حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باوجود جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی کوششیں عالمی سیاست کا اہم موضوع بنی ہوئی ہیں۔ اسی پس منظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے آٹھ ایرانی خواتین قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ سامنے آیا، جسے انہوں نے مذاکرات کے لیے ایک “good will gesture” قرار دیا۔ اگرچہ اس دعوے کی تصدیق اور تردید دونوں سامنے آئیں، مگر اس نے عالمی سطح پر انسانی حقوق اور سفارت کاری کے استعمال پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔
یہ معاملہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اکثر انسانی حقوق کو اصول کے طور پر نہیں بلکہ ایک سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ جب مفاد ہو تو قیدیوں کی رہائی کو ترجیح دی جاتی ہے، اور جب مفاد نہ ہو تو وہی مسائل پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔
اسی تناظر میں ایک اور اہم اور حساس نام سامنے آتا ہے: Aafia Siddiqui۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس برسوں سے پاکستانی قوم کے لیے ایک دردناک سوال بنا ہوا ہے۔ اگر عالمی سطح پر چند قیدیوں کی رہائی کو سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، تو پھر عافیہ صدیقی جیسے کیسز کیوں مسلسل نظرانداز کیے جاتے ہیں؟
لیکن یہاں صرف عالمی طاقتوں کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں۔ اس معاملے کا ایک اہم اور تکلیف دہ پہلو پاکستانی حکمرانوں کی کمزور ڈپلومیسی اور مفاد پرستی بھی ہے۔ پاکستان کی قیادت نے ہمیشہ عالمی دباؤ اور اپنے سیاسی مفادات کو قومی وقار اور شہریوں کے حقوق پر ترجیح دی ہے۔ عافیہ صدیقی کے معاملے میں بھی یہی رویہ دیکھنے میں آیا، جہاں مضبوط سفارتی کوششوں کے بجائے خاموشی یا رسمی بیانات پر اکتفا کیا گیا۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب دیگر ممالک اپنے شہریوں کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھا سکتے ہیں، تو پاکستان کیوں نہیں؟ کیا ہمارے حکمرانوں کے لیے قومی غیرت اور شہریوں کا تحفظ محض ایک نعرہ رہ گیا ہے؟ یا پھر خارجہ پالیسی واقعی اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ وہ کوئی بھی مؤثر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی؟
حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں وہی آواز سنی جاتی ہے جو مضبوط، مستقل اور باوقار انداز میں اٹھائی جائے۔ اگر ریاست خود اپنے شہری کے لیے سنجیدہ نہ ہو، تو عالمی برادری سے انصاف کی توقع رکھنا محض ایک خوش فہمی بن جاتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ایران امریکہ مذاکرات اور قیدیوں کی رہائی کا معاملہ صرف ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ ایک اخلاقی آئینہ ہے، جو دنیا کو اس کے دوہرے معیار دکھا رہا ہے۔ اور اس آئینے میں پاکستان کو بھی اپنا چہرہ دیکھنے کی اشد ضرورت ہے، جہاں صرف عالمی طاقتیں ہی نہیں بلکہ اپنے حکمران بھی کٹہرے میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
تبصرے 0