فرقِ مراتب بے شمار
اور حق بدستِ حیدرِ کرار
مگر معاویہ بھی ہمارے سردار
طعن اُن پر بھی کارِ فجار
ہمارے آقا، امام الانبیاء، خاتم النبیین ﷺ تمام عظمتوں کا مرکز و محور ہیں۔ آپ ﷺ کی نسبت سے ہی عظمتیں تقسیم ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ کی جلوہ گری ہوئی تو مدینہ منورہ، طیبہ بن گیا، اب اس کی خاکِ مبارک بھی خاکِ شفا بن گئی۔ ربیع الاول کے مہینے کو رسولِ اکرم ﷺ کی آمد سے پہلے کوئی پہچانتا نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی اس کائنات میں آمد ہوئی تو یہ مہینہ تمام مومنوں کے دلوں کی بہار بن گیا۔ پس جس جس کی نسبت اور تعلق رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس سے ہوا، وہ قابلِ رشک بن گیا۔
نسبتِ مصطفیٰ ﷺ اور تعظیمِ صحابہ و اہلِ بیت
امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی فرماتے ہیں:
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت ان کی اپنی ذات کی وجہ سے نہیں، اور نہ ہی اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت ان کی اپنی ذات کی وجہ سے ہے، بلکہ ان تمام اصحاب و آل سے محبت ان کے رسول اللہ ﷺ سے تعلق اور نسبت کی وجہ سے ہے۔ پس جو شخص رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتا ہے، اس پر لازم ہے کہ تمام صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم سے بھی محبت کرے۔ جو شخص صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ عظام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک سے بھی بغض رکھے تو یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اسے رسول اللہ ﷺ سے بھی کوئی محبت نہیں۔ (المستند، ص 138)
ہم اہلِ سنت و جماعت جس کی بھی عظمت و شان کو تسلیم کرتے ہیں، وہ نسبتِ مصطفیٰ ﷺ کی وجہ سے کرتے ہیں۔ پس جو بھی نبی کریم ﷺ سے محبت کا دعوے دار ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ ان سے بھی محبت کرے جن سے نبی کریم ﷺ محبت فرماتے ہیں۔
محبتِ رسول ﷺ کی نشانی: ان سے محبت کرنا جن سے نبی پاک ﷺ محبت فرماتے ہیں، جیسے اہلِ بیتِ اطہار اور اصحابِ رسول ﷺ، ان سے محبت کرنا رسول اللہ ﷺ سے محبت کی نشانی ہے، جس طرح نبی کریم ﷺ سے محبت اللہ تعالیٰ سے محبت کی نشانی ہے۔ (مواہب لدنیہ، ج 2، ص 705)
تعظیمِ اصحاب کا مقام:وہ نبی کریم ﷺ پر ایمان ہی نہیں لایا جس نے نبی کریم ﷺ کے اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم و توقیر نہ کی۔ (مواہب لدنیہ، ج 2، ص 706)
مقامِ صحابیت اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دفاع
حضرت امام عبدالرحمن نسائی رحمۃ اللہ علیہ سے صحابیِ رسول ﷺ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
اسلام ایک گھر کی مانند ہے جس کا ایک دروازہ ہے، اور اسلام کا دروازہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔ پس جس نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اذیت دی، اس نے اسلام کو نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا۔ جس طرح کوئی شخص دروازے کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس کا مقصد گھر تک پہنچنا ہوتا ہے، اسی طرح جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نشانہ بناتا ہے، درحقیقت وہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ وہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اذیت دینا چاہتا ہے۔
(تہذیب الکمال، ج 1، ص 339)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل، مناقب اور علمی خدمات
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔
خال المؤمنین (مؤمنوں کے ماموں): آپ رضی اللہ عنہ تمام مومنوں کے ماموں ہیں، کیونکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہمشیرہ، سیدہ اُمِّ حبیبہ رضی اللہ عنہا، حضور نبی کریم ﷺ کی زوجۂ محترمہ ہونے کی وجہ سے اُمُّ المؤمنین ہیں۔
کاتبِ وحی: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاتبانِ وحی میں سے ایک ہیں۔
قبولِ اسلام اور غزوات: آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فتحِ مکہ کے موقع پر اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ غزوۂ حنین میں بھی آپ رضی اللہ عنہ نبی پاک ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے۔
امارت و خلافت: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو لشکرِ شام روانہ فرمایا تھا، اس کے امیر آپ کے بھائی حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ تھے۔ جب ان کا وصال ہوا تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس لشکر کے امیر بنے۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں اسی منصبِ امیرِ شام پر برقرار رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ ۲۰ سال تک شام کے امیر رہے اور ۲۰ سال تک امیر المؤمنین رہے۔
حدیثی خدمات: آپ رضی اللہ عنہ سے 163 احادیثِ مبارکہ مروی ہیں، جن میں ۴ روایات صحیح بخاری و صحیح مسلم دونوں میں (متفق علیہ) ہیں، ۴ صرف صحیح بخاری میں اور ۵ صرف صحیح مسلم میں ہیں۔
حقِ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں احادیثِ نبویہ ﷺ
۱. علم اور حلم کی دعائے مصطفیٰ ﷺ
امام بخاری روایت فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سواری پر نبی کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تمہارے جسم کا کون سا حصہ میرے جسم کے ساتھ لگ رہا ہے؟" (حالانکہ محبوبِ کریم ﷺ جانتے تھے، مگر ازراہِ توثیق دریافت فرمایا۔) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: "میرا پیٹ۔" تو رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ سے دعا فرمائی:
"اللَّهُمَّ امْلَأْهُ عِلْمًا وَحِلْمًا."
"اے اللہ! اس پیٹ کو علم اور حلم سے بھر دے۔"
(تاریخ کبیر، ج 8، ص 180)
"اے اللہ! اس پیٹ کو علم اور حلم سے بھر دے۔"
امام ترمذی روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں دعا فرمائی:
"اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، وَاهْدِ بِهِ."
"اے اللہ! معاویہ کو ہادی اور مہدی بنا، اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت عطا فرما۔"
(جامع ترمذی، حدیث نمبر 3868)
اور نبی کریم ﷺ نے یہ دعا بھی فرمائی:
"اللَّهُمَّ مَكِّنْ لَهُ فِي الْبِلَادِ، وَقِهِ الْعَذَابَ."
(سیر أعلام النبلاء، ج 5، ص 72؛ البدایہ والنہایہ، ج 8، ص 176)
"اے اللہ! معاویہ کو شہروں پر اقتدار عطا فرما اور انہیں عذاب سے محفوظ رکھ۔"
الصواعق المحرقہ میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مبارک سے پوچھا گیا کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ افضل ہیں یا حضرت عمر بن عبدالعزیز افضل ہیں؟ تو آپ نے فرمایا:
"خدا کی قسم! سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس گھوڑے کی ناک میں داخل ہونے والا غبار، جس پر وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سوار ہوئے تھے، حضرت عمر بن عبدالعزیز سے ہزار مرتبہ افضل ہے۔"
(الصواعق المحرقہ، ص 387)
الغرض تمام صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت، عقیدت، تعظیم اور توقیر ضروری ہے۔
اہلِ سنت و جماعت کا معتدل عقیدہ: ناصبیت اور رفض کا رد
حضرت امام ربانی مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"عدمِ محبتِ اہلِ بیت خروج است، و تبری از اصحاب رفض، و محبتِ اہلِ بیت با تعظیم و توقیرِ جمیعِ اصحابِ کرام تسنن است۔"
"اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے محبت نہ کرنا خارجیت ہے، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بیزاری اور بغض رکھنا رفض ہے۔ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا اور تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم و توقیر کرنا ہی سنی ہونے کی پہچان ہے۔"
امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"بالجملہ ہم اہلِ حق کے نزدیک حضرت امام بخاری کو امامِ اعظم سے جو نسبت ہے، وہی نسبت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیر المؤمنین، مولیٰ المسلمین سیدنا و مولانا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ:
فرقِ مراتب بے شمار
اور حق بدستِ حیدرِ کرار
مگر معاویہ بھی ہمارے سردار
طعن اُن پر بھی کارِ فجار"
جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حمایت میں، عیاذ باللہ، حضرت علی المرتضیٰ اسد اللہ رضی اللہ عنہ کی سبقت، اولیت، عظمت اور اکملیت سے آنکھ پھیر لے، وہ ناصبی و یزیدی ہے، اور جو حضرت علی المرتضیٰ اسد اللہ رضی اللہ عنہ کی محبت میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت اور نسبتِ بارگاہِ حضرت رسالت مآب ﷺ کو بھلا دے، وہ شیعی و زیدی ہے۔
یہی روشِ آدابِ محمدی ﷺ ہے، اور اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ توسط و اعتدال کو ہر جگہ اسی کو ملحوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(فتاویٰ رضویہ، جدید، ج 10، ص 199، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آخر میں دعا ہے کہ ربِ ذوالجلال ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کی ہر نسبت سے پیار، محبت، عزت اور احترام کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں حضرت امیر المجاہدین امام خادم حسین رضوی نور اللہ تعالیٰ مرقدہ کے طفیل دینِ اسلام کی خدمت و حفاظت میں جرات مندی کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تبصرے 0