کالمز

صحابہ و اہلِ بیت علیہم الرضوان اور اہلِ سنت و جماعت: باہمی محبت، تعظیم اور متوازن عقیدہ

صحابہ و اہلِ بیت علیہم الرضوان اور اہلِ سنت و جماعت
صحابہ و اہلِ بیت علیہم الرضوان اور اہلِ سنت و جماعت

اس امتِ مرحومہ کے امامِ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ علیہ سے لے کر حضرت امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ تک اہلِ سنت و جماعت کے جملہ بزرگانِ دین نے ہمیشہ نبی کریم ﷺ کی تمام نسبتوں کا ادب کیا ہے اور آل و اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم سے عقیدت و محبت کو اہلِ ایمان کے لیے واجب قرار دیا ہے، اور آلِ پاک یا اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی بھی شخصیت کی بے ادبی اور توہین کرنے والے کو اہلِ سنت سے خارج اور بدعتی جانا ہے۔

اسی فکرِ صحیح کی ترجمانی کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنت الشاہ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے:

اہلِ سنت کا ہے بیڑا پار، اصحابِ حضور

نجم ہیں اور ناؤ ہے عترتِ رسول اللہ کی

فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے سرکارِ اعظم ﷺ کی ذات اور آپ کی نسبتوں کو کمالِ جامعیت کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عقیدت کے پھول یوں بکھیرے ہیں:

مولیٰ گلبنِ رحمت، زہرا، سبطین اس کی کلیاں پھول

صدیق و فاروق و عثمان و حیدر، ہر ایک اُس کی شاخ

حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہلِ بیتِ پاک سے محبت

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

أَرْقِبُوا مُحَمَّدًا ﷺ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ

اہلِ بیت علیہم الرضوان کے معاملے میں نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو مدِنظر رکھو۔ (کتاب الشفاء)

اور آپ رضی اللہ عنہ نے مزید ارشاد فرمایا:

"والذي نفسي بيده، لقرابةُ رسولِ الله ﷺ أحبُّ إليَّ أن أصلَ من قرابتي."

"اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، رسولِ اکرم ﷺ کے قرابت داروں سے تعلق جوڑنا مجھے اپنے قرابت داروں سے تعلق جوڑنے سے زیادہ محبوب ہے۔"

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ادبِ اہلِ بیت

الصواعق المحرقہ میں لکھا ہے:

"حَلَفَ عُمَرُ لِلْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ إِسْلَامَهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ إِسْلَامِ الْخَطَّابِ لَوْ أَسْلَمَ، لِأَنَّ إِسْلَامَ الْعَبَّاسِ أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ."

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قسم کھا کر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:

"آپ کا اسلام قبول کرنا مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام قبول کرنے سے زیادہ پسند ہے، کیونکہ آپ کے اسلام قبول کرنے سے رسول اللہ ﷺ کو خوشی ہوگی۔"

صحابہ و اہلِ بیت کی باہمی محبت و احترام کے تاریخی واقعات

۱. حضرت زید بن ثابت اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

شفاء شریف میں حضرت قاضی عیاض رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام شعبی کے حوالے سے نقل کیا ہے:

"صلّى زيدُ بنُ ثابتٍ على جنازةِ أمِّه، ثم قُرِّبت بغلتُه ليركبها، فجاء ابنُ عباسٍ فأخذ بركابه، فقال زيدٌ: خلِّ عنه يا ابنَ عمِّ رسولِ الله ﷺ. فقال ابنُ عباس: هكذا نفعل بالعلماء. فقبَّل زيدٌ يدَ ابنِ عباس، وقال: هكذا أُمرنا أن نفعلَ بأهلِ بيتِ نبينا ﷺ."

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی والدہ کا جنازہ پڑھایا، پھر ان کی سواری کے لیے خچر لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے اور خچر کی رکاب تھام لی۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "اے رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد! آپ ایسا نہ کریں۔" حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "ہم علماء کے ساتھ اسی طرح ادب کا معاملہ کرتے ہیں۔" اس پر حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ چوم لیا اور فرمایا: "ہمیں بھی یہی حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کے اہلِ بیت کے ساتھ اسی طرح ادب کا معاملہ کریں۔"

۲. حضرت ابوہریرہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما

علامہ ذہبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیر اعلام النبلاء میں لکھا ہے:

"لقد شهد الحسينُ رضي الله عنه جنازةً فاغبرت قدماه، فقام أبو هريرة رضي الله عنه ينفض عنهما التراب، فقال له الحسين رضي الله عنه: أتفعل هذا؟ فقال أبو هريرة رضي الله عنه: دعني، فوالله لو علم الناس منك ما أعلم لحملوك على رقابهم."

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جنازے میں تشریف لے گئے۔ آپ کے پائے اقدس پر گرد پڑ گئی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے پائے اقدس سے گرد جھاڑنی شروع کی تو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: "مجھے یہ کرنے دیں، کیونکہ آپ کا جو مقام میرے علم میں ہے، اگر لوگوں کو اس کا علم ہو جائے تو وہ آپ کو زمین پر چلنے نہ دیں بلکہ اپنے کندھوں پر اٹھا کر رکھیں۔"

۳. حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعظیمِ اہلِ بیت

الصواعق المحرقہ میں ہے کہ جب کسی غرض سے حضرت عبداللہ بن حسین بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا:

"اگر آپ کو کوئی کام ہو تو کسی خادم کو میری طرف بھیج دیا کریں یا مجھے خط لکھ دیا کریں، کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ سے شرم آتی ہے کہ آپ میرے دروازے پر آئیں۔"

الصواعق المحرقہ ہی میں لکھا ہے کہ فاطمہ بنت علی ، حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر تشریف لائیں، جب کہ وہ مدینہ منورہ کے گورنر تھے، تو انہوں نے سیدہ کی بے حد تعظیم کی اور فرمایا:

"اللہ کی قسم! زمین پر موجود کوئی گھرانہ مجھے آپ کے گھرانے سے زیادہ عزیز نہیں، اور آپ کا گھرانہ مجھے اپنے گھرانے سے بھی زیادہ محبوب ہے۔"

امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا جامع ارشاد

حضرت امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اہلِ سنت کی علامات یوں بیان فرمائیں:

"من السنة أن تفضل الشيخين وتحب الختنين."

(تمہید ابی شکور السالمی، ص 165)

اہلِ سنت کی نشانیوں میں سے ہے کہ حضرت صدیقِ اکبر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو (انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد) سب سے افضل مانا جائے، اور حضرت عثمان و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت کی جائے۔

عظمت و تعظیمِ صحابہ رضی اللہ عنہم (از الشفاء)

صاحبِ الشفاء حضرت قاضی عیاض اندلسی رحمتہ اللہ علیہ رقم طراز ہیں:

"ومن توقيره وبره توقيرُ أصحابه وبرُّهم، ومعرفةُ حقِّهم، والاقتداءُ بهم، وحسنُ الثناء عليهم، والاستغفارُ لهم، والإمساكُ عما شجر بينهم، ومعاداةُ من عاداهم، والإضرابُ عن أخبار المؤرخين وجهلة الرواة."

نبی کریم ﷺ کی تعظیم اور آپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا تقاضا یہ بھی ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم و توقیر کی جائے، ان کے ساتھ نیکی کی جائے، ان کا حق پہچانا جائے، ان کی اقتدا کی جائے، ان کی بہترین انداز میں مدح و ثنا کی جائے، ان کے لیے استغفار کیا جائے، ان کے باہمی اختلافات اور نزاعات کے تذکروں سے زبان بند رکھی جائے، ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھی جائے، اور مؤرخین کی ایسی روایات یا جاہل راویوں کی باتوں پر توجہ نہ دی جائے جو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف ہوں۔

کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمانِ حق ترجمان ہے:

"إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا."

"جب میرے صحابہ کا ذکر آئے تو اپنی زبانیں روک لیا کرو۔"

افراط و تفریط سے پاک: اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ

قرآن و حدیث کی نصوص، صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی عظمت، اور اکابر کی رہنمائی کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ:

" یہ محبوب ہستیاں ایسی ہیں کہ بس ان سے محبت کی جائے اور انہیں مشقِ تحقیق نہ بنایا جائے۔"

تمام اکابرِ اہلِ سنت بھی یہی تلقین کرتے رہے ہیں، لہٰذا اصاغر کو یہ نہیں چاہیے کہ دونوں نوری جماعتوں (صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم) میں سے کسی کا ذکر اس انداز سے کریں کہ ایک جماعت کی مدح دوسری جماعت کی ذم بن جائے، کیونکہ سنیت رفض و نصب سے یکسر پاک ہے۔

حسنؔ سنی ہے پھر افراط و تفریط اس سے کیونکر ہو

ادب کے ساتھ رہتی ہے روش اربابِ سنت کی

ہم اپنی بحث کا خلاصہ صاحبِ تذکرۃ الاولیاء حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کے اس ارشاد پر کرتے ہیں کہ:

"جس کا آل و اصحاب رضی اللہ عنہم پر ایمان نہیں، اُس کا محمد مصطفی ﷺ پر ایمان نہیں۔"

میرے نزدیک یہی توشۂ عقبیٰ ہے نصیرؔ

حبِ اصحابِ نبی، الفتِ اولادِ بتول

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0