اے صلاح الدین ایوبی، ایک بار پھر فلسطین میں آ
آج پوری انسانیت میں اگر دنیا کی مظلوم ترین قوم کوئی ہے تو وہ فلسطین کے عوام ہیں۔ تاریخ میں شاید اتنا ظلم کسی اور قوم پر نہ ہوا ہو۔ ایسے ایسے مظالم ڈھائے گئے ہیں کہ روح کانپ اٹھتی ہے۔ نہ سننے کے قابل، نہ دیکھنے کے لائق۔ ان کے پاس نہ مکان ہے، نہ پناہ، نہ روشنی، نہ چھت، نہ کپڑے، نہ کھانا، نہ پانی۔ زندگی گزارنے کا کوئی سامان ان کے پاس نہیں۔ ان کے پاس صرف آہیں، دکھ، کرب اور آنسو ہیں۔ وہ زخمی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور جانوروں سے بھی بدتر حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کی حالتِ زار کو کوئی سنجیدگی سے نہیں دیکھ رہا۔ وہ کہاں جائیں، کہاں رہیں، اور کس کو اپنا دکھ سنائیں؟
اے ہمارے رب! تو نے ابابیل بھیج کر جس طرح بیت اللہ کی حفاظت فرمائی تھی، بدر میں فرشتوں کو ننگی تلواریں دے کر میدان میں اتارا تھا، حضرت موسی کو فرعون کے مقابلے میں فتح عطا فرمائی تھی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے الاؤ سے بچایا تھا، حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں زندہ رکھا تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا کر ان کی حفاظت فرمائی تھی، اور پیارے محمدِ عربی ﷺ کو یتیموں کا سایہ اور رحمۃٌ للعالمین بنا کر بھیجا تھا، اے رب! فلسطین کے لاچار، مجبور مسلمان مجاہدوں کی مدد فرما۔
امتِ مسلمہ کی بے بسی اور جہاد کی اہمیت
یہ بات تو اکثر سننے کو ملتی ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، مگر یہاں تو روزانہ کی بنیاد پر لوگ قتل ہو رہے ہیں، لیکن اُمتِ مسلمہ میں سے کوئی بھی آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔ ہم مسلمان اکثریت میں ہو کر بھی اتنے بے بس کیوں ہیں؟ آج غزہ جل رہا ہے، گویا ہمارا دل جل رہا ہے۔ اگر ہم خاموش رہے تو پھر کل ہماری باری بھی آ سکتی ہے۔
دنیا والوں سے ناامید ہوں، یا رب!
لیکن تیرے در کی آس باقی ہے
بھروسہ ہے، الٰہی! فقط تیری ذاتِ یکتا پر
ستم کی انتہا ہے فلسطین پر اور اقصیٰ پر
یمن اسلامی دنیا کا پہلا اور واحد ملک ہے جس نے فلسطین کی کھل کر حمایت کی ہے اور دنیا کو بتا دیا ہے کہ اسلامی غیرت کیا چیز ہوتی ہے۔ اس نے ایک مسلمان ہونے کے ناطے اپنا فرض ادا کیا ہے کہ جب ایسا وقت آئے تو پھر رونا دھونا نہیں، بلکہ جہاد کرنا ہے، کیونکہ ہمارے اسلاف نے ہمیں یہی سبق دیا ہے کہ کسی کی غلامی قبول کرنے سے بہتر ہے کہ شہادت کا تاج اپنے سر پر سجا لیا جائے۔ یہ بات حماس نے ثابت کر دی ہے کہ اسلام کو پیروں، مولویوں اور صوفیوں کی ضرورت نہیں، بلکہ اسلام کو اللہ کی راہ میں لڑنے والے مجاہدوں کی ضرورت ہے۔ زندہ قومیں صرف جہاد کرتی ہیں، لیکن اب لگتا ہے کہ یمن بھی منظرِ عام سے غائب ہے۔ اللہ تعالیٰ فلسطین پر رحم فرمائے۔
اکثر اسلامی ممالک، اچھی خاصی معاشی اور فوجی طاقت ہونے کے باوجود، اسرائیل کے خلاف کوئی مضبوط اور مؤثر بیان بھی نہیں دے سکے، کیونکہ یہ بزدل ہیں۔ وہ بیان اس لیے نہیں دیتے کہ وہ ذہنی طور پر ان کے غلام ہیں، کیونکہ جہاد اسلحے سے نہیں بلکہ جذبۂ ایمان سے کیا جاتا ہے۔
عرب حکمرانوں کی بے حسی اور غزہ کے معصوم بچے
فلسطین کے بے بس اور مجبور وزیرِ اعظم محمد اشتیہ پیر کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ کے بچوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ جب وہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے متاثرہ بچوں کی حالتِ زار بیان کر رہے تھے تو آبدیدہ ہو گئے۔ غزہ میں قحط کی حالت ایسی ہے کہ پورے خاندان کے لیے صرف تھوڑے سے اُبلے ہوئے مکئی کے دانے ہیں، اور دوسری طرف اتنی عیاشی ہے کہ پورے کے پورے اونٹ دسترخوان پر رکھے ہوئے ہیں۔
اے عرب کے حکمرانو! کیا اللہ کے دیے ہوئے رزق میں یہ ناانصافی نہیں؟ اگر نہیں، تو پھر کیا ہے؟ ظالمو! تمہیں ان معصوم بچوں پر ترس نہیں آتا؟ وہاں کے بچے پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں اور ہم سب غلام بنے بیٹھے تماشہ دیکھ رہے ہیں، جیسے کربلا میں یزید کی غلامی کا فرض ادا کیا گیا تھا۔ پھر کس منہ سے یزید کو برا بھلا کہتے ہیں؟ تم تو خود یزید کا کردار ادا کر رہے ہو۔
شمالی غزہ کی ایک بے بس عورت کا سوال:
"کیا تم خوش ہو؟ تمام عرب ممالک سے میرا سوال ہے، کیا تم ہماری اس حالت پر خوش اور راضی ہو؟ کیا تم پُرسکون ہو؟ ہم اس حال میں ہیں، پھر بھی تمہارے دل میں اپنے بچوں کا خیال کیسے آتا ہے؟" کھاتے ہیں، پیتے ہیں اور سوتے ہیں، جبکہ یہاں کی مائیں بھوکی ہیں، بچوں کے لیے دودھ کہیں سے میسر نہیں۔ پچھلے دنوں میں غزہ میں شمال سے جنوب تک بچے بھوک سے مر رہے ہیں، جبکہ دوسرے آرام سے زندگی گزار رہے ہیں۔ غزہ کے تمام لوگ اس حال میں ہیں کہ ہم پر موت ہے، بیماری ہے، قحط ہے، خوف ہے، قہر ہے، ظلم ہے، غلبہ ہے، بھوک ہے، پیاس ہے، وبا ہے اور آفت ہے۔ کیا آپ بھی ایسی زندگی گزار رہے ہیں جیسی ہم گزار رہے ہیں؟ ہر شخص ہمیں دیکھ بھی رہا ہے اور سن بھی رہا ہے، لیکن خاموش ہے۔ کوئی ہماری مدد نہیں کر رہا۔ ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔ ہمیں کسی کی ضرورت نہیں، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ کسی بھی فلسطینی بچے کا جوتا عرب کے حکمرانوں سے بہتر ہے۔
میرے رستے میں جو یہ خاک نشین بچے ہیں
قسم رب کی، یہ بڑے ہی حسین بچے ہیں
خاک نے ایک ردا ان پر بچھا رکھی ہے
دیکھو! غربت نے ہی ان کی اُڑا رکھی ہے
اے فلسطین کی بیٹی! ہمیں معاف کرنا، ہم تمہارے لیے کچھ نہ کر سکے۔ ہم تجھ پر ہوتا ظلم دیکھتے رہے، لیکن اسے روک نہ سکے۔ ہم بھول گئے کہ ہم مسلمان ہیں، ہم بھول گئے کہ ہمارے اسلاف ایسے نہ تھے۔ ہم تو اپنے ملک میں میکڈونلڈ کا بائیکاٹ بھی نہ کر سکے۔ وہ کھلم کھلا اعتراف کر رہا ہے کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم نے 30,000 سے زیادہ فلسطینی بچے شہید کر دیے ہیں۔ میکڈونلڈ کی ساری کمائی اسرائیلی فوج پر خرچ ہوتی ہے۔
اسماعیل ہنیہ کی جرأت اور شہادت
57 مسلم ممالک کے لیڈروں کو دیکھ کر ایک مغربی صحافی کو بھی غیرت آ گئی۔ اس نے کہا کہ فلسطینی عوام پر جو ظلم ہو رہا ہے، اس میں سب شامل ہیں۔ فلسطینی عوام کو بھلا دیا گیا ہے۔ صرف ایک ہستی ان کے لیے بول رہی ہے، جو ان کی آواز بن رہی ہے، اور وہ اسماعیل ہنیہ، حماس کے رہنما، ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں عرب دنیا اور مسلم حکمرانوں سے شرمندہ ہوں۔ حالانکہ عرب دنیا، خصوصاً سعودی عرب، کے پاس یہ موقع تھا کہ تیل کی پابندی کے ذریعے اسرائیل پر دباؤ ڈالتا۔ مگر انہوں نے پیسے اور منافع کا انتخاب کیا، اور وہ بھی فلسطینیوں کے خون کی قیمت پر۔ سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کی فکر ہے۔ موجودہ فلسطینی ریاست کی کسی کو کوئی فکر نہیں۔ کوئی بھی اس کے بارے میں بات کرنے والا نہیں۔
سربراہِ حماس اسماعیل ہنیہ نے مسلم ریاستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہتھیاروں کے ذریعے ہماری مدد کریں، کیونکہ یہ صرف فلسطینی عوام کی جنگ نہیں، بلکہ کفر اور اسلام کی جنگ ہے۔ سارا کفر اسرائیل کی ہتھیاروں سے مدد کر رہا ہے۔ ایک فلسطینی صحافی سے عالمی دنیا کی مدد کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے بڑے پُرسکون انداز میں جواب دیا کہ ساری دنیا ہماری مدد کرے یا نہ کرے، مگر پاکستانی عوام سے ہماری امید کبھی ختم نہیں ہوگی۔
دیکھیں، حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی جرأت، بہادری، دلیری، حوصلہ، ہمت، صبر اور استقامت۔ جب انہیں بتایا گیا کہ ان کے تین بیٹے اور پانچ پوتے شہید ہو گئے ہیں تو اس مردِ مجاہد نے بڑے تحمل اور صبر سے کہا:
"اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے۔"
حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کا کردار اس شعر کی مکمل تصویر ہے:
جب چمن کو لہو کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی
پھر بھی کہتے ہیں مجھ سے یہ اہلِ چمن
یہ چمن ہےہمارا ،تمہارا نہیں
وہ غزوۂ بدر میں قائم کردہ سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے مظہرِ کامل بنے۔ جب اُمیہ بن خلف نے جنگ کا آغاز کرتے ہوئے دعوتِ مبارزت دی تو انصار کے نوجوان اس کے مقابل آئے۔ اس نے کہا: "تم یثرب کے کسان ہمارے ہم سر نہیں ہو، ہمارے مقابل وہ آئیں جو ہمارے ہم سر ہوں۔" تب میرے آقا ﷺ نے اپنا محبوب ترین اثاثہ حضرت علی المرتضیٰ، حضرت حمزہ اور حضرت ابو عبیدہ بن حارث کی صورت میں میدان میں اتارا۔
اسی سنت کو ادا کرتے ہوئے جناب اسماعیل ہنیہ نے اپنے جوان بیٹوں اور پوتوں کو اللہ کی راہ میں شہادت کے لیے پیش کیا، اور بعد میں خود بھی بہادری اور دلیری کے ساتھ شہادت کا جام نوش کر کے سرخرو ہو گئے۔
کسی نے سچ کہا ہے:
این سعادت بہ زورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
57 اسلامی ممالک کا المیہ اور صلاح الدین ایوبی کا التزام
اب تو اسرائیل نے غزہ پر ایٹم بم گرانے کی دھمکی دے دی ہے۔ فلسطینی غزہ چھوڑ کر آئرلینڈ یا کسی صحرا میں چلے جائیں، غزہ کو وجود کا کوئی حق نہیں ہے۔
مسلم اُمہ کے جرنیلوں کو شرم سے مر جانا چاہیے۔ کیا ہو گیا آپ کو؟ ایک مسلمان ریاست سب کو پکار پکار کر بلاتی رہی، مگر مر گیا ایران، سوتا رہ گیا طالبان، بزدل بن گیا پاکستان، کام نہ آیا طیب اردوان، عیاشیاں کرتا رہ گیا سارا عربستان، اور خون میں ڈوبتا رہا فلسطین کا مسلمان۔
یوکرین کی حمایت کے لیے امریکہ اور یورپ اکٹھے ہوئے، ان کے لیے اپنے ملکوں کے دروازے کھول دیے۔ انہیں پیسہ، اسلحہ، خوراک، دوائیاں اور جنگجو فراہم کیے، جبکہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ 57 اسلامی ممالک، جو قدرتی دولت سے مالا مال ہیں اور جنگی صلاحیت رکھتے ہیں، غزہ کے بچوں کے لیے پانی کا ایک کین اور آٹے کا ایک تھیلا تک دینے میں ناکام رہے۔ بے حسی، بے غیرتی اور بے شرمی کی بھی کوئی انتہا ہے۔
کل قبلۂ اول کا محافظ: صلاح الدین ایوبی
کل قبلۂ اول کا محافظ جرنیل صلاح الدین ایوبی تھا، لیکن آج ہمارے جرنیل کون ہیں؟ وہ سب جانتے ہیں جنہوں نے بیت المقدس پر اسرائیل کا قبضہ کروا دیا۔ ایک دن میں پورا لبنان دے دیا، صحرائے سینا دشمن کے حوالے کر دیا، اور کشمیر کا نام لینا بھی گوارا نہیں۔
ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے کہ جب بیت المقدس پر عیسائیوں کا قبضہ تھا تو اس وقت ایک غیرت مند جرنیل صلاح الدین ایوبی اپنے گھوڑے کی پشت پر بیٹھا رب کی بارگاہ میں سجدہ کر کے یہ کہہ رہا تھا:
"اے میرے اللہ! میں قبلۂ اول کو آزاد کرانے کے لیے نکلا ہوں۔ اگر میں تیرے محبوب ﷺ کی معراج گاہ کو یہودیوں سے آزاد نہ کروا سکا تو مجھے زندہ اپنے گھر واپس آنے کی توفیق نہ دینا۔"
پھر وہ جرنیل خون کے سیلاب سے گزرا۔ دشمن کے مقابل عیسائی سپہ سالار فریڈرک سارے یورپ کی فوجیں جمع کر کے سامنے کھڑا تھا۔ جنگ کے دوران عیسائی بادشاہ کا گھوڑا مر گیا تو صلاح الدین نے اسے اپنا گھوڑا دے دیا۔ عیسائی جرنیل کی تلوار ٹوٹ گئی تو اسے تلوار دے کر کہا:
"میرے دشمن سے کہو کہ صلاح الدین بزدل نہیں، جو گرے ہوئے دشمن پر وار کرے۔ گھوڑے پر سوار ہو کر آؤ، پھر دیکھو کہ محمدِ عربی ﷺ کا غلام اللہ کی راہ میں کیسے تلوار چلاتا ہے۔"
میں چاہتا ہوں کہ تاریخ میں یہ نہ لکھا جائے کہ صلاح الدین نے بیت المقدس پر اس وقت پرچم لہرایا تھا جب دشمن کے ہاتھ میں تلوار نہ تھی، بلکہ یہ لکھا جائے کہ محمدِ عربی ﷺ کے غلام نے اپنے دشمن کو اس وقت مغلوب کیا جب اس کے ہاتھ میں بھی تلوار تھی۔
پھر دنیا نے دیکھا کہ صلاح الدین ایوبی ستر ہزار لاشوں کو روندتا ہوا بیت المقدس (قبلۂ اول) میں داخل ہوا تو آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، سر سجدے میں تھا۔ فخر کے ساتھ نہیں بلکہ عاجزی کے ساتھ کہہ رہا تھا:
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ
اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں
أَنْجَزَ وَعْدَهُ
اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا
وَنَصَرَ عَبْدَهُ
اپنے بندے کی مدد فرمائی
وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ
اور اکیلے ہی تمام سرکش جماعتوں کو شکست دے دی
اے اللہ! میں کامیاب نہیں ہوا، بلکہ محمدِ عربی ﷺ کے غلام کو تو نے کامیابی عطا کی ہے۔
یہ تھے جرنیل، جو اللہ کے لیے صف آرا ہو کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں کا مقابلہ کرتے تھے۔
ایک بار اسی صلاح الدین ایوبی سے کسی نے پوچھا تھا: "آپ کو کبھی مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا؟"
تو انہوں نے جواب دیا: "ڈرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے: اے ایوبی! قبلۂ اول یہودیوں کے قبضے میں تھا اور تم مسکرا رہے تھے؟"
امتِ مسلمہ کا احتساب اور قیامت کا خوف
ہماری بچیاں، بہنیں اور بیٹیاں یہودیوں کے ظلم کا شکار ہیں۔ بچے اور بچیاں قتل ہو رہے ہیں، مگر کسی کو غیرت نہیں آ رہی۔ بتائیے، ایسی حالت میں کیا ہمارے سجدے، روزے اور عبادات اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا؟ کیا اللہ ہماری اس مجرمانہ غفلت کو معاف فرمائے گا؟
بے حسی اور بے غیرتی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ جسے محمدِ عربی ﷺ کا کلمہ پڑھنے اور اُمتی ہونے کا اعزاز حاصل ہے، کیا اس نے اُمتی ہونے کا حق ادا کیا ہے؟ اگر کل میدانِ محشر میں حضور ﷺ نے ہمیں اپنا اُمتی ماننے سے انکار کر دیا تو ہمارا کیا بنے گا؟ ہم کہاں جائیں گے؟ کیا ہم اس قابل ہیں کہ اپنے آپ کو حضور ﷺ کا اُمتی کہلوائیں؟
کل قیامت کے دن یہ 57 مسلم ممالک کے سربراہان کیا جواب دیں گے کہ سب مل کر بھی ایک بوند پانی نہ پہنچا سکے؟ 52 ہزار سے زیادہ معصوم بچے اور بچیاں قتل کر دیے گئے۔ کیا ہمارے نبی ﷺ یہ دین لے کر آئے تھے کہ فلسطین کے بچے مرتے رہیں اور تم آنکھیں بند کر کے سوئے رہو؟
اگر ابھی بھی ہم نے کچھ نہ کیا تو کل ان کا ہاتھ ہوگا اور ہمارا گریبان۔
مسلمانو! بس یہ سمجھ لو کہ یہ کربلا کا منظر ہے، اور پورے خاندان میں سے صرف ایک بچہ بچ جانے والا پکار پکار کر کہہ رہا ہے:
"کہاں ہیں عرب؟ کہاں ہیں مسلمان؟ تم سب تماشا دیکھ رہے ہو۔"
انسانی حقوق کی ایسی خلاف ورزیاں، جو پوری انسانی تاریخ میں شاید ہی کبھی دیکھی گئی ہوں، جس نے انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بچوں پر آگ برس رہی ہے، ہر دس منٹ میں ایک بچے کی جان جا رہی ہے، اور بچوں کا سرِعام قتل ہو رہا ہے۔
اسرائیل کے اس بزدلانہ عمل کو جنگی جرائم طور پر دنیا دیکھ رہی ہے۔ اس کا یہ عمل قابلِ نفرت، وحشیانہ اور مجرمانہ فعل ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ان بچوں کی چیخوں نے عرش ہلا دیا ہے، مگر افسوس کہ انسانیت مردہ ہو چکی ہے۔
فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ایک ارب تیس کروڑ مسلمان دیکھ رہے ہیں۔ اے اُمتِ مسلمہ! تم کتنی بے حس اور بے دل ہو کہ مسلمان بچوں کو قتل ہوتا دیکھ رہی ہو۔ مسلمانوں کی بیٹیاں رو رو کر کہہ رہی ہیں کہ ہمارے پاس کھانا نہیں ہے، پینے کو پانی نہیں ہے، بستر نہیں، ہم ریت پر سوتے ہیں۔ معلوم نہیں منزل کہاں ہے، کوئی گھر نہیں ہے، رہنے کے لیے کوئی خیمہ تک نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ کو نامحرموں سے چھپانا چاہتی ہیں، لیکن جسم ڈھانپنے کے لیے کپڑے نہیں ہیں۔
فلسطین کی مساجد سے اعلان ہوتا ہے:
هَلْ مِنْ نَاصِرٍ يَنْصُرُنِي؟
ہے کوئی جو ہماری مدد کرے؟
جناب احمد ندیم قاسمی نے شاید اسی لیے بارگاہِ رسالت ﷺ میں التجا کی تھی:
ایک بار پھر بطحا سے فلسطین میں آ
راستہ دیکھتی ہے مسجدِ اقصیٰ تیرا
ان گنت بچے شہید ہو چکے ہیں اور اکثر یتیم ہو گئے ہیں۔ بچے اپنے والدین کی تصویریں دیکھ کر روتے ہیں، انہیں کوئی دلاسہ دینے والا نہیں۔ ہم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اللہ ہمیں معاف کرے گا یا نہیں، لیکن فلسطین ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ ہماری خاموشی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم واقعی غلام ہیں۔ ہمیں اس بات پر شرم آنی چاہیے کہ ہم حضور ﷺ کے اُمتی ہیں۔
اے عرب اور مسلم دنیا کے حکمرانو! یاد رکھنا، آج نہیں تو کل، یومِ حشر تمہیں حساب دینا ہوگا۔ غزہ میں جو کچھ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، اللہ تعالیٰ تمہارا احتساب ضرور کرے گا۔ ان ماؤں کو بھی جواب دینا پڑے گا جن کے بچے تمہاری بزدلی کی وجہ سے اسرائیل نے بمباری کر کے شہید کر دیے۔ ان کا شکوہ اور گلہ یورپ یا امریکہ سے نہیں، بلکہ تم سے ہے، کیونکہ تم نے ان کے غلام ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔
فلسطینی عوام کا جذبہ، ایمان اور استقامت
ایک صحافی نے ایک 9 سالہ فلسطینی بچی سے پوچھا: "تمہاری مشکلات کیسی ہیں؟"
تو اس بہادر قوم کی بہادر بیٹی نے یوں جواب دیا:
"میرا پیغام اسرائیلی وزیرِ اعظم اور ہمارے باقی دشمنوں تک پہنچا دو۔ جس طرح تم ہمیں مار رہے ہو، ہمارے گھر تباہ کر رہے ہو، ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ ہم یا جنگ جیتیں گے یا مر جائیں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم ختم نہیں ہوں گے، ہماری آنے والی نسلیں یہ جنگ جاری رکھیں گی۔ ہمارے ساتھ کوئی نہیں، ہمیں کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے ساتھ اللہ ہے، جو الْمَلِكُ، الْقُدُّوسُ، السَّلَامُ، الرَّحْمٰنُ ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ہمارے گھر باقی نہیں رہے، میرے پیارے شہید ہو چکے ہیں۔ میں دوبارہ اپنے گھر واپس جاؤں گی اور ملبے، ریت اور پتھروں پر ٹینٹ لگا کر اس کے اوپر فلسطین کا جھنڈا لہراؤں گی۔
فلسطین کے غیور مسلمانوں کو سلام! گھر تباہ ہو گئے، پیارے بچھڑ گئے، دل زخمی اور کلیجہ چھلنی ہے، مگر ایمان کی قوت ابھی باقی ہے۔ فلسطین میں نمازِ تراویح میں ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ اسرائیل نے وہاں کی مساجد کو توڑ دیا، لیکن فلسطین کے لوگوں کے دلوں میں جو ایمان ہے، اسے نہ توڑ سکا۔
فلسطینی کمانڈر ابو عبیدہ سے سوال کیا گیا: "تمہارے اندر اتنا جذبہ کہاں سے آیا ہے؟"
اس نے کہا: "ہمارے اندر شہیدوں کا خون ہے۔ ہم نے شہیدوں کے بچوں کو تیار کیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ تمہاری ہی میراث ہے اور تم ہی اب اس کے اصل وارث ہو۔"
میں ایک 6 سالہ فلسطینی بچی کی ایک پوسٹ دیکھ رہا تھا۔ وہ کہہ رہی تھی: "مجھ پر روزہ فرض نہیں، لیکن میں نے کل سے کچھ نہیں کھایا۔"
مجھے بتائیں کہ اس بچی کو پوری اُمتِ مسلمہ کیا جواب دے گی؟
ایک فلسطینی باپ اپنے بیٹے کی لاش کو ہاتھوں پر اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے یوں فریاد کر رہا ہے:
"اے اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے حال پر رحم فرما۔ تیرے سوا ہمارا کوئی پرسانِ حال نہیں۔"
یہ دو ارب مسلمانوں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے کہ ایٹمی طاقتیں اور دنیا کی بہترین فوجیں ہونے کے باوجود فلسطین کے بچوں کا قتلِ عام نہیں رکوا سکیں۔
ایک ایسی ویڈیو وائرل ہو چکی ہے جس نے پوری انسانیت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ انسانیت شرما گئی ہے۔ ایک 66 سالہ معذور خاتون پر اسرائیلی فوج نے کتا چھوڑ دیا، جس نے اس خاتون کو بری طرح زخمی کر دیا، مگر کسی مسلمان حکمران کی طرف سے کوئی مذمتی بیان بھی جاری نہیں ہوا۔
ایک فلسطینی اپنی ننھی معصوم بیٹی کو سینے سے لگائے، بے بسی کی تصویر بنے، آنسو بہا رہا ہے، کیونکہ اس کی بیٹی غزہ میں غذائی قلت کی وجہ سے موت کے خطرے سے دوچار ہے۔ وہ کسی مسلمان کی مدد کا منتظر ہے، لیکن اسے شاید علم نہیں کہ اللہ کے سوا ان کی کوئی مدد کرنے والا نہیں، کیونکہ لوگوں نے فلسطین کی طرف سے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
فلسطین کی وہ مظلوم بیٹیاں اپنے رب کی بارگاہ میں یوں فریاد کناں ہیں:
"یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ! ہم آپ کی اُمت کی بے سہارا بیٹیاں، آپ کے رب کی مدد کی منتظر ہیں۔ غزہ کی صورتِ حال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ غزہ کی کوئی گلی، سڑک یا گھر ایسا نہیں جہاں کوئی قبر نہ ہو، کوئی لاش نہ پڑی ہو یا کوئی شخص زخموں سے چور چور نہ ہو۔
سرزمینِ بیت المقدس پر ایک ایسی تصویر بھی دیکھنے کو ملی ہے کہ خون کے آنسو بھی روئے جائیں تو کم ہیں۔ ایک کتے نے اپنے منہ میں ایک شہید بچے کی لاش اٹھا رکھی ہے۔ قیامت کے دن یہی فلسطینی بچہ اور مسلمان سربراہ آمنے سامنے ہوں گے۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہر مسلمان ملک کی کامیابی پر خوشیاں منانے والے فلسطینی آج اکیلے اپنے شہداء کی لاشیں سنبھال رہے ہیں، زخمیوں کو اٹھا رہے ہیں، اور مسلم دنیا خاموشی سے کوفہ والوں کی طرح تماشہ دیکھنے میں مصروف ہے۔
افریقی یونین کا جرات مندانہ اقدام اور بین الاقوامی رویے
ان کی اس حالت کا ذمہ دار کون ہے؟ کون جرم کا ذمہ دار ہے؟ کون مجرم ہے؟ پوری اُمتِ مسلمہ ان کی ذمہ دار ہے۔ ہم فلسطین کے مجرم ہیں۔ جتنا اسرائیل اس جرم میں ملوث ہے، اس سے کہیں زیادہ خاموش رہنے کی صورت میں ہم سب مجرم ہیں، کیونکہ ہم نے ان کی کسی قسم کی مدد نہیں کی۔ اخلاقی طور پر بھی ہم ان کا ساتھ نہ دے سکے۔
ان کے برعکس، بعض غیر مسلم رہنماؤں نے اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ہمدردی کا عملی مظاہرہ کیا ہے، اور بعض غریب افریقی مسلم ممالک نے دلیری اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کا ثبوت پیش کیا کہ اصل قوت اسلحے کی نہیں بلکہ ایمانی قوت کی ہے۔
امریکی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے 56 ممالک پر مشتمل افریقی یونین نے عالمی عدالت میں اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دینے کی درخواست دائر کر دی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسرائیل قتلِ عام میں ملوث ایک دہشت گرد ریاست ہے، اس کی تجارتی اور سفری سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے، اور اسرائیل و فلسطین کی سرحد پر فوری طور پر امن فوج تعینات کی جائے۔
افریقی یونین کے 88 وکیلوں نے اس درخواست پر دستخط کیے ہیں۔ افریقی یونین کے صدر موسیٰ الفقی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس درخواست پر عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزام پر سخت کارروائی کی جائے اور اس پر تجارتی و سفری پابندیاں عائد کی جائیں۔
افریقی وکیلوں نے مؤقف اپنایا کہ اسرائیل نے غزہ میں معصوم بچوں، خواتین اور عام شہریوں کو قتل کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک بے رحم اور دہشت گرد ریاست ہے۔ اسرائیل پوری دنیا کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ اب عدالت کوئی بھی فیصلہ کرے، وہ اپنی جگہ، لیکن افریقی یونین نے انسانیت کا حق ادا کر دیا ہے۔
افریقی یونین کے اس جرأت مندانہ فیصلے کو حماس، شمالی کوریا اور یمن نے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
افریقی یونین کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے برکینا فاسو کے نوجوان صدر کیپٹن ابراہیم تراؤرے نے افریقی یونین سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں سے تجارتی اور سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں اور ان کے خلاف اعلانِ جنگ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت نے اسرائیل کو سزا نہ دے کر اسے فلسطینیوں کے قتلِ عام کا لائسنس دے رکھا ہے۔ اقوامِ متحدہ ایک بے جان ادارہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کو راشن سے زیادہ فوجی مدد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرا ملک برکینا فاسو ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ تمام 56 ممالک کے رہنماؤں نے ابراہیم تراؤرے کو حوصلہ دیتے ہوئے بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی صدر محمود عباس سے رابطہ کر کے افریقی یونین میں شامل ہونے کی درخواست کی جائے گی۔ آگے محمود عباس کا فیصلہ کچھ بھی ہو، لیکن کیپٹن ابراہیم تراؤرے کی تڑپ اور انسانیت سے ہمدردی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
مسلم اُمت کے ان بے ضمیر رہنماؤں سے تو یہ ہندو سینیئر ونیش کمار کئی درجے بہتر ہے، جس نے فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے جذبات یوں بیان کیے:
"آپ ہمیں کافر کہتے ہیں، مگر ہم نے اہلِ بیت کی بھی مدد کی ہے۔ آج پھر وقت ہے کہ فلسطین کے مسلمانوں کی مدد کی جائے۔"
انہوں نے اپنی طرف سے ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا اور مسلم اُمت کو غیرت دلانے کی بات کی۔ انہوں نے مسلمانوں سے عملی اقدام اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق وہ عملی اقدام جہاد ہے، جس کا سینکڑوں بار قرآنِ کریم اور احادیثِ نبوی ﷺ میں ذکر آیا ہے۔
عملی اقدام (جہاد) بمقابلہ صرف دعائیں
جب سے اسرائیل نے فلسطین کو خون میں لہولہان کر رکھا ہے، اس پورے عرصے میں ایک بھی مسلمان لیڈر ایسا نہیں جس نے جہاد کا ذکر کیا ہو۔
ادھر غزہ میں یہودی اس نظریے سے لڑ رہے ہیں کہ یہ ہماری آخری جنگ ہے اور ہم سیدھے جنت میں جائیں گے۔ حالانکہ یہ نظریہ تو مسلمانوں کا ہونا چاہیے، لیکن مسلمان تو لمبی تان کر سو گئے ہیں۔
اس نظریے کو ایک یہودی رہنما، اسرائیل کے پہلے وزیرِ اعظم ڈیوڈ بن گوریان نے اس انداز میں بیان کیا، جو تمام مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔
اسرائیل کے پہلے وزیرِ اعظم بن گوریان ایک روز بہت جلدی گھر سے نکل رہے تھے کہ ان کی بیٹی نے پیچھے سے آواز دے کر یاد دہانی کروائی کہ آج دیوارِ گریہ (Wailing Wall) پر سالانہ دعا کا دن ہے۔ بن گوریان نے جواب دیا:
"مجھے ریاستی امور سے متعلق کچھ اہم کام نمٹانے ہیں، اس لیے دعا میں شامل نہیں ہو سکتا۔"
بیٹی نے جواب دیا:
"دعا سے زیادہ اہم کام اور کیا ہو سکتا ہے؟"
جس پر بن گوریان نے ایسا جواب دیا جسے سن کر مسلمانوں کو اپنی حالت پر غور کرنا چاہیے۔ اس نے کہا:
"اگر صرف دعا سے کام ہوتے تو تمام عرب اور مسلمان ہر سال حج کے اجتماع میں اسرائیل کی تباہی کی دعا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ نوزائیدہ یہودی ریاست دن بہ دن ترقی کر رہی ہے۔"
آپ ذرا سوچیں، دو ارب کے قریب مسلمانوں کے مقابلے میں ایک ایسا ملک، جس کی آبادی تقریباً 70 لاکھ ہے، اور سارے عرب اس کے سامنے بے بس ہیں۔
اگر صرف دعاؤں اور التجاؤں سے مسائل حل ہوتے تو پھر مسلمانوں کو غزوۂ بدر، غزوۂ اُحد اور غزوۂ خندق کی جنگیں نہ لڑنی پڑتیں۔
آج پھر فلسطین لہولہان ہے اور اُمتِ مسلمہ دعاؤں کا ورد کر رہی ہے:
تلواریں بیچ کر خرید لیے مصلّے ہم نے
اُمتِ مسلمہ کی بیٹیاں لٹتی رہیں اور ہم دعا کرتے رہے
جہاں دعا کی ضرورت ہے وہاں دعا کرنی چاہیے، لیکن کئی کام ایسے ہیں جہاں ظالم کا ہاتھ روکنے کے لیے صرف جہاد سے کام ہوتا ہے۔ ہاں، اس انداز سے ضرور مسلم ممالک اپنا فرض نبھا رہے ہیں، اس پر ان کو ضرور داد دینی چاہیے۔ عربی تلواریں لہرا کر، ترکی ڈرامے بنا کر، ایرانی دھمکیاں لگا کر اور پاکستانی ترانے گا کر اُمتِ مسلمہ کی حفاظت کی ذمے داری کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔
اسلامی تعلیمات اور ہمدردی کا حقیقی تصور
اسلام کی حفاظت کے لیے مسلمانوں میں جہاد کا ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں صلاح الدین ایوبی کا قول مسلمانوں کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔
صلاح الدین ایوبی نے ایک بار کہا تھا: مجھے نہیں معلوم اسلام تلوار سے پھیلا ہے یا اخلاق سے، مگر میں اس بات کو بخوبی جانتا ہوں کہ دینِ اسلام کی حفاظت کے لیے تلوار کی ہمیشہ ضرورت پڑتی آئی ہے اور آگے بھی پڑے گی۔
اور واقعی موجودہ دور کے واقعات نے اس بات کو سچا ثابت کر دیا ہے۔ دینِ اسلام نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ اگر وہ تکلیف میں ہے تو دوسروں کو اس کی مدد کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ وہ مدد جہاد کی صورت میں ہو یا مال اور غذا کی صورت میں ہو، ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے لیے یہی حکم ہے۔
اور اس بارے میں فقہائے اسلام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ اگر کسی شہر میں کوئی بھوک سے مر گیا تو تمام شہر والے اس کی ہلاکت میں شریک ہیں۔ (الحضارة الإسلامیہ)
یہ معاملہ اور زیادہ حساس ہو جاتا ہے جب مسلمانوں کا ایک پورا ملک بھوک کی لپیٹ میں ہو اور دوسرے ممالک میں رہنے والوں کے دسترخوان انواع و اقسام کے کھانوں سے بھرے ہوں۔
جزیرۂ عرب میں قحط پھیلا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مصر کی طرف یوں خط لکھا تھا:
"اللہ کے بندے عمر کی طرف سے ابنِ العاص کے نام، السلام علیک، اما بعد! کیا تم یہاں لوگوں کو ہلاک ہوتے دیکھتے رہو گے اور خود عیش کی زندگی گزارتے رہو گے؟ یہاں مدد و تعاون کی ضرورت ہے، اس میں جلدی کرو۔"
عمرو بن العاص نے جواباً لکھا:
"میں مسلمانوں کی مدد کے لیے اتنا عظیم قافلہ بھیج رہا ہوں جس کا پہلا سرا آپ کے پاس مدینہ میں اور دوسرا سرا میرے پاس مصر میں ہو گا۔" (سیرتِ عمر بن خطاب)
ہر شخص کا صبح و شام خود سے پہلا سوال یہی ہونا چاہیے کہ اس کا قافلہ کب مسلمانوں کی مدد کے لیے جا رہا ہے۔ ہر شخص کے لیے یہی دعوت ہے کہ اُٹھو، اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کرو، انہیں بے یار و مددگار مت چھوڑو، ورنہ قیامت کے دن تم بھی ایسے ہی تنہا چھوڑ دیے جاؤ گے۔
اخوت اس کو کہتے ہیں، چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستان کا ہر پیر و جواں بے تاب ہو جائے
تبصرے 0