اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(الأحقاف: ۱۳، ۱۴، پ ۲۶)
ترجمہ کنز الایمان: بے شک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے، نہ ان پر خوف نہ ان کو غم، وہ جنت والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے، ان کے اعمال کا انعام۔
بہت سی پاکیزہ ہستیاں ایسی گزری ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کٹھن منزلوں سے گزرنا پڑا۔ اُن نفوسِ قدسیہ پر مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹے، لیکن ان کے پائے استقلال میں جنبش نہ ہوئی۔ بطورِ نمونہ چند نفوسِ قدسیہ کا مختصر ذکرِ خیر زینتِ قلم و قرطاس کا شرف حاصل کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ
(حم السجدۃ: ۳۰، ۳۱، پ ۲۴)
ترجمہ کنز الایمان: بے شک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں (موت کے وقت یا جب وہ قبروں سے اُٹھیں گے) کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔ ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں (تمہاری حفاظت کرتے تھے) اور آخرت میں (تمہارے ساتھ رہیں گے اور جب تک تم جنت میں داخل ہو، تم سے جدا نہ ہوں گے) اور تمہارے لیے ہے اس میں (یعنی جنت میں وہ کرامت اور نعمت و لذت) جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو۔
امیر المجاہدین کا مشن اور ہماری استقامت: قرآن، سنت اور اسلاف کے نقوشِ قدم
حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ: آپ سے دریافت کیا گیا کہ استقامت کیا ہے؟ فرمایا: "استقامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔"
حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ: آپ نے فرمایا: "استقامت یہ ہے کہ عمل میں اخلاص پیدا کرے۔"
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ: آپ نے فرمایا: "استقامت یہ ہے کہ فرائض ادا کرے، اور استقامت کے معنی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے امر کو بجا لائے اور معاصی سے بچے۔" (تفسیر خزائن العرفان)
فرمانِ خداوندی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ
(محمد: ۷، پ ۲۶)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! اگر تم دینِ خدا کی مدد کرو گے، اللہ تمہاری مدد کرے گا تمہارے دشمن کے مقابل، اور تمہارے قدم جما دے گا۔ معرکۂ جنگ میں اور حجتِ اسلام پر اور پل صراط پر۔(خزائن العرفان)
تاریخِ اسلام میں استقامت کی درخشندہ مثالیں
۱. مسلمان عورت (ماشطہ) کی بے مثال استقامت
تفسیر معالم التنزیل میں ہے کہ (وہ ماشطہ عورت) محبتِ الٰہی میں کامل تھی۔ ایک دن کنگی کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے کنگی چھوٹ کر گر گئی۔ بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا: یا اللہ! تیرے نہ ماننے والے برباد ہو جائیں۔ فرعون کی لڑکی کو شبہ ہوا، اس نے پوچھا: تیرا خدا فرعون کے علاوہ کوئی اور ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں، میرا خدا وہ ہے جو فرعون کا بھی خدا ہے، اور فرعون کیا چیز ہے! وہ تو زمین و آسمان کا خدا ہے اور وہ وحدہٗ لا شریک ہے۔
اس نے فرعون کو شکایت کر دی۔ فرعون نے اس مسلمان عورت کو بلایا۔ وہ خوشی خوشی آئی اور کیوں نہ آتی۔ آج عشق کا امتحان تھا، امتحان کیا، وصالِ محبوب کا دن تھا۔ جان بے شک چلی جائے، لیکن اس محبوبِ حقیقی کا وصال نصیب ہو جائے۔
فرعون نے کہا: تو کسی اور خدا کی عبادت کرنے لگی ہے؟ کہا: ہاں، بے شک یہی بات ہے۔ اس نے کہا: اچھا، اس خدا کو چھوڑ کر میری خدائی کا اقرار کر۔ عورت نے کہا: یہ تو قیامت تک نہیں ہو سکتا۔
فرعون نے حکم دیا: اس عورت کے ہاتھ پاؤں میخوں سے جکڑ دیے جائیں۔ اس خاتون کو بالکل بے حس و حرکت لٹا دیا گیا۔ پھر بہت سے سانپ اور بچھو اس عورت پر ڈالے اور کہا: اب بھی اپنے خدا کی عبادت سے منکر ہو جا، ورنہ دو ماہ تک اس عذاب میں مبتلا رکھوں گا۔ اس نیک عورت نے کہا: دو مہینے تو کیا، ستر مہینے تک بھی عذاب دے تو اللہ تعالیٰ کی محبت کم نہ ہوگی بلکہ بڑھتی جائے گی۔
کچا رنگ للاری والا، چڑھدا لہندا رہندا
عشق ترے دا رنگ محمد، کدی نہ لہندا
اس عورت کی دو لڑکیاں تھیں، ایک چار پانچ سال کی اور ایک شیر خوار۔ فرعون نے بڑی لڑکی کو بلا کر اس عورت کی چھاتی پر ذبح کر دیا اور کہا کہ اب بھی سمجھ جا، نہیں تو شیر خوار بچی کو بھی اسی طرح ذبح کر دوں گا۔ اس نے کہا: سارے جہان کو لا کر میری چھاتی پر ذبح کر دو، تب بھی اپنے رب کو نہ چھوڑوں گی۔
یہ سن کر فرعون نے چھوٹی لڑکی کو بھی ذبح کرنے کا حکم دیا۔ جب اس ننھی سی جان کو اس عورت کی چھاتی پر لٹایا گیا تو عورت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس شیر خوار لڑکی نے کہا: اے ماں! کیوں روتی ہو؟ وہ دیکھو، جنت تمہارے لیے سجائی جا رہی ہے۔ اے ماں! جنت میں پہنچ کر خدا کا دیدار نصیب ہوگا۔
ماں بچی سے یہ بات سن کر استقلال کا پہاڑ بن گئی۔ ادھر ظالموں نے اس ننھی جان کو ذبح کیا، ادھر ماں بھی اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملی۔ یہ تینوں، ماں اور بیٹیاں، راہِ خدا میں قربان ہو گئیں۔(تفسیر معالم التنزیل، جلد ۷، ص ۲۰۳)
معراج کی عظمت: معراج کی رات حضور سیدِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس عورت کی قبر سے ہوا تو اس کی قبر سے جنت کی خوشبو آ رہی تھی۔
۲. حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آزمائش
حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان مبارک ہستیوں میں سے ہیں جن کو کٹھن امتحان سے گزرنا پڑا۔ یہ بہت عرصہ تک تکلیف برداشت کرتے رہے۔ لوہے کی زرہ پہنا کر ان کو دھوپ میں ڈال دیا جاتا، جس سے گرمی اور تپش کی وجہ سے پسینہ بہتا رہتا۔ اکثر اوقات سیدھا گرم ریت پر لٹا دیا جاتا، جس کی وجہ سے کمر کا گوشت تک گل کر گر گیا تھا۔ یہ ایک عورت کے غلام تھے۔ جب اس کو خبر پہنچی کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے ہیں تو اس کی سزا میں لوہے کی سلاخیں گرم کر کے ان کے سر کو داغ دیتی تھی۔
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کی تکالیف کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا: میری کمر دیکھ لیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کمر کو دیکھا اور فرمایا: ایسی کمر تو کسی کی نہیں دیکھی۔ انہوں نے کہا: مجھے آگ کے انگاروں پر ڈال کر گھسیٹتے تھے اور وہ آگ میری چربی اور میرے خون سے بجھ جاتی تھی۔
عشق تے اگ دونویں اک برابر،پر عشق دا سیک و دھیرا
اگ تے ساڑے لکھ تے کانے،عشق ساڑے تن میرا
اگ دے تائیں پانی ٹھارے،دسو عشق دا دارو کیہڑا
بھلے شاہ اوتھے کچھ نہیں سمجھدا،جتھے عشق نے لایا ڈیرا
ان کا وصال ۳۷ سال کی عمر میں ہوا۔ یہ پہلے صحابی تھے جو کوفہ میں دفن ہوئے۔
۳. حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عزیمت و عزم
حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رومی کفار نے قید کر لیا اور اپنے بادشاہ کے پاس پہنچا دیا۔ اس نے آپ سے کہا کہ تم نصرانی ہو جاؤ، میں تمہیں اپنی سلطنت میں شریک کر لوں گا اور اپنی شہزادی تیرے نکاح میں دے دوں گا
آپ نے فرمایا: " اگر تم تمام بادشاہت بھی مجھے دے دو اور تمام عرب کی سلطنت بھی مجھے سونپ دو، تب بھی آنکھ جھپکنے کے برابر بھی دینِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے برگشتہ ہونے کو تیار نہیں۔"
بادشاہ نے کہا: پھر میں تجھے قتل کر دوں گا۔حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہاں، یہ تجھے اختیار ہے۔
اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا گیا اور تیر اندازوں نے بادشاہ کے حکم سے ان کے ہاتھ پاؤں چھیدنے شروع کیے۔ بار بار آپ سے کہا جاتا: اب بھی نصرانی ہو جاؤ، لیکن آپ پورے استقلال اور صبر سے فرماتے: ہرگز نہیں۔
مارو مارو مار مکاؤ،کوئی عذر نہ پیش لیا واں
جے سوہنا میرے دکھ وچ راضی،میں سکھ نوں چکھے پاواں
آخر بادشاہ نے کہا: اس کو سولی سے اتار دو اور پھر پیتل کی دیگ خوب گرم کر کے لائی جائے۔ چنانچہ وہ لائی گئی۔ بادشاہ نے ایک قیدی کے متعلق حکم دیا: اس کو دیگ میں ڈال دو۔ چنانچہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں اس قیدی کو دیگ میں ڈال دیا گیا، وہ مسکین جل گیا۔ بادشاہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: اب بھی ہماری بات مان لو اور ہمارا مذہب قبول کر لو، ورنہ تمہارا بھی یہی انجام ہوگا۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر بھی ایمانی جوش سے فرمایا: میں خدا کے دین کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔
اس وقت بادشاہ نے حکم دیا: اسے چرخی پر چڑھا کر دیگ میں ڈال دو۔ جب آپ کو دیگ میں ڈالا جانے لگا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ بادشاہ کو کچھ امید ہوئی کہ شاید یہ اپنے ترکِ دین پر تیار ہو گیا ہے۔ آپ کو چرخی سے اتارنے کا حکم دیا، لیکن بادشاہ کی تمنا بے سود ثابت ہوئی۔
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں صرف اس وجہ سے رویا تھا کہ میرے پاس آج صرف ایک جان ہے، کاش میرے ہر رونگٹے میں ایک جان ہوتی تو سب کو آج قربان کر دیتا۔
کروں تیرے نام پہ جاں فدا، نہ بس اک جاں، دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا،کروں کیا، کروڑوں جہاں نہیں
بالآخر بادشاہ نے شرط رکھی کہ سر چوم لو تو سب کو چھوڑ دوں گا۔ آپ نے مسلمانوں کی آزادی کی خاطر اس کا سر چوما۔ جب مدینہ منورہ پہنچے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سر چوم لیا۔
(ابن کثیر، جلد ۱۴، ص ۶۰)
اقوالِ امیر المجاہدین: عزم، استقامت اور حسینی مشن
قبلہ امیر المجاہدین حضرت علامہ خادم حسین رضوی نور اللہ مرقدہٗ کا مشن انہی اسلاف کی استقامت کا تسلسل ہے:
ناموسِ رسالت پر قربانی: "ہم نے گردنیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کے لیے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کی حفاظت کے لیے اور دین کی سربلندی کے لیے رکھی ہوئی ہیں۔ اگر کسی کو کوئی غلط فہمی ہے تو پھر میدان لگا کر دیکھ لے۔" (فرامین، ص ۱۸)
حسینی مشن کا حقیقی مفہوم: "محرم کو ایک چاولوں کی دیگ پکا دینا حسینی مشن نہیں، بلکہ یزیدِ وقت کے سامنے ڈٹ جانا حسینی مشن ہے۔" (ایضاً، ص ۲۱)
غلبۂ دینِ مصطفیٰ ﷺ: "وہ وقت عنقریب آنے والا ہے۔ یہ کیا سمجھتے ہیں، ہمیشہ ایسے رہنا ہے؟ نہ، اقبال کہتا ہے:
اب ترا بھی دور آنے کو ہےفقرِ غیور
کھا گئی روحِ فرنگی کو ہوائے سیم و زر
اقبال کہتا ہے: غیرت مند فقیروں کا دور بھی آنا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین تخت پر آنا ہے۔
(ایضاً، ص ۲۳)
دین کا استغنا: "اسلام کسی کا محتاج نہیں، نہ کسی کے پیروں میں پڑتا ہے کہ میرا کام کرو۔" (ایضاً، ص ۳۱)
بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں مقبولیت: آج اس طرح کام کرو کہ کل حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود بلائیں: فلاں کو بلا کر لاؤ۔ دنیا والے دیکھتے رہیں، وہ کون ہے؟ فرمایا: یہ وہ آدمی ہے جو پوری دنیا سے ٹکر لے رہا تھا، اس نے کسی رشتے کو نہیں دیکھا، بس اس نے میری نسبت کو دیکھا۔ اس سے بڑا شکر کوئی نہیں کہ بندہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رہے اور وفادار رہے۔
(ایضاً، ص ۴۰)
تحریک کا انقلابی منشور: تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر منشور یہی ہے، ایسا کسی کے پاس منشور نہیں ہے۔ ہمارا منشور اسلام، پاکستان اور عوام، ہمارا منشور سیدھا سادھا ہے۔ اسلام کو غالب کرنے کے لیے پاکستان کو سپر پاور بنا کر پھر پاکستان کی عوام خود نکلے گی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا لے کر۔ (ایضاً، ص ۴۵)
اخلاص اور بے باکی:جھولی چک جو ہوتے ہیں، سیاسی وابستگی والے، ان کو پھر ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ کر صرف اپنے لیڈر نظر آتے ہیں، ان کو اپنی جماعتیں نظر آتی ہیں، ان کو پھر اپنی ملازمتیں نظر آتی ہیں، ان کو پھر اپنے اداروں کے ساتھ وابستگیاں نظر آتی ہیں۔ مولانا روم فرماتے ہیں: جس کی فطرت گندی ہو، وہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر بھی نہ مانے۔(ایضاً، ص ۴۸)
عزت و فتح کا راز:اگر تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا کرو گے تو ساری دنیا تمہاری وفادار ہو جائے گی۔ بڑے جنازے حکمرانیوں سے نہیں ہوتے، بڑے جنازے محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے ہوتے ہیں۔(ایضاً، ص ۵۲)
حقیقی دلیری:انسان دلیر ہی اس وقت ہوتا ہے جب اس کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہو۔ (ایضاً، ص ۶۰)
بارگاہِ رسالت کی نگرانی: جن کا ہم کام کر رہے ہیں، وہ ہمیں دیکھ رہے ہیں۔(ایضاً، ص ۷۵)
دل ہے وہ دل جو تیری یاد سے معمور رہا
سر ہے وہ سر جو تیرے قدموں پہ قربان کیا
تبصرے 0