعلانیہ غلامی میں دھکیلنے کا گھناؤنا کھیل ایک بار پھر تیز ہو چکا ہے۔ 25 مئی 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آفیشل ہینڈل سے جاری ہونے والے ایک طویل بیان نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے جس میں ایران کے ساتھ ایک مبہم علاقائی تصفیے کی آڑ میں پاکستان، سعودی عرب اور قطر جیسے اہم مسلم ممالک کو "ابراہیمی معاہدے" میں شامل کرنے کا شدید عالمی دباؤ ظاہر کیا گیا ہے۔
عام عوام کو اس عالمی دجالی کھیل کی اصل حقیقت اور اس کے پسِ پردہ محرکات کو گہرائی سے سمجھنا ہوگا۔ ستمبر 2020 میں امریکی سرپرستی میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جسے "ابراہیمی معاہدہ" کا مذہبی نام دیا گیا۔ بظاہر دنیا کو یہ تاثر دیا گیا کہ چونکہ یہودی, عیسائی اور مسلمان، سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت پر یقین رکھتے ہیں، اس لیے یہ معاہدہ بین المذاہب امن، معاشی ترقی اور بھائی چارے کا ایک پرامن منصوبہ ہے لیکن اس مذہبی کارڈ کے ملمعے کے پیچھے چھپا اصل زہر یہ ہے کہ غاصب اسرائیل کو بنا کسی شرط اور بنا کسی فلسطینی ریاست کے، پوری مسلم دنیا سے تسلیم کروایا جائے۔
اس کا اصل ایجنڈا فلسطین کے "دو ریاستی نظریے" (Two-State Solution) کا مستقل جنازہ نکالنا، قبلۂ اول بیت المقدس پر صہیونی تسلط کو ہمیشہ کے لیے جائز اور قانونی قرار دینا، اور گریٹر اسرائیل کے دجالی خواب کی تکمیل ہے۔ یہ کوئی امن کا راستہ نہیں، بلکہ اسرائیل کو مسلم امہ کے دل میں خنجر کی طرح پیوست کرنے اور پورے مڈل ایسٹ سمیت پاکستان جیسے واحد مسلم ایٹمی ملک کو صہیونی معیشت اور عالمی استعمار کا بالواسطہ غلام بنانے کا ایک منظم بین الاقوامی جال ہے۔
ایک طرف وہ غیور فلسطینی عوام ہیں جنہوں نے دہائیوں سے اپنے معصوم بچوں کے جنازے اٹھا کر بیت المقدس کا دفاع کیا ہے اور دوسری طرف ن لیگی اشرافیہ ہے جو بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا وہ اصولی موقف بھول چکی ہے کہ "اسرائیل مغرب کا ایک ناجائز بچہ ہے اور پاکستان اسے کبھی تسلیم نہیں کرے گا"۔
ڈالروں کی چمک اور آئی ایم ایف کی غلامی میں جکڑے حکمران پسِ پردہ اس دجالی معاہدے کو قبول کرنے کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ ان کا فکری تضاد دیکھیے: زبان پر مصلحت پسندانہ انکار ہے اور پسِ چلمن مجرمانہ اقرار!
شرم کا مقام یہ ہے کہ ن لیگ کے اس دورِ اقتدار میں چکوال کی یونیورسٹی میں اسرائیلی پرچم لہرا کر عوام کی نظریاتی غیرت کو ٹٹولا گیا، اور عین اس وقت جب پاکستان کے اندر مریدکے کو غ زہ بنا کر بدترین مظالم ڈھائے جا رہے تھے، ملکی سرکاری ٹیلی ویژن پر صہیونی دہشتگرد نیتن یاہو کی لائیو تقریر نشر کی گئی۔ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا!
یہ ن لیگ کی حکومت کی زیرِ سرپرستی ایک سوچا سمجھا, منظم اور گھناؤنا پروپیگنڈا تھا تاکہ پاکستانی عوام کے ذہنوں میں اسرائیل کے وجود کو "نارملائز" (Normalize) کیا جا سکے اور ابراہیمی معاہدے کو عوام کے گلے اتارا جا سکے۔
مکر و فریب کی اس ابراہیمی مہم کے خلاف امیر تحریک کا یہ ایمانی تدبر اور دوراندیشی ہی تھی جس نے اس گھناؤنے کھیل کو وقت سے پہلے ہی طشت از بام کر دیا تھا۔ امیر تحریک نے مریدکے کے خونی سانحے سے پہلے ہی آن ریکارڈ اپنے تاریخی بیان میں پوری قوم کو واشگاف الفاظ میں خبردار کر دیا تھا کہ "یہ مقتدر حلقے اور حکمران پسِ پردہ اسرائیل سے سودے بازی کر کے آ چکے ہیں اور یہ اسرائیل کو قبول کرنے کا ذہن بنا چکے ہیں"۔ تحریک لبیک پاکستان کے امیر حافظ سعد حسین رضوی کا یہ بیان کوئی سیاسی مفروضہ نہیں تھا بلکہ آنے والے وقت کی وہ سچی تصویر تھی جس کی تصدیق بعد کے حالات نے خود کر دی۔
آج عالمی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے مطالبات اور ن لیگ کے اس فکری تضاد نے ثابت کر دیا ہے کہ سانحہ مریدکے کا وحشیانہ قتلِ عام انہی صہیونی آقاؤں کے ابراہیمی ایجنڈے کی تکمیل کا ایک خونیں حصہ تھا۔ تحریک کے نہتے مجاہدین کا قبلۂ اول کے تحفظ اور اپنے فلسطینی بھائیوں سے اظہارِ یکجہتی کے نتیجے میں بہایا گیا خون دراصل ن لیگ کی طرف سے واشنگٹن اور تل ابیب کو بھیجی جانے والی یہ عملی رسید تھی کہ ہم نے اسرائیل مخالف سب سے توانا اور آہنی دیوار کو کچل دیا ہے۔ تحریک لبیک پاکستان نے اپنے مجاہدین کے جنازے اٹھا کر ثابت کر دیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے پہلے تمہیں ہماری لاشوں سے گزرنا ہوگا۔
عالمی استعمار اور ن لیگ کے یہ مقامی کارندے ایک بات کان کھول کر سن لیں: پاکستان کلمۂ طیبہ کے نام پر بنا ہے، یہ کوئی دکان نہیں جس کا سودا امریکی ڈالروں یا آئی ایم ایف کے قرضوں کے عوض کر دیا جائے۔ تحریک کا بچہ بچہ اپنے اس اصولی موقف پر چٹان کی طرح کھڑا ہے کہ
"مر جائیں گے مگر ظالم کی حمایت نہیں کریں گے"۔
۳۱ مئی کو سوشل میڈیا پر چلنے والی یہ تاریخی مہم اس بات کا اعلانیہ جہاد ہے کہ ہم اس اسرائیل نوازی اور نام نہاد دجالی معاہدے کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ اگر حکمرانوں اور مقتدرہ کے گھٹنے گداگری اور بیرونی خوف کی وجہ سے کانپ رہے ہیں تو وہ اقتدار چھوڑ دیں، کیونکہ اس ملک کی غیرت مند عوام اسرائیل جیسے ناجائز خنجر کو امت کے دل میں پیوست کرنے کا خواب دیکھنے والوں کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکنے کی مکمل طاقت رکھتی ہے۔
جب تک زمین پر آخری سچا مسلمان باقی ہے، ابراہیمی معاہدہ اس پاک سرزمیں پر کبھی نافذ نہیں ہو سکتا۔
تبصرے 0