کالمز

گستاخوں کے لیے تلوار ہی اخلاق ہے: ناموسِ رسالت ﷺ اور حقیقی اخلاقِ نبوی

گستاخوں کے لیے تلوار ہی اخلاق ہے
گستاخوں کے لیے تلوار ہی اخلاق ہے

تیرے خلق کو حق نے عظیم کیا

تیری خَلق کو حق نے جمیل کیا

کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا

تیرے خالقِ حسن و ادا کی قسم

اس کائنات کے عظیم وجود اور عمدہ و اعلیٰ نظام کا محور ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ خاتم النبیین ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔

تخلیقِ کائنات کا باعث: ذاتِ گرامیِ مصطفیٰ ﷺ

حدیثِ قدسی میں ہے: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف وحی فرمائی:

يَا عِيسَى آمِنْ بِمُحَمَّدٍ، وَأْمُرْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْ أُمَّتِكَ أَنْ يُؤْمِنُوا بِهِ، فَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ آدَمَ، وَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ الْجَنَّةَ وَلَا النَّارَ.

(المستدرک، ج 3، ص 516، الرقم: 4285)

ترجمہ: اے عیسیٰ! محمد عربی ﷺ پر ایمان لاؤ، اور اپنی امت میں سے ان کا زمانہ پانے والوں کو بھی ان پر ایمان لانے کا حکم دو۔ اگر محمد مصطفیٰ ﷺ نہ ہوتے تو میں حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا نہ کرتا، اور نہ ہی جنت و دوزخ بناتا۔

امام محمد بن یوسف صالحی شامی رحمۃ اللہ علیہ نے سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے متعلق اپنی مایۂ ناز کتاب "سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد" میں ایک پورے باب کا نام یہ رکھا:

"باب في أن آدم وسائر الخلق خُلقوا لأجله ﷺ"

(یعنی: حضرت آدم علیہ السلام اور ساری مخلوق کا سرکارِ دو جہاں ﷺ کے لیے تخلیق کیا جانا۔)

خصائصِ کبریٰ میں نقل ہے کہ حضرت جبرائیلِ امین علیہ السلام نے بارگاہِ نبوی ﷺ میں عرض کی کہ ربِ ذوالجلال ارشاد فرماتا ہے:

"وَلَقَدْ خَلَقْتُ الدُّنْيَا وَأَهْلَهَا لِأُعَرِّفَهُمْ كَرَامَتَكَ وَمَنْزِلَتَكَ عِنْدِي، وَلَوْلَاكَ مَا خَلَقْتُ الدُّنْيَا."

یعنی بے شک میں نے دنیا اور دنیا والوں کو اس لیے پیدا فرمایا ہے تاکہ، اے محبوب! میرے نزدیک جو آپ کی قدر و منزلت ہے، وہ انہیں بتاؤں، اور اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو میں دنیا کو تخلیق نہ فرماتا۔ (خصائصِ کبریٰ، جلد 2، ص 330)

ثابت ہوا کہ اس کائنات کی تخلیق کا باعث خاتم النبیین ﷺ کی ذاتِ والا صفات ہے، تو رسولِ اکرم ﷺ کی دی ہوئی شریعتِ مطہرہ ہی ہدایت کا مکمل منبع و سرچشمہ ہوئی۔ نیز رسولِ انور ﷺ کی مبارک سیرت اور آپ ﷺ کی پاکیزہ تعلیمات سے ثابت شدہ اخلاق ہی خلقِ عظیم کا درجہ رکھتے ہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾

رسولِ اکرم ﷺ خلقِ عظیم کے مالک ہیں۔

حقیقتِ اخلاق اور خلقِ عظیم کی شرعی تعریف

علامہ سید شریف جرجانی رحمہ اللہ نے خلق کا مفہوم یوں بیان کیا ہے:

"الْخُلُقُ عِبَارَةٌ عَنْ هَيْئَةٍ لِلنَّفْسِ رَاسِخَةٍ، تَصْدُرُ عَنْهَا الْأَفْعَالُ بِسُهُولَةٍ وَيُسْرٍ، مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ إِلَى فِكْرٍ وَرَوِيَّةٍ، فَإِنْ كَانَتِ الْهَيْئَةُ بِحَيْثُ تَصْدُرُ عَنْهَا الْأَفْعَالُ الْجَمِيلَةُ عَقْلًا وَشَرْعًا بِسُهُولَةٍ، سُمِّيَتِ الْهَيْئَةُ خُلُقًا حَسَنًا، وَإِنْ كَانَ الصَّادِرُ مِنْهَا الْأَفْعَالُ الْقَبِيحَةُ، سُمِّيَتِ الْهَيْئَةُ خُلُقًا سَيِّئًا." (کتاب التعریفات، باب الخاء، ص 73، قدیمی کتب خانہ)

ترجمہ: "خلق نفس کی اس پختہ عادت کا نام ہے جس سے افعال آسانی سے صادر ہوں، بغیر کسی تردد اور غور و فکر کے۔ پس اگر وہ عادت ایسی ہو کہ اس سے ایسے افعال آسانی سے صادر ہوں جو عقل اور شرع کے اعتبار سے خوبصورت ہوں تو اسے اچھا اخلاق کہا جاتا ہے، اور اگر اس سے صادر ہونے والے افعال برے ہوں تو اسے برا اخلاق کہا جاتا ہے۔"

یہ تو عصرِ حاضر میں لوگ سمجھتے ہیں کہ حسنِ اخلاق کا مطلب صرف اور صرف لوگوں سے خندہ پیشانی اور بشاشت کے ساتھ ملنا، مہربانی اور شفقت کا معاملہ کرنا، مسکرا کر بات کر لینا، اور نرمی و محبت کے کلمات ادا کر لینا ہی اخلاق ہے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اخلاق کا مفہوم بہت وسیع ہے اور اپنے اندر پوری انسانی زندگی کو سمیٹے ہوئے ہے۔ شریعتِ مطہرہ کے احکامات پر عمل کرنا ہی اخلاق ہے۔ اصولِ فقہ کی مشہور و معروف کتاب نور الانوار کے ابتدا میں صفحہ 9 پر رسولِ اکرم ﷺ کے مبارک اخلاق کو صحیح مسلم کی روایت سے نقل کیا گیا ہے۔

حضرت سیدہ طیبہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا کہ آپ ﷺ کے اخلاق کیسے تھے؟ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:

"قالت: فإن خُلُقَ نبيِّ الله ﷺ كان القرآن." (صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین)

"آپ ﷺ کا اخلاق قرآنِ کریم تھا۔"

حضرت سیدنا قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہاں خلق سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ قرآنِ کریم کے احکام پر عمل کرتے تھے، جن کاموں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا، انہیں نہیں کرتے تھے، اور جن کا حکم دیا، ان پر عمل فرمایا کرتے تھے۔ ایسا کرنے میں رسولِ اکرم ﷺ کو تکلف نہ کرنا پڑتا تھا، بلکہ آپ ﷺ کا ہر عمل قرآن کے مطابق ہوتا تھا۔

صاحبِ نور الانوار نے ان الفاظ سے وضاحت کی ہے:

"وَالْعَمَلُ بِالْقُرْآنِ كَانَ جِبِلَّةً، أَيْ خِلْقَةً لَهُ، فَإِذَا عُبِّرَ بِالْخُلُقِ الْعَظِيمِ عَنِ الْقُرْآنِ."

قرآنِ مقدس پر عمل کرنا رسولِ اکرم ﷺ کی پختہ عادتِ کریمہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کو خلقِ عظیم سے تعبیر کیا گیا۔

اور پھر فرماتے ہیں:

"وَالْأَصَحُّ أَنَّ الْخُلُقَ الْعَظِيمَ هُوَ السُّلُوكُ إِلَى مَا يَرْضَى عَنْهُ اللَّهُ تَعَالَى وَالْخَلْقُ جَمِيعًا."

صحیح ترین بات یہ ہے کہ خلقِ عظیم ایسے طریقے پر چلنے کا نام ہے جس سے پہلے اللہ تعالیٰ راضی ہو اور پھر اس کی مخلوق بھی راضی ہو۔

قرآنی آیات اور مختلف مواقع پر اخلاق کا مظاہرہ

اخلاق کا سب سے عمدہ مجموعہ قرآنِ مقدس ہی ہے۔ قرآنِ مقدس کے احکامات کے مطابق ہر مقام پر مناسب عمل کرنا عینِ اخلاق ہے:

۱. نامحرم سے کلام کا شرعی ضابطہ

قرآنِ مقدس نے عورت کے لیے حکم ارشاد فرمایا:

﴿فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا﴾ (سورۃ الأحزاب)

ترجمہ: کسی نامحرم سے دبی زبان میں بات نہ کرو، ورنہ جس شخص کے دل میں روگ ہے وہ کوئی غلط توقع لگا بیٹھے گا، لہٰذا صاف سیدھی بات کرو۔

۲. سرکش اور گستاخ کے لیے سخت تشبیہ

﴿وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ ۚ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ

(سورۃ الأعراف)

ترجمہ: اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کے سبب اسے بلند مرتبہ کر دیتے، مگر وہ تو دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور اپنی خواہش کا تابع بن گیا۔ تو اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر اس پر حملہ کرو تو بھی زبان نکالے، اور اگر اسے چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے۔

تو بلعم بن باعورا کو کتے کی مثل کہنا بھی اخلاقِ عالیہ کا نمونہ ٹھہرا۔

۳. گستاخِ رسول کے عیوب کا بیان

سورۂ قلم میں ایک طرف جہاں آپ ﷺ کے خلقِ عظیم ﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ کا ذکر فرمایا، وہاں گستاخِ رسول کے عیوب کو ظاہر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

﴿عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ(سورۂ القلم: 13)

ترجمہ: بڑا اجڈ، اس کے بعد بداصل بھی ہے۔

۴. منافقین کو رسوا کر کے مسجد سے نکالنا

قرآن میں ارشاد ہے: ﴿وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ﴾ (سورۂ محمد: 30)

ترجمہ: اور ضرور تم انہیں گفتگو کے انداز سے پہچان لو گے۔

کلبی اور سدی نے بیان کیا کہ نبیِ کریم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور نام لے لے کر فرمایا: "نکل اے فلاں! تو منافق ہے، نکل اے فلاں! تو بھی منافق ہے۔" چنانچہ رسولِ اکرم ﷺ نے ان منافقین کو رسوا کر کے مسجدِ نبوی شریف سے نکال دیا۔ (تفسیر خازن، تحت الآیۃ، سورۃ التوبۃ، آیت 101)

گستاخانِ رسول کے حوالے سے شرعی و نبوی طریقہ

قرآنِ مقدس میں اللہ تعالیٰ نے گستاخانِ رسول کے متعلق ارشاد فرمایا:

﴿مَلْعُونِينَ ۖ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا (سورۂ الأحزاب: 61)

ترجمہ: یہ لوگ ملعون ہیں، جہاں بھی پائے جائیں، پکڑ لیے جائیں اور خوب قتل کیے جائیں۔

یہ بھی عین اخلاق ہے۔ گویا رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کے بارے میں بکواس کرنے والوں کے لیے تلوار اٹھانا اور انہیں ﴿قُتِّلُوا تَقْتِيلًا﴾ کے مطابق ٹکڑے ٹکڑے کرنا بھی فرمانِ الٰہی کے مطابق اعلیٰ درجے کا اخلاق ہے، کیونکہ قرآنِ مقدس عین خلقِ عظیم ہے، اور اس میں موجود ہر ہر حکم بہترین اخلاق سے متعلق ہے۔

اور اللہ رب العزت نے جو گستاخوں کے بارے میں ارشاد فرمایا: ﴿قُتِّلُوا تَقْتِيلًا﴾، کہ انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے، تو چونکہ رسولِ اکرم خاتم النبیین ﷺ "خُلُقُهُ الْقُرْآنُ" کے مطابق قرآنِ مقدس کے عظیم اخلاق سے مزین بھی ہیں اور اخلاقِ حسنہ کا منبع و نمونہ بھی ہیں، تو رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں دونوں پہلو قرآن کے عین مطابق ہیں:

  • ایک طرف: غزوہ کے دن کتیا کے بچوں کی حفاظت کروانا یا حرم کی تعظیم کرنا اخلاق ہے۔

  • دوسری طرف: گستاخِ رسول کعب بن اشرف کے بارے میں فرمانا:

"مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ؟ فَإِنَّهُ يُؤْذِي اللَّهَ وَرَسُولَهُ" (رواہ البخاری ومسلم)

ترجمہ: "کعب بن اشرف کا معاملہ کون کرے گا؟ کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتا ہے۔"

  • کعبۃ اللہ کے پردوں میں لٹکے گستاخ کا قتل: کعبۃ اللہ کے پردوں میں چھپنے والے ابنِ خَطَل کو قتل کروانا کلامِ الٰہی کے مطابق عینِ اخلاق ہے۔

شفا شریف کی روایت کے مطابق:

"إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَسُبُّهُ، فَقَالَ: مَنْ يَكْفِينِي عَدُوِّي؟" (الشفا شریف، عمدۃ القاری)

ترجمہ: "ایک شخص آپ ﷺ کو گالیاں دیتا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میرے دشمن سے مجھے کون نجات دلائے گا؟"

تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا خاتمہ کر دیا۔

الغرض، قرآنِ مقدس، جو اللہ تعالیٰ کی لاریب کتاب ہے، اس میں گستاخ کے لیے ﴿قُتِّلُوا تَقْتِيلًا﴾، ﴿عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ﴾ اور ﴿فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ﴾ فرمانا بھی اخلاق ہے۔

کیونکہ اخلاق کہتے ہی مجموعۂ قرآنِ پاک کو ہے، اور شریعتِ مطہرہ کے قوانین پر عمل کرنا ہی اخلاق ہے۔ اور گستاخوں کے حوالے سے یہ قرآنِ مقدس کی عظیم تعلیمات ہیں کہ ان کے لیے سخت رویہ اختیار کرنا اور پھر ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینا ہی ان کے حق میں اخلاق ہے۔ اور پھر رسولِ اکرم ﷺ کا اپنے گستاخوں کے لیے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ڈیوٹی لگانا اور گستاخوں کے لیے تلوار سے فیصلہ کرنا ہی عمدہ اخلاق ہے۔ اور صحابۂ کرام علیہم الرضوان بالخصوص، اور بعد کے زمانے کے عشاقانِ مصطفیٰ ﷺ کا ہر دور میں گستاخوں کا سر کاٹ کر فیصلہ کرنا، رسولِ اکرم ﷺ کے فرمان مَنْ سَبَّ نَبِيًّا فَاقْتُلُوهُ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، یہ بھی امت کا رسولِ اکرم ﷺ کے اخلاق سے مزین و منور ہونا ہی ہے۔

دورِ حاضر اور امیر المجاہدین کا پیغام

اس دور میں جب لوگ گستاخوں کے بارے میں نرم اور میٹھی باتوں کو "اخلاق" کا غلط نام دے کر امت کو گمراہی کا شکار کر رہے تھے، تو استاذی المکرم، فدائیِ رسول ﷺ، حضرت امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی نور اللہ مرقدہ نے کلامِ الٰہی اور سنتِ نبوی کے عین مطابق جلال بھری آواز میں "مَنْ سَبَّ نَبِيًّا فَاقْتُلُوهُ" کا نعرہ عام کیا۔

انہوں نے امتِ مصطفیٰ ﷺ کو یہ شعور دیا کہ:

"قیامت تک جو بھی کسی بھی نبی کی شان میں بکواس کرے، اسے کاٹ کر رکھ دینا ہی قرآن و سنت کی روشنی میں حقیقی اخلاقِ حسنہ ہے۔"

اللہ تعالیٰ ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کے فیضانِ رحمت سے فیضیاب فرمائے اور تمام عمر آپ ﷺ کی عزت و ناموس پر پہرہ دینے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0