کالمز

نومولود عیسائی انتہاپسند اور صلیبی جنگوں کا تاریخی پس منظر

نومولود عیسائی انتہاپسند
نومولود عیسائی انتہاپسند

صلیبی جنگوں اور ان میں حصہ لینے والے مذہبی انتہا پسندوں کی تاریخ تقریباً ایک ہزار سال پرانی ہے۔ سب سے پہلی صلیبی جنگ، یعنی عیسائیوں کی مسلمانوں کے خلاف جنگ، 1096ء میں ہوئی، جب عیسائیوں نے مسلمانوں سے بیت المقدس چھیننے کی کوشش کی۔ یہ جنگ 1099ء تک جاری رہی۔ میں بعد میں مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی ان مہمات کا تذکرہ کروں گا۔

درحقیقت میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صلیبی جنگیں اور اس سے پہلے کے واقعات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ عیسائیوں کی مسلمان دشمنی اس سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ اسی وقت شروع ہو گئی تھی، جب ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کا پیغام پھیلانا شروع کیا۔ یہودی اور عیسائی بہت بااثر تھے۔ ان کو اپنی قوت کھونے کا خطرہ پیدا ہوا اور انہوں نے فوراً ہی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔

جونہی مسلمانوں نے قوت حاصل کر لی اور مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور عرب سے باہر فتوحات شروع کیں، اور اس وقت کی طاقتور ترین عیسائی مملکتوں کو شکست دی، مسلمانوں نے ان عیسائی مملکتوں پر قبضہ کر لیا تو عیسائیوں کو بہت بڑا دھچکا لگا اور ان میں مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت پیدا ہو گئی۔

کچھ ہی عرصے میں نہایت طاقتور ممالک، مثلاً مصر، شام، عراق، ایران (آتش پرست)، اسپین، وسطِ ایشیا، آرمینیا، آذربائیجان، کریٹ اور قبرص پر قبضہ کر لیا۔ اس سے پیشتر عیسائی حکومتیں عربوں کو اونٹ چرانے والے، جاہل اور نااہل سمجھتی تھیں۔ انہیں جلد ہی احساس ہو گیا کہ نئے عرب، یعنی مسلمان، نہایت اعلیٰ کردار کے مالک اور بے حد بہادر تھے۔ ان فتوحات اور ہر میدان (سائنس، ٹیکنالوجی، انتظامِ حکومت، آرکیٹیکچر، ملکی پلاننگ اور سب سے بڑھ کر اعلیٰ کردار) میں ترقی نے سب کو حیران کر دیا تھا۔

بدقسمتی سے یہ اعلیٰ اوصاف اب مسلمانوں میں عنقا ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ کسی قوم نے عیسائی مذہب اور ان کی تہذیب و تمدن کو اس طرح نہیں ہلایا تھا اور نہ ہی ان کو تباہ کرنے کا خطرہ پیش کیا تھا۔ عیسائی آج تک مسلمانوں کی اس برتری کو نہیں بھولے ہیں، اور ان کے دل میں مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت ہے، جو روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔

جب بھی ان عیسائی حکمرانوں کو کوئی موقع ملتا ہے، یہ مسلمان ممالک اور مسلمانوں کو ذلیل و خوار کرنے اور نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتے۔ وہ پرانی نفرت و حقارت جوں کی توں موجود ہے، بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوا ہے، اور روز ہی اس کی مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔

پہلی صلیبی جنگ، جس میں یورپ کے طاقتور ترین ممالک نے حصہ لیا، 1096ء میں ہوئی۔ اس کے لیے پوپ اربن دوم نے عیسائیوں کو اکسایا تھا۔ عیسائیوں نے بیت المقدس، فلسطین اور ملحقہ علاقے فتح کر لیے۔

دوسری صلیبی جنگ 1147ء سے 1149ء تک لڑی گئی۔ اس فوج کی سربراہی جرمنی کا بادشاہ کونراڈ سوئم اور فرانس کا بادشاہ لوئی سوم کر رہے تھے۔ اس کا خاص مقصد عماد الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ کی مخالفت کرنا اور انہیں عیسائی مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے سے روکنا تھا۔ عماد الدین زنگی کا جنگ کے دوران انتقال ہو گیا، اور فوج کی کمان ان کے بہادر بیٹے نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ نے سنبھال لی۔ انہوں نے عیسائی فوجوں کا حشر نشر کر دیا، اور وہ ناکام واپس ہوئے۔

تیسری صلیبی جنگ 1189ء سے 1192ء تک لڑی گئی۔ یہ سب سے بڑی اور اہم جنگ تھی۔ یورپ کے تمام عیسائی اس میں شامل تھے، اور ان کا مقصد مشہور مسلمان سپہ سالار سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے بیت المقدس کی فتح کو روکنا تھا۔ عیسائی فوجوں کی کمان انگلستان کا بادشاہ رچرڈ شیردل، فرانس کا بادشاہ فلپ اور جرمنی کا بادشاہ فریڈرک بارباروسا کر رہے تھے۔ یہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے مقابلے میں ایک بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے، اور سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں حِطّین کے مقام پر فیصلہ کن شکست دی، جبکہ فریڈرک بارباروسا پہلے ہی ترکی میں ایک دریا عبور کرتے ہوئے ڈوب گیا تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے بیت المقدس فتح کر لیا، گائے آف لوزینیان (Guy of Lusignan) کو قیدی بنا لیا، اور رینالڈ آف شاتیوں (Reynald of Châtillon) کو قتل کر دیا۔

چوتھی صلیبی جنگ 1202ء سے 1204ء تک لڑی گئی، لیکن عیسائی آپس میں لڑ پڑے، اور بجائے مسلمانوں سے فیصلہ کن جنگ کرنے کے لیے قسطنطنیہ (آج کا استنبول) پر قبضہ کر لیا، جو عیسائی حکومت کا دارالسلطنت تھا۔

پانچویں صلیبی جنگ 1218ء سے شروع ہو کر 1221ء تک جاری رہی۔ عیسائیوں نے مصر پر حملہ کیا، مگر کوئی کامیابی نہ ہوئی اور الملک الکامل ایوبی نے انہیں شکست دے کر بھگا دیا۔

چھٹی صلیبی جنگ 1228ء سے 1229ء تک لڑی گئی، اور اس کی سربراہی فریڈرک دوم (جرمنی کا بادشاہ) کر رہا تھا۔

ساتویں صلیبی جنگ: 1248ء سے 1249ء تک ہوئی، جس کی رہنمائی فرانس کا بادشاہ لوئی نہم کر رہا تھا۔ اسے شکست ہوئی۔ لوئی گرفتار کر لیا گیا اور بمشکل معاوضہ دے کر جان چھڑا کر بھاگ گیا، مگر یہ باز نہ آیا۔

آٹھویں صلیبی جنگ 1270ء سے 1271ء میں ہوئی۔ اس میں لوئی نہم اور انگلستان کا بادشاہ ایڈورڈ شامل تھے، مگر فلسطین کے بجائے یہ تیونس پر حملہ آور ہوئے، اور وہاں لوئی نہم مر گیا۔

ایک اور صلیبی جنگ بھی ہوئی۔ مغربی عیسائیوں نے کہا: چونکہ ہمارے بالغ گناہ گار ہیں، اس لیے معصوم کم سن لڑکوں کی فوج بنائی جائے۔ کئی ہزار بچے اکٹھے کر کے فرانس کی بندرگاہ مارسے سے روانہ کر دیے گئے۔ وہاں بالغ سپاہیوں نے ان پر حملہ بول دیا، ان کی عزت دری کی اور انہیں اپنا ملازم بنا لیا، نیز غلام بنا کر فروخت کر دیا۔ یہ صلیبی جنگوں کا پہلا مرحلہ تھا۔

دوسرے مرحلے کا آغاز عیسائی مغربی ممالک نے صنعتی ترقی یا انقلاب کے بعد شروع کیا۔ یہ تیرہویں صدی کے آخر اور چودہویں صدی کے شروع میں ظہور پذیر ہوا۔ انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی، ولندیزی اور جرمن حکومتوں نے مسلمان حکومتوں پر قبضہ کرنے کے بعد مسلمانوں کو تباہ کرنے کی مہم شروع کر دی۔

اس مہم میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر کے مراکش، تیونس، الجزائر، لیبیا، مصر، سوڈان، نائجیریا، چاڈ، یوگنڈا، سینیگال، شام، فلسطین، فلپائن، انڈونیشیا، ملائیشیا، انڈیا، گیمبیا، برکینا فاسو، مالی وغیرہ پر قبضہ کر لیا، اور ان مظالم کا نشانہ وہاں کے مسلمان بھی بنے۔ روسیوں نے وسطی ایشیا کی تمام مسلمان سلطنتوں پر قبضہ کر لیا، اور اس طرح مردہ جانور کو بھیڑیوں کی طرح نوچ کھایا۔ لاکھوں مسلمانوں اور دوسرے لوگوں کو افریقہ سے پکڑ کر غلام بنا کر شمالی اور جنوبی امریکہ بھیج دیا گیا۔

صلیبی مہمات کا تیسرا سلسلہ چند عشرے پیشتر ہوا، جب خود ساختہ "نو مولود عیسائی انتہا پسند" (Reborn Christians) جارج بش، ٹونی بلیئر، سرکوزی اور دوسرے عیسائی حکمرانوں نے مسلمانوں کو تہس نہس کرنے کے منصوبوں پر عمل شروع کیا۔ بش اور بلیئر نے فخریہ اقرار کیا کہ وہ نو مولود عیسائی ہیں اور سماوی فرض سمجھ کر یہودیوں کی مدد اور مسلمانوں کو تباہ کر رہے ہیں۔

پہلے عراق کے صدام کی مدد سے ایران کی حکومت کو ناقابلِ قبول نقصان پہنچایا۔ لاکھوں مسلمان قتل ہوئے اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ پھر انہوں نے حملہ کر کے عراق کو تباہ کر دیا۔ امیر ترین ملک فقیر بن گیا اور تیل پر مکمل قبضہ کر لیا۔

متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین اور قطر وغیرہ کے ذخائر پر ان کا پہلے ہی قبضہ ہے۔ صرف لیبیا تھوڑا آزاد تھا اور وہ بہانہ ڈھونڈ رہے تھے کہ کسی طرح اسے اپنے شکنجے میں لایا جائے۔ چنانچہ ایک شاطرانہ چال سے بین الاقوامی منظوری لے کر حملہ کر دیا۔ اگر ان کو نہتے شہریوں کی جان و مال کی پروا ہے تو پھر ساٹھ سال سے فلسطینیوں کے لیے ہمدردی اور مدد کہاں ہے؟

وہاں تو روز قتلِ عام ہو رہا ہے، عربوں کو زبردستی اپنی جائیداد سے محروم کیا جا رہا ہے اور لوگوں کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ بہرحال مغربی حکمرانوں نے تمام مسلمان حکمرانوں کو صاف پیغام دے دیا ہے کہ ہماری غلامی اختیار کرو، اگر سر اٹھایا تو دوسروں کے لیے تمہیں عبرت ناک مثال بنا دیں گے، اور یہی ہو رہا ہے۔ سوئیکارنو اور بھٹو کی مثال سامنے ہے۔

اب ہمیں کچھ اپنی تاریخ اور کردار کے بارے میں بھی بتانا ضروری ہے۔ جب بھی مغربی ممالک نے کہیں کامیابی حاصل کی، وہ صرف مسلمانوں میں اپنے غداروں کی موجودگی سے حاصل کی۔ مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک ہر ملک میں غدار پیدا ہوئے اور اپنے مفاد کی خاطر ان سے سمجھوتہ کیا، سازش کی اور اپنے ممالک کو غلام بنوا دیا۔

مغربی ممالک نے عیاری سے ہر ملک میں غدار پیدا کیے، اُن کو تخت پر بٹھایا اور ان کے ذریعے نہ صرف حکومت کی بلکہ اس ملک کی بنیادیں ہلا دیں اور ہمیشہ کے لیے غلام بنا دیا۔ تمام تر کوشش تیل پر قبضہ کرنے کی ہے۔ صرف لیبیا برائے نام تھوڑا آزاد تھا تو اس کا نمبر بھی آ گیا۔ جن اسلامی ممالک نے اپنی خودمختاری اور آزادی کھوئی، وہ ان کے اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔

آپ کو یاد دلاؤں کہ کس طرح اس مردود شریفِ مکہ نے ترکوں کے خلاف سازش میں انگریزوں کا ساتھ دیا، اور نتیجہ پورے عرب ممالک کی غلامی اور موجودہ ذلت و خواری کی صورت میں نکلا۔ آپ خود ذرا شریفِ مکہ (جس نے انگریزوں سے مل کر ترکوں کے خلاف بغاوت میں حصہ لیا اور لارنس آف عریبیہ کا ساتھ دے کر عرب ممالک کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مغربی ممالک کا غلام بنا دیا، اور نتیجتاً فلسطین میں اسرائیلی حکومت قائم ہوئی)، حسنی مبارک، البرادعی، عراق کے شاہ فیصل، ایران کے شاہ اور سب سے بڑھ کر ہمارے غدار پرویز مشرف کے کردار پر نظر ڈالئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے وطن کو ذاتی مفاد کی خاطر فروخت کر دیا۔

نومولود انتہاپسند عیسائی

میں یہاں آپ کو صلیبی جنگوں کے ایک اہم واقعے (عیسائیوں کی بربریت) کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ جب عیسائیوں نے 1098ء میں بیت المقدس پر قبضہ کیا تو انہوں نے وہاں موجود تمام مسلمان مرد، عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیا۔ یہاں تک کہ جن لوگوں نے مسجدِ اقصیٰ میں پناہ لی تھی، ان کو بھی بے رحمی سے قتل کر دیا۔ خود مغربی تاریخ دانوں نے اس بربریت کے بارے میں کھل کر لکھا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ میں مسلمانوں کا اس قدر خون تھا کہ عیسائی سپاہیوں کے گھوڑوں کے کھر اس میں ڈوب گئے تھے۔

لیکن جب صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے 1187ء میں بیت المقدس کو دوبارہ فتح کیا تو انہوں نے تمام بوڑھے مرد، عورتوں، زخمی سپاہیوں اور بچوں کو جانے کی اجازت دے دی۔ سپاہیوں پر ایک جزیہ مقرر کیا کہ وہ اسے ادا کر کے واپس جا سکتے ہیں۔ سپاہیوں کے پاس رقم نہ تھی۔ جب صلاح الدین کے بھائی ملک عادل کو علم ہوا تو انہوں نے اپنی جیب سے پوشیدہ طور پر ان تمام قیدیوں کا جزیہ ادا کر دیا، اور انہیں واپس اپنے وطن جانے کی اجازت مل گئی۔

یہ حقائق مشہور مغربی تاریخ دان کیرن آرمسٹرانگ نے اپنی مشہور کتاب The Crusades (صلیبی جنگیں) میں بیان کیے ہیں۔

اب میں آپ کی خدمت میں ان باتوں کا نچوڑ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ مسلمانوں پر یہ تمام تباہی، ذلالت، غلامی خود ان کے کردار اور اعمال کی وجہ سے آئی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نہ صرف بھلا دیا ہے بلکہ کھلم کھلا ان کی نافرمانی کر رہے ہیں۔ سورۂ مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف الفاظ میں انتباہ فرمایا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ۝ فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰ أَنْ تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ ۚ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا أَسَرُّوا فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ﴾

(المائدۃ: 51، 52)

ترجمہ: اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست اور محافظ نہ بناؤ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست اور محافظ ہیں، اور جو شخص تم میں سے انہیں دوست بنائے گا، وہ بھی انہی میں سے ہوگا۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے، تم انہیں دیکھو گے کہ وہ دوڑ دوڑ کر ان سے ملتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر (ان سے الگ رہنے کی وجہ سے) زمانے کی گردش (عتاب) نہ آ جائے۔ سو قریب ہے کہ اللہ فتح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور حکم نازل فرمائے، پھر یہ اپنے دل کی ان باتوں پر، جنہیں یہ چھپایا کرتے تھے، پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔

اس کے علاوہ سورۂ محمد میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ

(محمد: 38)

ترجمہ: اگر تم راہِ راست کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا، پھر وہ تمہاری طرح نہ ہوں گے۔

آج ذرا اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے کردار اور اعمال کا جائزہ لیجیے، ان کی پالیسیاں دیکھیے، ان کا عیسائیوں اور یہودیوں کی گود میں بیٹھنا دیکھیے، ان کی غلامانہ ذہنیت دیکھیے، ان لوگوں کی متعصبانہ پالیسیوں پر ان کا خاموش ردِّعمل دیکھیے، اور یہ بھی دیکھیے کہ آج بھی وہ انہیں اپنا دوست اور محافظ سمجھتے ہیں۔ یقیناً یہ اعمال انہیں وہی ذلت اور عتاب دیں گے جس کا اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے سے انحراف نہیں فرماتا۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0