کالمز

فتح مدائن

مدائن کسرائے ایران کا دارالحکومت تھا۔ یہ شہر بغداد سے جانبِ جنوب ۲۵ میل کے فاصلے پر دریائے دجلہ کے کنارے واقع تھا۔ اب یہ شہر سلمان پاک کے نام سے معروف ہے کیونکہ یہاں حضرت سلمان فارسی، حضرت حذیفہ یمانی اور حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہم کے مزاراتِ مقدسہ واقع ہیں اور یہ عراق میں واقع ہے۔ اُس زمانہ میں عراق و ایران دونوں پر کسریٰ کی حکومت تھی۔

مدائن کی جس فتح کا ذکر ہمارا مقصود ہے وہ ماہِ صفر ۱۶ھ میں زمانۂ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ میں وقوع پذیر ہوئی تھی۔ قادسیہ کے عظیم الشان معرکے میں شکستِ فاش سے دوچار ایرانی جو بچ نکلے تھے، بابل میں جا کر قیام پذیر ہو گئے۔ لشکرِ اسلامی کے سالارِ اعظم حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے قادسیہ میں دو ماہ قیام فرمایا تاکہ لشکر کی تھکاوٹ اور ان کی اپنی عِرقُ النسا کی بیماری دور ہو جائے۔ پھر شوال کے آخر میں قادسیہ سے مدائن فتح کرنے کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ راستے میں مختلف مقامات پر ایرانیوں سے ٹکراؤ ہوتا رہا لیکن اسلام کا سیلِ رواں سب رکاوٹوں کو توڑتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔

 یومِ بابل: 

حضرت سعد رضی اللہ عنہ، حضرت ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ میں اُترے۔ یہاں اطلاع ملی کہ ایرانی فیروزان کے جھنڈے تلے بابل میں مجتمع ہو چکے ہیں۔ یہ جان کر پیش قدمی فرمائی اور اسلام کے مجاہد پرمزان نے جلد ہی بابل کو فتح کر کے وہاں سے ایرانی افواج کو مار بھگایا۔

 مقامِ ابراہیم کی زیارت: 

سعد رضی اللہ عنہ نے چند دن بابل میں قیام فرمایا۔

فنظر اليه وصلى على رسول الله وعلى إبراهيم وعلى أنبياء الله وقرأ: وتلك الأيام نداولها بين الناس (الخلفاء الراشدون)

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اس مقام کی زیارت کی جہاں نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قید میں رکھا تھا۔

صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ نے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اللہ کے تمام انبیاء علیہم السلام کی بارگاہ میں سلام کا ہدیہ پیش کیا۔

 بہر شہر کی فتح: 

بہر شہر مدائن کا ہی حصہ تھا جو کہ دجلہ کے دائیں کنارے پر، جب کہ مدائن دریا کے بائیں کنارے پر واقع تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بہر شہر کی جانب روانہ ہوئے اور شہر کا محاصرہ کر لیا۔ جب محاصرے نے طول پکڑا تو ایرانی رات کے اندھیرے میں شہر خالی چھوڑ کر دریا عبور کر کے مدائن میں منتقل ہو گئے۔ پار اترنے کے بعد انہوں نے پل کو آگ لگا دی اور ساری کشتیاں مدائن کی جانب منتقل کر لیں تاکہ مسلمان دریا عبور نہ کر سکیں۔

اہلِ اسلام آدھی رات کے وقت بہر شہر میں داخل ہوئے اور ساتھ ہی مدائن پر حملہ آور ہونے کی تیاری میں لگ گئے، لیکن چونکہ اب دریا پر نہ پل موجود تھا نہ ہی کشتیاں دستیاب تھیں، لاچار دجلہ کے کنارے آ گئے تو اُن کے قدم رک گئے۔

 اسلام کا سیلِ رواں اور دریائے دجلہ: 

لشکرِ اسلامی اور افواجِ ایرانی کے درمیان دریا حائل تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سوچ رہے تھے کہ جس قادرِ مطلق نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے لیے سمندر میں بارہ راستے بنا دیے تھے، محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے لیے بھی وہ معجزہ ظہور میں آ سکتا ہے۔ یہ سوچ کر انہوں نے لشکر سے یوں خطاب فرمایا، جس میں حمد و صلوٰۃ کے بعد فرمایا:

الا اني قد عزمت على قطع هذا البحر اليهم

 خبردار! میں نے دریا کو عبور کر کے دشمن پر حملہ کرنے کا پکا ارادہ کر لیا ہے۔

سب غازیانِ اسلام نے اپنے سالار کی تائید کی اور دریائے دجلہ کو اپنے پاؤں تلے روندنے کے لیے تیار ہو گئے۔

دجلہ کو شکست دینے کے لیے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا: کون ہے جو پہلے اُس کنارے پر جا کر دشمن کو روکے رکھے تا کہ وہ ہمارے لشکر کو دریا پار کرنے سے روک نہ سکیں۔ حضرت عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس خدمت کے لیے خود کو پیش کیا۔ چھ سو جانباز عاصم کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گئے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سب سے پہلے کون میرے ساتھ دریا میں اُترے گا؟ ساٹھ سوار ساتھ دینے کے لیے آگے بڑھے۔ جب یہ پہلی جماعت دریا میں اتری تو پھر حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے چھ سو سپاہیوں کے ساتھ دریا میں اُتر پڑے۔ علامہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے:

لما رآهم الفرس يطفون على وجه الماء قالوا ديوانا ديوانا مجانين مجانين ثم قالوا والله ما تقاتلون إنسا بل تقاتلون جنا

 جب ایرانیوں نے سطحِ دجلہ پر یہ منظر دیکھا تو حیرت سے پکار اُٹھے: "یہ تو دیوانے ہیں، دیوانے۔

اور کہا: "قسم بخدا! تمہارا مقابلہ انسانوں سے نہیں بلکہ جنات سے ہے۔"

ایرانیوں نے تیروں کی بارش کر کے ان غازیوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے۔ اب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سارے لشکر کو دریا میں اُترنے کا حکم صادر فرمایا اور کہا یہ کلمات پڑھتے جاؤ:

 نستعين بالله ونتوكل عليه حسبنا الله ونعم الوكيل ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم 

اس حکم پر تمام غازیوں نے گھوڑے دریا میں ڈال دیے اور یوں بے فکری سے آگے بڑھ رہے تھے جیسے خشکی پر چل رہے ہوں کیونکہ انہیں اللہ کی مدد پر کامل بھروسہ تھا اور ان کا سالار عشرۂ مبشرہ کا ایک مستجاب الدعوات فرد تھا جس سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش تھے اور جسے دعا دی تھی:

اللهم أجب دعوته وسدد رميته

 اے اللہ! سعد بن ابی وقاص کی دعا قبول فرما اور اس کی تیر اندازی کو مضبوطی عطا فرما۔

لہٰذا صحابہ رضی اللہ عنہم کا عزم اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی دعا سے دجلہ کو شکست ہوئی اور دجلہ کی یہ شکست ایرانی فوج کی شکستِ فاش اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مدائن کی فتح پر منتج ہوئی۔

محمد حسین ہیکل نے اپنی کتاب "عمر فاروق اعظم" ہی میں لکھا ہے کہ اگر چودھویں صدی عیسوی کے اواخر میں تیمور لنگ نے بغداد پر حملہ کرتے وقت اسی انداز میں دجلہ عبور نہ کیا ہوتا تو کئی لوگ فتحِ مدائن کے لیے صحابہ رضی اللہ عنہم کے دجلہ عبور کرنے کے واقعہ پر شک کرتے۔

 لکڑی کا پیالہ: 

اللہ کی مدد یوں شاملِ حال تھی کہ لشکرِ اسلامی کا کوئی بھی جانی یا مالی نقصان دریا عبور کرتے وقت نہ ہوا۔

صرف لکڑی کا ایک پیالہ، جو کسی مجاہد سے دریا میں گر گیا تھا، لیکن دریا نے اُسے بھی کنارے کی طرف پہنچا دیا، جہاں سے اُسے آسانی سے پکڑ لیا گیا۔

دریا میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جا رہے تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: حسبنا الله ونعم الوكيل۔ اللہ کی قسم! اللہ اپنے دین کے مددگاروں کی ضرور مدد فرمائے گا اور دشمنانِ اسلام کو ضرور شکست ہوگی۔

جب لشکرِ اسلامی دریا سے پار نکل کر مدائن پر حملہ آور ہوا تو معلوم ہوا کہ یزدگرد مسلمانوں کے پہنچنے سے پہلے ہی اپنے اہل و عیال اور خزانے لے کر مدائن سے فرار ہو چکا ہے۔

مسلمان بآسانی شہر میں داخل ہو گئے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ قصرِ ابیض (وائٹ ہاؤس) میں داخل ہوئے تو بےساختہ زبانِ حق ترجمان پر یہ آیات جاری ہو گئیں:

 كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ ۝وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ ۝وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ ۝كَذٰلِكَ- وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ۝ 

 صلوٰۃ الفتح: حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے آٹھ رکعت نماز صلوٰۃ الفتح ایک سلام سے ادا کیں۔

 قیصر و کسریٰ میں پہلا جمعہ:

 یہ جمعہ کا دن تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کسریٰ کے تخت پر کھڑے ہو کر خطبۂ جمعہ ارشاد فرمایا اور سرزمینِ ایران میں پہلا جمعہ ادا فرمایا۔

 مالِ غنیمت: مالِ غنیمت میں کسریٰ کی بہت سی نادر روزگار اشیا ہاتھ لگیں جن میں کسریٰ کا تاج، شاہی لباس، مختلف بادشاہوں کی طرف سے کسریٰ کو ملنے والے بڑے بڑے قیمتی تحائف اور بھاری مقدار میں سونا، چاندی اور جواہرات شامل تھے۔

 مالِ غنیمت فاروقِ اعظم کے قدموں میں: جب دولت کے یہ انبار مدینہ منورہ میں امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈال دیے گئے تو دنیا کے اُس انوکھے حکمران نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور روتے ہوئے کہا: اے اللہ! تو نے یہ سب کچھ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیا، جو مجھے دے دیا ہے۔ میں پناہ مانگتا ہوں، کہیں یہ میری آزمائش نہ ہو۔ پھر سارا مالِ غنیمت تقسیم فرما دیا۔

 سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ سے ہجرت کے سفر میں فرمایا تھا کہ میں تمہارے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن دیکھ رہا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے جب کسریٰ کے کنگن آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کو پورا ہوتا دکھانے کے لیے سراقہ کو طلب فرمایا اور وہ کنگن انہیں پہنا دیے۔ اس پر سراقہ رضی اللہ عنہ نے رب کی حمد و ثنا بجا لاتے ہوئے کہا: اللہ! تیرا شکر ہے، اور تو پاک ہے کہ تو نے شاہِ ایران کے کنگن سراقہ بدو کو پہنا دیے۔

 کسریٰ کا فرش: کسریٰ کے نوادرات میں کسریٰ کا فرش بھی شامل تھا، جو بہار کے نام سے مشہور تھا۔ نوے گز لمبا اور دس گز چوڑا تھا۔ اس پر باغ کا پورا منظر سونے اور چاندی کے تاروں سے بنایا گیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس فرش کے بارے میں مشورہ لیا تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اسے کاٹ کر بانٹ دینے کا مشورہ دیا، جو فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے قبول فرمایا اور فرش کاٹ کاٹ کر تقسیم فرما دیا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آنے والا فرش کا ٹکڑا تیس ہزار دینار میں فروخت ہوا۔

 نوٹ: اس مضمون کے لیے علامہ ابن کثیر کی البدایہ والنہایہ، محمد رضا مصری کی الخلفاء الراشدون، محمد حسین ہیکل کی عمر فاروق اعظم اور اکبر شاہ نجیب آبادی کی تاریخِ اسلام سے مدد لی گئی ہے۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0