سال 2023 کے اوائل میں پاکستان شدید ترین سیاسی عدم استحکام اور بدترین معاشی بحران کا شکار تھا۔ مہنگائی کی شرح ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی تھی، پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے بل غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکے تھے اور ڈالر کی اڑان کی وجہ سے ملکی معیشت مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔ آئی ایم ایف (IMF) کی سخت شرائط کے سامنے حکومت بے بس دکھائی دے رہی تھی۔ ان حالات میں تحریک نے ملکی معیشت کی گرتی ہوئی صورتحال اور عوامی اضطراب کو زبان دینے کے لیے مئی 2023 میں کراچی سے اسلام آباد تک "پاکستان بچاؤ مارچ" کا اعلان کیا۔
مئی اور جون کی جھلساتی گرمی اور 40 ڈگری سے اوپر کے طویل ترین مجاہدانہ سفر کا بنیادی مقصد سودی نظام کا خاتمہ، آئی ایم ایف کی عوام دشمن پالیسیوں کی مخالفت، پیٹرول، بجلی و گیس کی قیمتوں میں فوری کمی کر کے غریب طبقے کو ریلیف دینا اور ناموسِ رسالت ﷺ کے قوانین کے تحفظ سمیت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی جیسے اہم مذہبی و نظریاتی مطالبات کو ایوانوں تک پہنچانا تھا۔ تقریباً 25 دن کی کٹھن مسافت طے کر کے جب یہ کارواں 17 جون کو وزیر آباد پہنچا تو اس وقت کی حکومتی انتظامیہ کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور وفاق کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ طے پایا جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور دیگر مطالبات کی تسلیم کا وعدہ کیا گیا تاہم ملکی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی "کرین پارٹی" نے روایتی جبری نظام اور مقتدر حلقوں کے خود ساختہ بتوں کو چیلنج کیا تو اسے "انتشار پسند" اور "عوام دشمن جماعت" کا لیبل لگا کر کریک ڈاؤن اور پابندیوں کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی گئی۔
آج ایک بار پھر وطنِ عزیز معاشی جبر اور مہنگائی کے اسی ہولناک ترین طوفان کی زد میں ہے جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، گیس اور بجلی کے بھاری بل عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی جابر حکومت اور مصلحت پسند سیاسی جماعتیں مفادات کی چادر تان کر گہری نیند سوئی ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب مئی 2023 میں امیر تحریک عوام کے حقوق کی خاطر سڑکوں پر نکلے تھے، تو انہوں نے اس ملک کے وسائل اور دھرتی پر آئی ایم ایف کے غلاموں کے بجائے عوام کا پہلا حق تسلیم کرواتے ہوئے واضح کیا تھا کہ کلمہِ حق کہنے والوں کا نعرہ اور عزم سامنے کھڑی بندوق، ریاستی وردی، دھواں اور جبر دیکھ کر کبھی نہیں بدلتا مگر آج جب ریاستی اداروں اور مقتدر حلقوں کی جانب سے تحریک کی قیادت کو جبری اور ظالمانہ طور پر میدانِ عمل سے دور کر دیا گیا ہے تو پورا میدانِ سیاست خالی پڑا ہے۔ عوام کا درد رکھنے کا دعویٰ کرنے والے منافق لیڈران، سیاسی گدھ اور سوشل میڈیا کے ڈرپوک سورما آج کہاں چھپے بیٹھے ہیں؟ اب کیوں کوئی مہنگائی کے خلاف احتجاج کی کال نہیں دیتا اور کیوں کسی جابر کا ہاتھ روکنے کی ہمت نہیں ہوتی؟ ایسے ہی بزدل ناقدین اور گھروں میں بیٹھ کر سیاست چمکانے والوں کو امیر تحریک نے کراچی مزارِ قائد سے مارچ کے آغاز پر للکارتے ہوئے فرمایا تھا کہ: "مرد وہ ہوتا ہے جو میدان میں آ کر بات کرے، سوشل میڈیا پر بیٹھنے والے مرد نہیں ہوتے۔" آج قیادت کی ظاہری عدم موجودگی میں یہ ویران میدانِ سیاست گواہی دے رہا ہے کہ جبر کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ صرف اس مخلص کارواں کے پاس ہے۔
آج کے ان تلخ حقائق نے تمام سیاسی شعبدہ بازوں کے چہروں سے نقاب نوچ دیے ہیں اور اب عوام کو یہ نوشتہِ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ ان کا حقیقی لیڈر اور دکھ درد بانٹنے والا کون ہے۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ تحریک کا منشور "اسلام، پاکستان اور عوام" محض ایک سیاسی نعرہ یا اقتدار کی حوس کا نام نہیں، بلکہ ایک سچے اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کا وہ متبادل ضابطہ ہے جو جابرانہ قوتوں کے احتساب اور معاشرے کے محروم و مستضعف طبقے کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے۔
میدانِ سیاست کا یہ حالیہ سناٹا اور نام نہاد لیڈروں کی یہ پُراسرار خاموشی اس سچائی پر مہرِ تصدیق ہے کہ مئی اور جون کی جھلساتی دھوپ میں غریبوں کے حقوق کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلنے کا حوصلہ صرف اسی غیور کارواں کے پاس ہے۔ جبر کی زنجیریں اور قید و بند کی صعوبتیں حق کی اس آواز کو عوام کے دلوں سے محو نہیں کر سکتیں کیونکہ مخالفین بھی آج یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ جب ضمیروں کے سودے ہو رہے تھے، تب بھی یہی کارواں مخلص تھا۔
اقتدار کے یہ جابرانہ ایوان اور فرعونیت زدہ نظامِ حکومت یاد رکھیں کہ ہم مر جائیں گے مگر وقت کے ان ظالم حکمرانوں اور جابرانہ نظام حکومت کی حمایت کبھی نہیں کریں گے کیونکہ حسینی غیرت کل بھی میدانِ عمل کا تقاضا کرتی تھی اور آج بھی کر رہی ہے۔
تبصرے 0