کالمز

امام ربانی مجددِ الفِ ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ: حیات، تجدید اور اصلاحی کردار

امام ربانی مجددِ الفِ ثانی
امام ربانی مجددِ الفِ ثانی

نام و نسب اور خاندانی شرافت

غوثُ المحققین، قطبُ العارفین، شیخُ الاسلام والمسلمین، امام ربانی مجددِ الفِ ثانی قدس سرہ کا اسمِ گرامی احمد، لقب بدر الدین، کنیت ابوالبرکات اور منصب خزینۃ العلوم، قیومِ زماں، مجددِ الفِ ثانی ہے۔ آپ حنفی المذہب تھے اور آپ کے سلسلے کو نقشبندیہ مجددیہ کہا جاتا ہے۔

آپ کا خاندان زہد و تقویٰ، بزرگی و پرہیزگاری کی شاندار روایات کا حامل تھا:

  • والدِ گرامی : قدوۃ العرفاء شیخ عبد الاحد جلیل القدر عالم و فاضل تھے اور سلسلۂ چشتیہ، قادریہ اور سہروردیہ کے صاحبِ اجازت و خلیفہ تھے۔

  • شجرۂ نسب: حضکے جدِ ششم حضرت امام رفیع الدین رحمۃ اللہ علیہ سرہند کے بانی ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب آٹھ واسطوں سے حضرت شیخ شہاب الدین فرخ شاہ امیرِ کابل سے اور اٹھائیس (28) واسطوں سے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے۔

آپ کے جدِ ششم، قدوۃ العارفین امام رفیع الدین، علومِ ظاہری و باطنی کے جامع اور عارفِ کامل تھے۔ آپ نے تقریباً چار سو مشائخِ کبار سے استفادہ کیا اور آخر میں موضع اُچ، علاقہ ملتان میں غوثِ وقت، قطبِ عالم حضرت مخدوم سید جلال الدین بخاری جہانیاں جہان گشت رحمۃ اللہ علیہ سے کسبِ فیض فرمایا اور آپ کے خلیفۂ اکمل ہوئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب حضرت مخدوم جہانیاں بخارا سے کابل تشریف لائے تو حضرت امام رفیع الدین کو بھی اپنے ہمراہ ہندوستان لے آئے۔

سرہند شریف کا تاریخی پس منظر اور بنیاد

سرہند، دہلی کے شمال مغرب میں 37 فرسنگ اور لاہور کے مشرق میں 33 فرسنگ کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کا اصل نام سہرند (یعنی شیروں سے بھرا جنگل) تھا۔

بنیاد کی تاریخی روایت (760ھ):

  1. غیب کی خبر: فیروز شاہ تغلق کے عہد میں شاہی خزانہ لے جانے والے ایک عارفِ کامل نے چشمِ باطن سے دیکھا کہ اس جنگل میں ایک نور ہے جو تحت الثریٰ سے فوق العرش تک محیط ہے۔

  2. مخدوم جہانیاں جہان گشت کا ارشاد: انہوں نے بادشاہ سے فرمایا کہ ہمارے خاندان میں مشہور ہے کہ ہندوستان میں زمانۂ رسالت کے ایک ہزار سال بعد ایک عظیم مجدد پیدا ہوں گے۔

  3. بادشاہ نے اپنے وزیر خواجہ فتح اللہ کو اس کام کی انجام دہی کے لیے مامور فرمایا۔ وہ کئی ہزار افراد کو لے کر اس جنگل میں پہنچے اور ایک بلند مقام پسند کر کے قلعے کی تعمیر شروع کر دی۔ مگر یہ عجیب بات تھی کہ جس قدر عمارت دن میں تیار ہوتی، رات کو خود بخود منہدم ہو جاتی تھی۔ ہر چند تحقیق کی گئی مگر عمارت کے منہدم ہونے کا سبب معلوم نہ ہو سکا۔ بالآخر وزیرِ موصوف نے بادشاہ کو اطلاع دی۔ بادشاہ نے اپنے پیر حضرت مخدوم سید جلال الدین جہانیاں رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں سارا ماجرا عرض کیا۔

    حضرت مخدوم صاحب نے حضرت امام رفیع الدین، جو وزیرِ موصوف کے سربراہ تھے، کو سرہند کی ولایت و قطبیت عطا فرما کر اس کام کی تکمیل کے لیے مامور فرمایا۔

  4. حضرت بوعلی قلندر کا التصرف: حضرت امام رفیع الدین نے اپنے نورِ باطن سے معلوم کیا کہ پیادوں نے بیگار میں حضرت شاہ شرف الدین بوعلی قلندر رحمۃ اللہ علیہ کو بھی تعمیر کے کام میں لگا رکھا ہے۔ عمارت کا منہدم ہونا انہی کے تصرفات کا نتیجہ تھا۔ حضرت امام رفیع الدین نے حضرت بوعلی قلندر سے پیادوں کی اس حرکت پر معذرت کی اور ان کا اعزاز و اکرام کیا۔

حضرت بوعلی قلندر نے فرمایا: "یہ سب کچھ میں نے آپ کو یہاں بلانے کے لیے کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہاں ایک ایسے قطب کی ولادت کا سبب بنانے کے لیے بھیجا ہے جو اسلام کو زندہ کرے گا اور کفر و شرک کی ظلمت کو دور فرمائے گا۔"

چنانچہ دونوں صاحبوں نے مل کر 760ھ میں قلعے کی بنیاد رکھی، جو بہت جلد تیار ہو گیا۔ بادشاہ کو تعمیر کی تکمیل کی اطلاع دی گئی تو اس نے یہ قلعہ حضرت امام رفیع الدین کی تحسین میں دے دیا، اور اس طرح حضرت مجدد صاحب کے خاندان اور دوسرے قبائل کی آمد سے یہ شہر آباد ہو گیا۔

ولادتِ باسعادت:

تا آنکہ 971ھ، شبِ جمعہ، 14 شوال کی وہ ساعتِ ہمایوں آئی جس میں امام ربانی، محبوبِ سبحانی، مجددِ الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے بطنِ مادر سے صحنِ عالم میں قدمِ رنجہ فرمایا۔ آپ کی ولادتِ باسعادت کے وقت آٹھ غیر معمولی واقعات کا ظہور ہوا، جن کی تفصیل روضیہ قیومیہ میں مسطور ہے۔

علومِ ظاہری

جب حضرت مجدد صاحب

کی عمرِ لائق درس ہوئی تو سب سے پہلے آپ نے قرآنِ مجید حفظ فرمایا۔ اس کے بعد اپنے والدِ محترم حضرت شیخ عبد الاحد رحمۃ اللہ علیہ، جو ایک نامور عالم و فاضل تھے، سے درسِ نظامی کی تکمیل کی اور والدِ محترم کی روحانی توجہ سے حدیث، فقہ، تفسیر، اصول، منطق، فلسفہ اور معانی میں کامل مہارت حاصل کی۔ آپ سترہ برس کی عمرِ مبارک میں فارغ التحصیل ہوئے۔

اگرچہ آپ نے بیشتر علوم اپنے والدِ محترم ہی سے حاصل کیے، تاہم اس کے بعد دیگر علوم علامہ کمال الدین کشمیری سے اور کتبِ احادیث کی اسناد علامہ یعقوب کشمیری، شیخ الحدیث، سے حاصل کیں۔ علامہ محمد یعقوب، حضرت شیخ محمد حسین خوارزمی کے خلیفہ تھے۔ علمِ تفسیر و حدیث کی سند آپ نے حضرت قاضی بہلول بدخشانی سے بھی حاصل فرمائی، جو حضرت شیخ الحدیث ابنِ فہد کے تلمیذ تھے اور جن کے آباؤ اجداد بلادِ عرب کے اکابر محدثین میں شمار ہوتے تھے۔

غرض یہ کہ علومِ عالیۂ اسلامیہ کی تحصیل کے بعد آپ مسندِ ہدایت پر متمکن ہوئے۔ آگرہ، اکبرآباد اور دیگر شہروں میں دینِ اسلام کی تبلیغ فرماتے رہے۔ سینکڑوں طلبہ نے آپ کے حلقۂ درس میں شامل ہو کر درسِ نظامی کی تکمیل کی اور فیوض و برکاتِ روحانی حاصل کر کے دینِ اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف ہو گئے۔

علومِ باطنی

علومِ ظاہری کی تکمیل کے بعد حضرت مجددِ الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے علومِ باطنی کے حصول کی طرف توجہ فرمائی اور اپنے والدِ محترم حضرت خواجہ عبد الاحد رحمۃ اللہ علیہ سے فیوض و برکاتِ روحانیہ حاصل کیے۔ آپ عبادت و ریاضت میں مشغول رہے، اور آپ کے والدِ گرامی نے آپ کو پندرہ سلاسلِ اولیا میں خلافت عطا فرما کر اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

خلافتِ نقشبندیہ

حضرت مجددِ الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کو مدت سے سیر و سیاحت پر نکلنے، ملک کے مشہور بزرگانِ دین سے استفادہ کرنے، نیز حجِ بیت اللہ اور روضۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری کا شوق دامن گیر تھا، مگر والدِ محترم کی سن رسیدگی اس امر میں مانع رہی۔ تاآنکہ 1007ھ میں آپ کے والدِ محترم کا وصال ہو گیا تو حضرت مجدد صاحب گھر سے روانہ ہوئے اور دہلی پہنچے، جو اُن دنوں بڑے بڑے عارفانِ حق کا مرکز تھا۔

وہاں زمانۂ طالب علمی کے ایک دوست، مولانا حسن کشمیری، سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے سلسلۂ نقشبندیہ کے جلیل القدر بزرگ حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے ظاہری و باطنی کمالات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم پیشوا ہیں اور آپ کی کیمیا اثر نگاہ سے طالبانِ حق فیض یاب ہوتے ہیں۔

حضرت مجدد صاحب اپنے والدِ محترم سے سلسلۂ نقشبندیہ اور اس کے اکابر کے حالات سن چکے تھے کہ یہ وہ سلسلہ ہے جس کے سرسلسلہ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ ہیں، جو انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد افضل الخلق اور خلیفۂ بلافصل ہیں۔ اسی لیے آپ کا میلان سلسلۂ نقشبندیہ کی طرف تھا۔ چنانچہ حضرت مجدد صاحب حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کی عادتِ کریمہ یہ تھی کہ وہ کسی کو ازخود طریقۂ نقشبندیہ اختیار کرنے کی ترغیب نہیں دیا کرتے تھے، لیکن یہ شرف حضرت مجددِ الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل ہوا کہ مرشدِ کامل نے خلافِ معمول چند روز خانقاہ میں قیام کا ارشاد فرمایا۔ حضرت مجدد صاحب نے ایک ہفتہ قیام کا ارادہ کیا، مگر رفتہ رفتہ یہ مدت ایک ماہ اور دو ہفتوں تک پہنچ گئی۔

حضرت مجدد صاحب نے حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف غیر معمولی روحانی کشش محسوس کی اور آپ پر شوقِ انابت اور طریقۂ خواجگان کے حصول کا غلبہ ہوا، تو آپ نے بیعت کی درخواست کی۔ حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو حجرۂ خلوت میں طلب فرمایا، بیعت سے مشرف کیا اور ذکرِ قلبی کی تعلیم عطا فرمائی۔ چنانچہ حضرت مجدد صاحب کا قلب ذکرِ الٰہی سے منور ہو گیا اور سلسلۂ نقشبندیہ کے فیوض و برکات سے بہرہ ور ہوئے۔

چند دن بعد، جب حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مجدد صاحب کے اندر رشد و ارشاد اور کمالِ استعداد کے آثار ملاحظہ فرمائے تو خلوت میں آپ سے وہ حالات و واقعات بیان فرمائے جو ایک سال قبل پیش آئے تھے۔

حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میرے مرشد، خواجہ محمد آدم منکنگی رحمۃ اللہ علیہ نے مجھ سے فرمایا:

"تم ہندوستان جاؤ، وہاں تم سے اس سلسلۂ شریفہ کا رواج ہوگا۔"

میں نے از راہِ تواضع عرض کی:

"سرکار! میں اس کا اہل کہاں ہوں؟"

مرشد نے فرمایا:

"استخارہ کرو۔"

میں نے استخارہ کیا تو دیکھا کہ:

"ایک طوطا شاخ پر بیٹھا ہے۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ یہ طوطا اگر میرے ہاتھ پر آ بیٹھے تو مجھے سفر میں کشائش حاصل ہوگی۔ اس خیال کے آتے ہی وہ طوطا میرے ہاتھ پر بیٹھ گیا۔ میں نے اپنا لعابِ دہن اس کے منہ میں ڈالا، اس نے میرے منہ میں شکر ڈالی۔"

صبح کو یہ واقعہ میں نے مرشد کی خدمت میں عرض کیا تو انہوں نے فرمایا:

"یہ طوطا ہندوستان کا ہے۔ تمہارے دامنِ تربیت سے ایک ایسی ہستی نکلے گی کہ ایک عالم اس کے نور سے منور ہوگا، اور تم کو بھی فائدہ ہوگا۔ میں نے خواب میں ایک بڑا چراغ روشن دیکھا تھا، ایسا چراغ جس کی روشنی ساعت بہ ساعت بڑھتی گئی، اور لوگوں نے اس سے بہت سے چراغ روشن کیے۔ جب سرہند آیا تو اس کے قرب و جوار میں بہت سی مشعلیں روشن دیکھیں۔ یہ روشن چراغ بھی تم ہو۔"

حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

شیخ احمد آفتابی است کہ مثلِ ما ہزاراں ستارہ در سایۂ او گم اند۔

الغرض، حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمتِ بابرکت میں رہ کر حضرت مجدد صاحب نے تمام منازلِ ایقان و عرفان طے فرمائیں اور اپنے مرشدِ برحق کے حکم کے مطابق سرہند تشریف لے آئے اور تربیتِ طالبین و ہدایتِ سالکین میں مشغول ہو گئے۔

اپنے شیخ سے خرقۂ خلافت و اجازت حاصل کرنے کے بعد حضرت مجدد صاحب نے اپنی زندگی دینِ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے وقف کر دی۔ ہزاروں افراد کو راہِ ہدایت دکھائی اور سینکڑوں کو علم و عرفان کے جام پلائے۔ راہِ حق میں آپ کو بادشاہِ وقت تک سے ٹکر لینی پڑی اور قلعۂ گوالیار میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت فرمائیں، مگر ان مصائب و آلام کے باوجود آپ نے حق کی حمایت اور باطل کی سرکوبی کو اپنا شعار بنائے رکھا۔

شہنشاہ اکبر نے اپنی سیاسی مصلحتوں کی بنا پر متحدہ قومیت کے نظریے کو اپنایا۔ ہندوانہ رسومات و اعتقادات کو اسلام میں داخل کر کے ایک نئے مذہب، دینِ الٰہی (اکبر شاہی)، کی بنیاد رکھ دی۔ ظاہر ہے کہ جو برائی اربابِ اقتدار کی طرف سے برپا کی جائے، وہ بہت جلد پھیل جاتی ہے۔ اکبر اس دنیا سے کوچ کر گیا، مگر اس کی پھیلائی ہوئی گمراہیاں بدستور جاری رہیں۔

حضرت مجددِ الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے جب دیکھا کہ اسلامی اصول اور اسلامی تہذیب کی جگہ فحاشی، عریانی، بے حیائی اور گمراہی رواج پا رہی ہے تو آپ اس کے تدارک کے لیے میدان میں اترے۔ تھوڑے ہی عرصے کی پُرخلوص تبلیغ کا اثر یہ ہوا کہ عوام کے علاوہ امرائے سلطنت بھی آپ کے حلقۂ ارادت میں آ گئے۔ شاہی لشکر میں بھی آپ کا اثر و رسوخ دن بدن بڑھتا گیا، جس کا ثبوت اس امر سے ملتا ہے کہ آپ نے حضرت شیخ بدیع الزمان رحمۃ اللہ علیہ کو اپنا خلیفہ بنا کر لشکرِ شاہی میں لوگوں کی ہدایت کے لیے مقرر فرمایا۔

یہ زمانہ جہانگیر کے عہدِ حکومت کا تھا۔ مصاحبوں نے جب دیکھا کہ حضرت مجدد صاحب کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے تو انہوں نے شہنشاہ کو بدظن کرنے کی کوشش شروع کر دی۔

بادشاہوں اور حاکموں کے کان عموماً بہت کچے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے جی حضوریوں کے کہنے سننے پر بعض اوقات بلا تحقیق یقین کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ملک افتراق و انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

جہانگیر کے جی حضوری وزیرِ اعظم آصف جاہ نے ایک دن موقع پا کر دربارِ جہانگیری میں عرض کی:

"حضور! یہ درویش اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلانے لگا ہے۔ پہلے تو مجدد ہی بنا تھا، مگر اب اس کے دماغ میں حکومت کی تمنا چٹکیاں لے رہی ہے۔ اس نے نہ صرف آپ کے قدیم دشمن عبداللہ خان ازبک سے ساز باز کر رکھی ہے بلکہ اعیانِ سلطنت سے سازش کر کے لشکرِ سلطانی کو بھی اپنے زیرِ اثر لانا شروع کر دیا ہے، تاکہ موقع پا کر بغاوت کرا دے۔"

جہانگیر یہ سن کر لال پیلا ہو گیا اور آصف جاہ کے مشورے سے حضرت مجدد صاحب کے مرید و معتقد مراء خان کو دکن، خانِ خاناں کو مالوہ، سید صدرِ جہاں کو پورب، خانِ اعظم کو گجرات اور مہابت خان کو کابل وغیرہ دور دراز ممالک میں صوبیدار بنا کر بھیج دیا، اور اس کے بعد حضرت مجدد صاحب کو دربارِ شاہی میں آنے کا پروانہ جاری کیا گیا۔ جب آپ دربار میں پہنچے تو آپ نے سلامِ شاہی اور سجدۂ تعظیمی نہ کیا۔ بادشاہ کے مصاحبوں نے آدابِ شاہی کی طرف متوجہ کیا تو حضرت مجددِ الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے بآوازِ بلند فرمایا:

"یہ پیشانی آج تک غیر اللہ کے سامنے نہیں جھکی۔"

آصف جاہ کو موقع مل گیا اور اس نے شہنشاہ سے کہا:

"آپ نے دیکھا کہ یہ شخص کس قدر سرکش اور باغی ہے۔"

قصہ مختصر، جی حضوریوں کی سازشوں کی بنا پر جہانگیر نے حضرت مجدد صاحب کو قلعۂ گوالیار میں نظر بند کر دیا۔

عوام کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو مہابت خان نے بغاوت کر دی۔ دریائے جہلم پر مہابت خان اور فوجِ سلطانی میں جنگ ہوئی اور بادشاہ قید ہو گیا، مگر حضرت مجدد صاحب نے اپنے مریدوں اور تمام متعلقہ افراد کو لکھ دیا کہ:

"میرا مقصد حکومت حاصل کرنا نہیں ہے، میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ اس ملک میں اللہ کی نافرمانی نہ ہو۔"

الغرض، مہابت خان نے حکمِ مرشد کی تعمیل کی اور جہانگیر کو تین دن قید رکھنے کے بعد حضرت مجدد صاحب کی رہائی کے وعدے پر دوبارہ تخت پر بٹھا دیا۔

اس کے بعد بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے جو جہانگیر کی ہدایت کا موجب بنے۔ جہانگیر سخت بیمار ہوا اور بیماری نے اس قدر طول پکڑا کہ ہر علاج ناکام ہوا۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ فرما رہے ہیں:

"تم نے مجددِ وقت کی توہین کی ہے، اس لیے عذاب میں مبتلا ہو۔"

اس پر جہانگیر نے فوراً آپ کو رہا کر دیا اور آپ سے ملاقات کی التجا کی۔ حضرت مجدد صاحب نے چند شرطوں کے ساتھ بادشاہ سے ملاقات قبول فرمائی۔ وہ شرائط یہ تھیں:

سجدۂ تعظیمی موقوف کیا جائے۔

گاؤ پرستی کے احکام منسوخ کیے جائیں۔

احکامِ شرع جاری کیے جائیں۔

وفات

28 صفر المظفر 1034ھ، بروز دوشنبہ یا سہ شنبہ، آپ نے 63 برس کی عمر میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ آپ کا مزارِ مبارک سرہند شریف میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حضرت مجددِ الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کو عام کیا جائے اور اُن کی سیرت و کردار سے عوام کو روشناس کرایا جائے۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0