دنیا کے فطرتی اور جمالیاتی حسن کو دیکھنے سے ذہن کے گوشے اس تخیل کی طرف متوجہ ہوتے نظر آتے ہیں کہ آسمان نے بادلوں میں اپنے حسن کو چھپا کر رکھا ہے۔ زمین نے گرد اور مٹی کی حیا دار چادر اوڑھ رکھی ہے۔ درخت کو پتوں اور شاخوں نے ڈھانپ رکھا ہے، سونے چاندی کے ذخائر پتھروں کی اوٹ لیے ہوئے ہیں۔ ہیرے اور موتی سمندر کے گہرے پانی میں نظروں سے اوجھل ہیں، اور سمندر کا حسن لہروں کی جھاگ کے پردے میں ہے۔ خوبصورت وادیاں سرسبز و شاداب گھاس کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔ پھلوں نے چھلکوں کی مدد سے اپنی خوبصورتی کو محفوظ بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح انسان بہت سی فطرتی و فکری حدود و قیود میں اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھے تو اس کا معاشرتی اور جمالیاتی حسن برقرار رہتا ہے۔ انسان کے بہت سے نازک، حساس اور قریبی رشتے ہوتے ہیں، ان کا باہمی احترام معاشرے کی بقا کا ذریعہ ہے۔
آزادیِ اظہارِ رائے کیا ہے؟
آزادیِ اظہارِ رائے اپنی تعریف میں ایک وسیع المعنی اصطلاح ہے، اس کی کوئی مخصوص تعریف نہیں کی جا سکتی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تعریفات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔
نیو ورلڈ انسائیکلوپیڈیا کے مطابق: "آزادیِ گفتگو بغیر حدود و قیود اور احتساب کے بولنے کی قابلیت کا نام ہے، اسے آزادیِ اظہارِ رائے کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد صرف زبانی گفتگو نہیں بلکہ کوئی بھی گفتگو یا خیالات کے اظہار کا ذریعہ، بشمول طباعت، نشریات، فنِ تشہیر، فلم اور انٹرنیٹ شامل ہیں۔"
توہین اور توہینِ مذہب میں فرق
توہینِ مذہب اور آزادیِ اظہارِ رائے کے تعلق کو سمجھنے سے پہلے یہ مناسب ہے کہ ہم پہلے توہین اور توہینِ مذہب کے فرق کو سمجھیں۔ "کوئی بھی جھوٹ پر مبنی ارادی گفتگو، چاہے لکھی ہوئی ہو یا بولی گئی ہو، جو کسی شخص کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ اس کی عزت کو کم کرے یا کسی شخص کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائے یا کسی شخص کے خلاف کوئی بھی ناخوشگوار، جارحانہ یا ناپسندیدہ رائے یا احساسات کا اظہار کرے۔" جب یہ توہین کسی مذہب یا کسی مذہبی شخصیت یا عقیدت کے خلاف ہو تو اسے توہینِ مذہب کہا جائے گا۔
آکسفورڈ کنسائس ڈکشنری کے مطابق کسی بھی گروہ یا لوگ جو کسی کی عزت کرتے ہوں، اس کے بارے میں کوئی بھی ایسا بیان یا گفتگو جو اس کی ساکھ کو نقصان پہنچائے یا لوگوں کو اس سے دور کر دے، توہین کہلاتی ہے، لیکن اہلِ مغرب فطری و قدرتی حدود و قیود سے آزاد ہو کر جینا چاہتے ہیں کہ انسان کا جیسے جی چاہے، وہ اپنی خواہشات کو عملی جامہ پہنائے۔ ماں باپ ان کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ اگر کوئی مذہبی عقیدتوں کو اہمیت نہیں دیتا تو اسے مذہب سے بیزاری کا اعلان کر دینا چاہیے۔ وہ ہر طرح کی جائز و ناجائز حدود سے آزاد ہو کر جینا چاہتے ہیں۔ اسے وہ آزادیِ اظہارِ رائے کا نام دیتے ہیں، لیکن کچھ عرصے سے اہانتِ رسول ﷺ اور اسلام دشمنی کا نام انہوں نے آزادیِ اظہارِ رائے رکھ لیا ہے۔ کہ کوئی شخص کیسی ہی تحریر و تقریر کرے، اسے شائع کرے، اسلام کے خلاف گھناؤنی سازش کرے، اسے آزادیِ اظہارِ رائے کا نام دے کر اہلِ مغرب بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ مسلم دنیا کو باور کرایا جاتا ہے کہ مغربی معاشرے میں آزادیِ اظہارِ رائے کا ہر شخص کو حق ہے۔ مغربی معاشرہ کس ڈگر پر جا رہا ہے؟
مکر و خیال کی آوارگی کہاں تک ہے؟ اہلِ مغرب اخلاقی و سماجی حدود کے کتنے پابند ہیں؟ مسلمانانِ عالم کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ مسلمانوں کا صرف یہی تقاضا ہے کہ اہانتِ رسول ﷺ اور اسلام کے خلاف سازشوں کو بند کیا جائے۔ یہاں یہ بات کرنا اہم ہے کہ عالمی قوانین میں اگر یہ سب حدود و قیود ہیں تو پھر لاگو کیوں نہیں ہیں؟ جب بھی کوئی خبیث توہینِ رسالت کرتا ہے تو اہلِ مغرب اسے مراعات دے کر اپنی گود میں بٹھا لیتے ہیں۔ یہاں دوہرا معیار کیوں؟ اگر کوئی شخص اسلامی اقدار پر حملہ کرے تو وہ اہلِ مغرب کی آنکھ کا تارا، اور اگر کوئی اہلِ مغرب کے خلاف بات کرے تو وہ مجسمۂ برائی، ایسا کیوں؟
آزادیِ اظہارِ رائے پر عالمی قوانین اور پابندیاں
ہر کوئی اس بات کو مانتا ہے کہ آزادیِ اظہارِ رائے پر کچھ جائز، قانونی اور واضح پابندیاں ہونی چاہئیں، جو اس کی حدود کا تعین کریں۔ آرٹیکل 19(3) ICCPR (انٹرنیشنل کنونشن آف سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس) جہاں آزادیِ اظہارِ رائے کا حق دیتا ہے، وہیں اس کی حدود کا تعین بھی کرتا ہے۔ سوال اصل یہ ہے کہ کیا توہینِ مذہب کو ان پابندیوں میں شامل کیا جا سکتا ہے، جو آزادیِ اظہارِ رائے کے حدود کا تعین کرنے کے لیے لگائی جاتی ہیں۔۔۔۔؟ جیسا کہ آرٹیکل 19(3) میں کیا گیا ہے کہ آزادیِ اظہارِ رائے کی کچھ حدود ہیں، مثلاً دوسروں کے حقوق اور ان کی عزت کے حقوق کی حفاظت کرنا، قومی استحکام کی حفاظت کرنا، عوامی امن، عوامی صحت اور اخلاقیات۔ ICCPR آرٹیکل 20 میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسی سرگرمی کہ جس سے قومی، نسلی یا مذہبی نفرت یا کسی بھی قسم کی امتیازی سرگرمی، جو ظلم اور تشدد کو ہوا دے، قانون اس کی اجازت نہیں دیتا اور اسے ممنوع قرار دیتا ہے۔
توہینِ مذہب کے تصور کو قاہرہ ڈیکلیئریشن آف ہیومن رائٹس اِن اسلام کے آرٹیکل 22 کے ذریعے واضح کیا جا سکتا ہے، جو کہ ہر ایک کو آزادیِ اظہارِ رائے کے حقوق دیتا ہے اور ان تمام کاموں اور قوانین کو ممنوع قرار دیتا ہے جو شریعت کی حدود کے خلاف ہوں۔ آزادیِ اظہارِ رائے پر قدغن لگانا بھی شریعت کے خلاف ہے، کیونکہ آزادیِ اظہارِ رائے کا حق شریعت نے خود مہیا کیا ہے۔ آرٹیکل 24 اور 25 نے واضح کیا ہے کہ شریعت تمام انسانی حقوق سے اولیٰ ہے۔ شریعتِ اسلامی نے ہر ایک کو بنیادی انسانی حقوق اور آزادیِ اظہارِ رائے کا حق دیا ہے اور جس طرح اسلام نے یہ حق دیا ہے، یہ انسانی حقوق اور آزادیِ اظہارِ رائے سے مختلف اور مخالف نہیں۔
سسکچوین ایکٹ برائے انسانی حقوق، سیکشن 14، جس کے مطابق کوئی بھی شخص کسی بھی قسم کی طباعت، اظہار یا نمائندگی جس سے کسی بھی قسم کی نفرت، تضحیک، ہتک یا کسی بھی شخص یا گروہ کی شان و شوکت میں رنگ، نسل، مذہب، صنف، عمر، خاندانی معیار، ازدواجی حیثیت، معذوریت، قومیت، آباؤ اجداد، جائے پیدائش یا عوامی مدد کے حصول کی بنیاد پر کمی ہو، کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
کریمینل کوڈ آف نیدرلینڈز، آرٹیکل 137 کے مطابق کسی بھی فرد یا گروہ کی نسل، مذہب، رنگ، جنسی برتری یا احساسِ جرم کی بنیاد پر عوام میں کوئی بھی ہتک آمیز بات کرنا جرم ہے۔
امتِ مسلمہ کا مطلوبہ لائحہ عمل اور ناموسِ رسالت ﷺ
مسلمانانِ عالم کا قرآنِ مجید سمیت تمام آسمانی کتب پر ایمان ہے۔ بے شک رسول اللہ ﷺ ہمارے لیے سب کچھ ہیں۔ ان کے دامن سے وابستگی ہی ہماری عزت و آبرو اور بقا و سلامتی کی ضمانت ہے۔ امتِ مسلمہ متحد ہو کر یہ قانون وضع کرے کہ اہانتِ رسول ﷺ اور آزادیِ اظہارِ رائے کی آڑ میں مذہبی جذبات کو مجروح کرنے، بے حرمتیِ قرآنِ مجید، توہینِ شعائرِ اسلام کے مرتکب شخص کو سزائے موت دی جائے۔ یہ قانون تمام اسلامی ممالک کے آئین کا حصہ ہو اور مسلم اُمہ اقوامِ متحدہ پر دباؤ ڈال کر اس قانون کو منظور کروائے کہ غیر اسلامی ملک میں بھی کوئی شخص اہانتِ رسول کا مرتکب ہو تو اسے اسلامی قانون کے مطابق سزائے موت دی جائے۔ اگر غیر مسلم طاقتیں پس و پیش سے کام لیں تو اُمتِ مسلمہ بھرپور طاقت و قوت سے یہ اپنا مطالبہ منوائے۔
میرے پیارے باباجی، صوفیِ باصفا، محافظِ ختمِ نبوت، امیرالمجاہدین حضرت علامہ مولانا حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس پر ہماری جانیں قربان، اور جو حضور خاتم النبیین ﷺ کی ناموس پر جھونکے، اسے کاٹ کر رکھ دو۔
بیداریِ امت اور نبوی پیشگوئی
دنیا میں حقیقی امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک تمام مذاہب کی مقدسات کا احترام یقینی نہ بنایا جائے۔ مسلم امہ کی موجودہ بے بسی کا سبب حدیثِ نبوی ﷺ میں پہلے ہی بیان کر دیا گیا ہے:
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، آپ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
قریب ہے کہ کفار کے مختلف گروہ ایک دوسرے کو تمہارے مقابلے کے لیے بلائیں، جیسے کہ کھانا کھانے والے ایک دوسرے کو اپنے دسترخوان کی طرف بلاتے ہیں۔ کسی صحابی نے پوچھا: کیا ہم اُس دن اپنی عددی قلت کی وجہ سے ایسے ہوں گے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (نہیں) بلکہ تم لوگ اُس دن تعداد میں زیادہ ہو گے، مگر تم سمندر کی جھاگ جیسے (یعنی بزدل) ہوگے۔ اللہ تعالیٰ (تمہاری دو خصلتوں کی وجہ سے ضرور بالضرور) تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا خوف دور کر دے گا اور تمہارے دلوں میں ضرور بالضرور وہن ڈال دے گا۔ کسی صحابی نے پوچھا: ’’وہن‘‘ کیا ہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دنیا کی محبت اور (اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے) موت کو ناپسند کرنا۔
تبصرے 0