کالمز

خلافتِ صدیقی اور فتنوں کا زور و شور: تحفظِ دین اور عزمِ صدیقی کا تاریخی جائزہ

خلافتِ صدیقی اور فتنوں کا زور و شور
خلافتِ صدیقی اور فتنوں کا زور و شور

امیر المومنین خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسندِ آرائے خلافت ہوتے ہی اپنے سامنے صعوبات، مشکلات اور خطرات کا ایک پہاڑ نظر آنے لگا۔

  • جھوٹے مدعیانِ نبوت: ایک طرف جھوٹے مدعیانِ نبوت اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

  • فتنۂ ارتداد: دوسری طرف مرتدینِ اسلام کی ایک جماعت علمِ بغاوت بلند کیے ہوئے تھی۔

  • منکرینِ زکوٰۃ: منکرینِ زکوٰۃ نے علیحدہ شورش برپا کر رکھی تھی۔

  • لشکرِ اسامہ کی روانگی: ان دشواریوں کے ساتھ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مہم بھی درپیش تھی، جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ظاہری حیات ہی میں شام کی طرف جہاد کے لیے روانہ فرمایا تھا۔

اسی مہم کے متعلق صحابہ کرام علیہم الرضوان نے رائے دی تھی کہ اس کو ملتوی کر کے پہلے مرتدین، کذاب مدعیانِ نبوت کا قلع قمع کیا جائے، لیکن خلیفۂ اول کی طبیعت نے گوارا نہ کیا کہ ارادۂ نبوی اور حکمِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم معرضِ التوا میں پڑ جائے اور جو علمِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایماء سے روم کے مقابلے کے لیے بلند کیا گیا تھا، اس کو کسی دوسری جانب حرکت دی جائے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

"خدا کی قسم! اگر مدینہ اس طرح آدمیوں سے خالی ہو جائے کہ درندے آ کر میری ٹانگ کھینچنے لگیں، تب بھی میں اس مہم کو روک نہیں سکتا۔" (تاریخ الخلفاء، ص: ۷۱)

لشکرِ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روانگی

عروہ بیان کرتے ہیں کہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی علالت کے زمانہ میں ہی حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرکردگی میں لشکر کو روانگی کا حکم دے دیا تھا اور وہ مدینہ سے روانہ ہو کر جرف (مدینہ منورہ کے قریب ایک گاؤں) تک پہنچ چکا تھا کہ میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے ہاتھ اس کو پیغام بھیجا کہ تم آگے بڑھنے میں جلدی نہ کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت علیل ہیں، پس وہ ٹھہر گئے (آگے نہ بڑھے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہری دنیا سے پردہ فرما گئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوٹ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا:

"مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف جانے کا حکم دیا تھا، لیکن اب حالات دگرگوں ہیں۔ مجھے خوف ہے کہ عرب مرتد نہ ہو جائیں۔ اگر وہ مرتد ہو گئے تو سب سے پہلے ان سے نپٹنا ہوگا (مقاتلہ کرنا ہوگا)۔ اگر وہ مرتد نہ ہوئے تو میں شام کی طرف چلا جاؤں گا، اس لیے کہ میرے پاس بہت بہادر نوجوان سپاہی ہیں، وہ مرتدین کے مقابلہ میں کام آئیں گے۔"

یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

"خدا کی قسم! میری جان پر خواہ کچھ ہی بن جائے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم میں، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم صادر فرما چکے ہیں، کسی قسم کی ترمیم نہیں کروں گا۔ اس کے بعد جیشِ اسامہ کو (شام کی طرف) روانہ کیا۔"

(تاریخ الخلفاء، ص: ۱۳۹)

عظمتِ صدیقِ اکبر اور راہِ خدا میں پیادہ پا مشایعت:

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت خطرات و مشکلات کے باوجود لشکرِ اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روانگی کا حکم دیا اور خود دور تک پیادہ پا مشایعت کر کے ان کو نہایت زریں ہدایات فرمائیں۔ چونکہ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھوڑے پر سوار تھے اور جانشینِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیادہ پا گھوڑے کے ساتھ دوڑ رہے تھے اور منظر یہ تھا کہ

دیکھو کس شان سے امت کا امام آتا ہے

خود تو پیدل ہے، سواری پر غلام آتا ہے

اس لیے لوگوں نے تعظیماً عرض کیا، بلکہ خود حضرت زید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ "اے جانشینِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم! خدا کی قسم! آپ گھوڑے پر سوار ہو لیں، ورنہ میں بھی اترتا ہوں۔"

آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا:

" اس میں کیا مضائقہ ہے؟ اگر میں تھوڑی دیر تک راہِ خدا میں اپنے پاؤں غبار آلود کر لوں۔ غازی کے ہر قدم پر (اس قدم کے عوض) سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔" (تاریخ الخلفاء)

لشکرِ اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رخصت ہو کر حدودِ شام میں پہنچا اور اپنا مقصد پورا کر کے، یعنی حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بدلہ لے کر، نہایت کامیابی کے ساتھ چالیس دن میں واپس آیا تو امیر المومنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر نکل کر نہایت جوش و مسرت سے ان کا استقبال فرمایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو پایۂ تکمیل تک پہنچا کر خوشنودیِ خدا اور رضائے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم حاصل کی اور اطمینانِ قلب کا وافر سامان فرمایا۔

فراستِ صدیقی: روئے زمین پر حفظِ اسلام کا سبب

ابن زنجویہ کہتے ہیں کہ یہ شان حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کی تھی کہ کسی مسئلہ پر آپ کی رائے منفرد ہوتی تھی تو تمام مہاجرین و انصار آپ کے وفورِ علم کے باعث آپ ہی کی رائے کو تسلیم کرتے اور اپنی رائے سے رجوع فرما لیتے تھے۔

بیہقی اور ابن عساکر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے تین مرتبہ قسم اٹھا کر فرمایا:

"وحدہٗ لا شریک کی قسم! اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ مقرر نہ ہوتے تو روئے زمین پر کوئی بھی خدا کی عبادت نہ کرتا۔" اسی طرح آپ نے اپنی قسم کو تین مرتبہ دہرایا۔

لوگوں نے آپ سے کہا:" اے ابوہریرہ! یہ آپ کس دلیل کی بنا پر فرما رہے ہیں؟" آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سات سو فوجیوں کا امیرِ لشکر مقرر فرما کر شام کی طرف روانہ کیا تھا۔ ابھی اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لشکر مقامِ ذی خشب ہی تک پہنچا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری دنیا سے پردہ ہو گیا اور یہ خبر سن کر اطرافِ مدینہ کے عرب مرتد ہو گئے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لشکر کو واپس بلا لیجیے اور اس کو روم اور حوالیِ مدینہ کی طرف بھیج دیجیے، جہاں عرب مرتد ہو رہے ہیں۔

یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

" اس خدا کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اگر مدینہ کی عورتوں کے پاؤں درندے پکڑ کر گھسیٹیں (کہ یہ عظیم ترین مصیبت ہوگی) جب بھی میں اس لشکر کو واپس نہ بلاؤں گا جس کو میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمایا تھا اور نہ اس پرچم کو سرنگوں کروں گا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لہرایا تھا۔ "

پس آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس مرتد قبیلے سے گزرتے، وہ دہشت زدہ ہو جاتا تھا اور وہ لوگ کہتے کہ اگر مسلمانوں کے پاس قوت و طاقت نہ ہوتی تو ایسے (سنگین) وقت میں وہ ہم پر خروج نہ کرتے۔ اسی طرح آگے بڑھتے بڑھتے اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سلطنتِ روم کی حدود میں جا پہنچے اور طرفین میں مقابلہ ہوا۔ بالآخر مسلمانوں کا لشکر فتح یاب ہو کر صحیح و سالم واپس آگیا اور اسلام کا بول بالا ہوا۔ (تاریخ الخلفاء، ص: ۱۳۸، ۱۳۹)

نورِ نبوت اور فراستِ صدیقی کا موازنہ

کروڑوں، اربوں سلام ہوں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فراست پر کہ جس کی بدولت اسلام آج تک زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل حق اور سچ فرمایا تھا کہ میرے یار کے ہوتے ہوئے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ امت کی امامت و قیادت سنبھالے اور پھر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ:

"اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله"

مومن کی فراست سے ڈرو، کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ (جامع ترمذی، جلد ۲، ص: ۱۴۰)

مولانا رومی نے فرمایا:

بندگانِ خاص، علام الغیوب

در جہانِ جاں، جو اسیں القلوب

اور پھر جو شخصیت حاملِ کمالاتِ نبوت ہو، بلکہ آئینۂ کمالاتِ نبوت ہو، تو اس سے وہی فراست ظاہر ہوگی جو نبوت کی فراست ہے۔ اسی لیے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وحدہٗ لا شریک کی قسم! اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ مقرر نہ ہوتے تو روئے زمین پر کوئی خدا کی عبادت نہ کرتا۔

ذرا غور کیجیے! کیا یہ وہی الفاظ نہیں ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے موقع پر ارشاد فرمائے تھے کہ:

الٰہی!

اگر تو نے جہاں سے آج ان کو محو کر ڈالا

قیامت تک نہ ہوگا کوئی تجھ کو پوجنے والا

معنوی مطابقت:

نبی اکرم ﷺ اپنے نورِ نبوت سے دیکھ رہے تھے کہ اگر آج یہ میدانِ بدر میں شکست کھا گئے تو قیامت تک کوئی اللہ کا نام لینے والا نہ ہوگا۔ اسی طرح مزاج شناسِ مصطفیٰ، جانشینِ پیغمبر سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے نورِ صداقت سے دیکھ لیا کہ اگر آج لشکرِ اسامہ کو روانہ نہ کیا گیا تو قیامت تک کوئی خدا کی عبادت کرنے والا نہ رہے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جانشینِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کا حق ادا فرمایا۔

ہے زمانہ معترف صدیق! تیری شان کا

صدق کا، اخلاص کا، ایمان کا، ایقان کا

منکرینِ ختمِ نبوت اور کذابین کے خلاف جہاد

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ ظاہری میں ہی متعدد مدعیانِ نبوت کذابوں نے اپنی جھوٹی نبوتوں کا اعلان کر دیا تھا۔

۱. مسیلمہ کذاب ملعون

اس نے ۱۰ ہجری میں اپنی جھوٹی نبوت کا اعلان کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکتوب لکھا کہ: "میں آپ کے ساتھ نبوت میں شریک ہوں۔ نصف دنیا آپ کی ہے اور نصف میری۔"

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا یہ جواب تحریر فرمایا:

’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسیلمہ کذاب کو۔ (اما بعد) دنیا خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے گا وارث بنائے گا اور انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے۔‘‘

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد اور بھی بہت سے جھوٹے مدعیانِ نبوت ظاہر ہو گئے اور روز بروز ان کی قوت و طاقت بڑھنے لگی:

  • طلیحہ بن خویلد: اس نے اپنے اطراف میں جھوٹی نبوت کا ڈھونگ رچایا، بنو غطفان اس کے اعوان و انصار تھے اور عیینہ بن حصن فزاری ان کا سردار تھا۔

  • اسود عنسی: اس نے یمن میں فتنہ برپا کیا۔

  • مسیلمہ بن حبیب: اس نے یمامہ میں جھوٹی نبوت کا اعلان کیا۔

  • سجاح بنت حارثہ تمیمیہ: مردوں کے علاوہ عورتوں میں بھی یہ مرض پھیلا اور سجاح نے اپنی جھوٹی نبوت کا اعلان کیا۔ اشعث بن قیس اس کا داعیِ خاص تھا اور بعد میں اس نے قوت مضبوط کرنے کے لیے مسیلمہ سے شادی کر لی۔

مجاہدینِ ختمِ نبوت کی روانگی

اس فتنے کے انسداد کے لیے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ فرمایا۔ قرعۂ انتخاب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام نکلا۔ وہ حضرت ثابت بن قیس انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مہاجرین و انصار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ (تاریخ طبری، ص: ۱۸۸۷)

  1. طلیحہ کی سرکوبی: حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے طلیحہ کی جماعت پر حملہ کر کے اس کے متبعین کو قتل کیا اور عیینہ بن حصن کو گرفتار کر کے مدینہ بھیجا (جہاں اس نے اسلام قبول کر لیا)۔ طلیحہ شام بھاگ گیا اور بعد میں توبہ کر کے تجدیدِ اسلام کی۔ (تاریخ یعقوبی، ج ۲، ص: ۱۴۵,سیرت خلفاء راشدین، ص: ۴۵)

  2. اسود عنسی کا خاتمہ: اسود عنسی کو قیس بن مکشوح اور فیروز دیلمی نے واصلِ جہنم کیا۔ (تاریخ طبری: ۱۸۷۳)

  3. جنگِ یمامہ اور مسیلمہ کذاب کا قتل: مسیلمہ کذاب کی بیخ کنی کے لیے پہلے شرحبیل بن حسنہ اور پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کو روانہ کیا گیا۔ شدید ترین جنگ ہوئی جس میں حفاظِ کرام کی بڑی تعداد نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ بالآخر مسیلمہ کذاب حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مارا گیا اور فتح مسلمانوں کو نصیب ہوئی۔ سجاح بھاگ کر بصرہ چلی گئی اور وہیں مری۔ (سیرت خلفاء راشدین، ص: ۴۵)

جنگِ یمامہ میں شریک مشاہیر صحابہ کرام

مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگِ یمامہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں سے مندرجہ ذیل مشاہیر افراد شریک ہوئے:

  • حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ

  • حضرت سالم غلامِ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ

  • حضرت شجاع بن وہب رضی اللہ عنہ

  • حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ

  • حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ

  • حضرت مالک بن عمرو رضی اللہ عنہ

  • حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ

  • حضرت یزید بن قیس رضی اللہ عنہ

  • حضرت عامر بن بکر رضی اللہ عنہ

  • حضرت عبداللہ بن مخرمہ رضی اللہ عنہ

  • حضرت سائب بن عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ

  • حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ

  • حضرت معن بن عدی رضی اللہ عنہ

  • حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ

  • حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ

  • حضرت سماک بن حرب رضی اللہ عنہ

(تاریخ الخلفاء، ص: ۱۴۱)

لشکرِ صدیقی کا شعار: نعرہ "یا محمد ﷺ"

حافظ عمادالدین المعروف ابنِ کثیر لکھتے ہیں:

’’حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حملہ کیا، حتیٰ کہ ان سے آگے نکل گئے اور مسیلمہ کے پہاڑوں کے پاس چلے گئے اور انتظار کرنے لگے کہ وہ آئے تو آپ اسے قتل کریں۔ پھر آپ واپس آئے اور دونوں صفوں کے درمیان کھڑے ہو گئے اور مبارزت طلب کی اور کہا: " میں ابنُ الولید العود ہوں، میں عامر اور زید کا بیٹا ہوں۔"

ثُمَّ نَادَى بِشِعَارِ الْمُسْلِمِينَ وَكَانَ شِعَارُهُمْ يَوْمَئِذٍ يَا مُحَمَّدَاهُ (البدایہ والنہایہ، ج ۶، ص: ۷۱۷)

پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کے نشانِ امتیاز سے پکارا۔ ان دنوں ان کا نشانِ امتیاز 'یا محمد' کا نعرۂ مستانہ تھا۔"

نتیجہ و استدلال:

معلوم ہوا کہ محافظینِ ختمِ نبوت کا شعار اور اُن کی علامت ہر دور میں نعرۂ رسالت رہی ہے اور آج بھی ان کی پہچان ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا نعرہ ہے۔ یہی نعرہ لشکرِ صدیقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مجاہدینِ ختمِ نبوت نے لگایا تھا اور یہی نعرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے والے مدنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی لگایا تھا:

يُنَادُونَ فِي الطُّرُقِ يَا مُحَمَّدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ (مسلم شریف، جلد ۲)

وہ مختلف راستوں میں پکارتے تھے: یا محمد، یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اس لشکرِ صدیقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے افراد، بالخصوص حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام، تو وہ ہیں جن کا آج بھی شعار، نعرہ ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ ہے۔ اس عقیدہ کو شرک کہنے والے دشمنانِ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0