کالمز

حضرت فرید الدین مسعود گنجِ شکر رحمۃ اللہ علیہ

حضرت فرید الدین مسعود گنجِ شکر رحمۃ اللہ علیہ
حضرت فرید الدین مسعود گنجِ شکر رحمۃ اللہ علیہ

ابتدائی زندگی اور کتاب "النافع" کے مطالعے کا واقعہ

حضرت فرید الدین مسجد میں بیٹھے ہوئے ایک طالب علم کی حیثیت سے شہرۂ آفاق فقہی کتاب النافع کا مطالعہ فرما رہے تھے کہ ایک بزرگ مسجد میں تشریف لائے۔ انہوں نے خوبصورت اور خوب سیرت نوجوان کو دل کی گہرائیوں سے مطالعہ میں محو پایا۔

پوچھا: "نوجوان! کیا پڑھ رہے ہو؟"

حضرت فرید الدین نے سر اٹھایا تو ایک مجسمِ حسن کو سامنے پایا، جس کی نگاہیں دل چیر کر نکل رہی تھیں۔ عرض کیا: "حضور! اس کتاب کو النافع کہتے ہیں۔"

ارشاد ہوا: "بیٹا! خدا کے فضل و کرم سے یہ کتاب تمہارے لیے نافع ہوگی۔"

مختصر سا فقرہ حضرت فرید الدین کو کسی اور دنیا میں لے گیا۔ عرض کیا: "مجھے نفع تو آپ کی کیمیا اثر نگاہ سے ہوگا۔"

فرید اٹھے، قدم بوسی کی، دل لٹ گیا۔ مرشد کی تلاش کی اب ضرورت نہ رہی، کنواں خود پیاسے کے پاس پہنچ گیا۔ اب درخواست زبان پر آگئی، لب گویا ہوئے: "حضور! مجھے مرید فرما لیں۔"

درخواست نے شرفِ قبولیت پایا۔ مرید کے دل میں محبت کی آگ جل رہی تھی۔ چاہا کہ علومِ ظاہری چھوڑ کر ساتھ چلوں، مگر مرشد نے فرمایا: "مذہبی تعلیم پر پوری توجہ دو اور ساتھ ہی طریقت کو بھی جاری رکھو۔ ہمارے مشائخ کا یہی دستورِ عمل تھا۔ وہ علومِ دینیہ کی تعلیم کو ضروری سمجھتے تھے۔"

فریدِ دوراں کے سامنے مسجد میں تشریف لانے والے چشتیہ کے عظیم آفتاب، حضور قطب العالم خواجہ قطب الدین بختیار کاکی تھے، جو فرید الدین کے دل میں آگ جلا کر دہلی کی طرف بڑھے۔ تین منازل حضرت فرید الدین ساتھ گئے۔ الوداع ہونے لگے تو مرشد نے فرمایا: "کچھ عرصہ ظاہری علوم حاصل کرو، پھر دہلی آ کر ہمارے ساتھ رہو۔"

اس وقت حضرت فرید الدین کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ پانچ سال مزید آپ نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ ظاہری تعلیم کے ساتھ ساتھ دل کے دروازے باطنی علوم کے لیے بھی کھل چکے تھے۔ حصولِ علم کے لیے آپ نے بغداد سے بخارا تک کے سفر اختیار کیے اور وقت کے جید علماء اور مشائخ سے استفادہ کیا۔

دہلی میں شیخ کی خدمت میں حاضری

اب مرشدِ برحق کی خدمت میں دہلی حاضر ہوئے۔ حضرت قطبِ جہاں نے فرمایا: "مولانا فرید! کارِ خود تمام کرده آمدی" (فرید! کام مکمل کر کے میرے پاس آئے ہو۔)

بقول حضرت نظام الدین اولیاء، واقعہ سناتے ہوئے، جب مرشدِ جہاں فرید یہاں پہنچے تو زور سے نعرہ مار کر بے ہوش ہو گئے اور تین دن رات عالمِ استغراق آپ پر طاری رہا۔ عالمِ محو میں آئے تو مرشد نے فرمایا: "مردانِ خدا نے ایسا ہی کیا، تب کسی مقام پر پہنچے۔"

خلافت و اجازت اور خواجہ اجمیری کی بشارت

حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی دہلوی نے بے پایاں نوازشات سے آپ کو نوازا۔ جس طرح حضرت ولیِ ہند خواجہ اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کی نگاہِ انتخاب حضرت قطبِ عالم پر تھی، اسی طرح حضرت قطبِ عالم کی نگاہ حضور بابا فرید الدین گنجِ شکر رحمتہ اللہ علیہ پر تھی۔

دہلی میں جب حضرت خواجہ اجمیری تشریف لائے اور حضرت فرید الدین کو دیکھا تو حضرت قطب نے فرمایا: "بابا قطب الدین! تم نے ایسا عظیم شہباز قید کر رکھا ہے جو سدرۃ المنتہیٰ کے سوا کسی جگہ آشیانہ نہیں بناتا۔ یہ فرید وہ شمع ہے کہ درویشوں کے خاندان کو منور کر دے گا۔"

شخصیت، تربیت اور زہد و فقر کی تعلیمات

حضرت فرید الدین کی حیاتِ طیبہ کے کچھ عناصر ایسے ہیں جو دلوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ آپ نے مصائب و تکالیف کا راستہ اختیار فرمایا۔ گمنامی کو شہرت پر ترجیح دی۔ اجودھن جیسے گمنام خطے کا انتخاب مشکل پسندی کا ہی غماز ہے۔ وہاں کھانے کے لیے پیلو اور ڈیلے (کریر کا پھل) ملتے تھے، بدمزہ سبزیاں تھیں۔ فتوح آئیں تو مریدوں میں تقسیم ہو گئیں۔ ماہ و سال کا امتیاز نہ تھا۔ پارسائی پر بھی فخر و ناز نہیں کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے مرید چھوٹے چھوٹے کام کرتے تھے۔

حضرت کی ایک اور دلکش خصوصیت ان کا عزمِ محکم ہے۔ یہ عزمِ محکم ان کی والدہ ماجدہ کی شدید تربیت نے پیدا فرمایا تھا۔ اس عزمِ محکم کو خلوص نے تاباں کر دیا۔ ان کا خلوص پوری زندگی میں جھلکتا رہا۔ نجی اور عوامی زندگی کے دھارے مل کر بہتے ہیں، کیا مجال کہ کہیں تضاد پیدا ہو۔ رحم دلی اور لوگوں سے ہمدردی اسی خلوص کے حسین عکس تھے۔ وہ سب اولیائے اُمت کا احترام فرماتے۔تھے۔ اس کی عملی تصویر یہ ہے کہ سلسلۂ عالیہ سہروردیہ کے مؤسسِ اعلیٰ ہمارے چشتی مشائخ کی نظروں میں اتنے اہم ہیں کہ ان کی کتاب عوارف المعارف کو وہ حرزِ جاں سمجھتے ہیں۔

حضرت فرید الدین ان سے ملے بھی نہیں تھے اور اپنے لختِ جگر کا نام بھی شہاب الدین رکھا۔ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی سہروردی رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کی محبت ایک کھلی کتاب ہے۔ یہی اندازِ دلربائی ہمیں ان کی محفل میں بھی ملتا ہے۔ عیبی لوگوں پر تعزیرات لگانا ان کا شیوہ نہیں تھا بلکہ عمدہ نصائح سے بدی کے راستے سے ہٹانا ان کا کارنامہ تھا۔ طبیعت زہد کی وجہ سے خشک نہیں تھی۔ لطیف مزاج دلوں کی پژمردگی دور کرتا تھا۔ میٹھی زبان، تاباں چہرہ اور شہد جیسی میٹھی مسکراہٹ دلوں کو کھینچ لیتی تھی۔ کسی مرید کی کوئی عادت چھڑوانی ہوتی تو بڑا حکیمانہ انداز اپناتے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ایک ماہرِ نفسیات دل و دماغ کا تجزیہ کر رہا ہے۔ میٹھے مزاج نے انہیں گنجِ شکر بنا دیا تھا۔ مٹی اور نمک کو بھی ان کی نگاہِ کیمیا اثر نے شکر میں تبدیل کر دیا، مگر جو مٹھاس ان کے مزاجِ اطہر میں شامل تھی، وہ بھلا شکر کو کہاں نصیب ہوئی ہے۔

فقر کا وقار اور امراء و سلاطین سے بے نیازی

فقر کے وقار کا لحاظ بھی آپ کے ساتھ تھا۔ شاہوں سے کچھ لینا انہیں اپنے مشائخ کی طرح ناپسند تھا۔ جب کسی کی سفارش کرنا پڑی تو شاہ کو صاف کہہ دیا: "اس شخص کا معاملہ پہلے اللہ تعالیٰ اور پھر تمہارے سپرد کرتا ہوں۔ اگر تم اسے کچھ دو گے تو حقیقتاً دینے والا اللہ کریم ہے، مگر عطا سے تمہیں ثواب ہوگا اور سائل احسان مند ہوگا۔"

یہ مقدس الفاظ ہم کسی اور جگہ نقل کر چکے ہیں۔ ان میں پوشیدہ وقار ہر نظر دیکھ سکتی ہے۔ ایک شخص نے سفارش نہ مانی تو سفارش کرانے والے کو فرمایا: "شاید تم لوگوں پر رحم نہیں کرتے، لہٰذا آج تم پر رحم نہیں ہو رہا۔" پھر وہ شخص آ گیا جس کے سامنے آپ نے سفارش فرمائی تھی۔ اس نے معذرت کی اور معتوب عہدیدار کو معاف کر دیا اور حضرت کی مرضی کے مطابق عمل کرنے کا عہد کیا۔ آپ نے دونوں کے حق میں دعا فرمائی۔

حکیمانہ تربیتی واقعات اور سماع کا موقف

اسی حکیمانہ اندازِ فکر کی جھلکیاں ہمیں ان دو واقعات میں بھی ملتی ہیں۔ آپ سماع پسند فرماتے تھے، کیونکہ مشائخِ چشت کا یہی طریقہ تھا۔ ایک دفعہ آپ کی محفل میں اس کے جواز و عدمِ جواز کی بحث چل نکلی۔ بحث نے کج بحثی کی حدوں کو چھو لیا تو حضرت نے حکیمانہ اور فیصلہ کن انداز میں فرمایا:

"بڑائی تو صرف ذاتِ خداوندی کے لیے ہے۔ کوئی تو عشقِ الٰہی کی آگ میں جل کر فنا ہو گیا اور کوئی جواز و عدمِ جواز کی بحث میں پھنسے ہوئے ہیں۔"

قاضی حمید الدین ناگوری کے پوتے حضرت شیخ شرف الدین کشانی رحمتہ اللہ علیہ بیعت کے لیے اجودھن حاضر ہوتے ہیں، مگر روانگی کے وقت ان کی کنیز نے حضرت کے لیے پگڑی بطورِ ہدیہ دی۔ حضور فرید الدین نے انہیں بیعت فرمایا۔ پگڑی قبول فرما کر ارشاد ہوا: "خدا اس کنیز کو آزاد کرے۔"

شیخ شرف الدین سوچتے ہیں کہ حضرت کے الفاظ پورے ہوں گے اور وہ لونڈی آزاد ہو جائے گی، مگر وہ قیمتی ہے، میں اسے بیچ دوں تو جس کے پاس جائے گی، وہ آزاد کر دے گا اور مجھے خسارہ بھی نہیں ہوگا۔ مگر دل میں فرمودۂ شیخ نے ایک اعلیٰ انسانی قدر کو بیدار کر دیا، اور حضرت شرف الدین نے خود لونڈی کو نہ صرف آزاد کر دیا بلکہ اس کی آزادی کی اطلاع خود حضرت کو آ کر دی۔ یہ ہے وہ اندازِ حکیمانہ جو اولیائے اُمت کو رسولِ اُمت ﷺ سے عطا ہوا ہے۔ سرکارِ کریم ﷺ بھی انسانی نفسیات کو سامنے رکھ کر کچھ ارشاد فرما دیتے، اور افراد کے اندر سوئی ہوئی انسانی اقدار بیدار ہو کر ایک مثال قائم کر دیتیں۔

حضرت گنجِ شکر رحمتہ اللہ علیہ کی ادائے دلبرانہ ملاحظہ ہو کہ ایک شخص قینچی کا تحفہ پیش کرتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: "مجھے اس کی ضرورت نہیں، یہ پارہ پارہ کرتی ہے۔ مجھے سوئی دے دو، کیونکہ میں دلوں کو جوڑنے آیا ہوں، توڑنے نہیں۔"

تعلیم یہی تھی کہ برائی کا جواب اچھائی میں دیا جائے۔ اپنے مشائخ کی طرح حضرت فرید الدین بھی حکام اور امراء سے میل ملاپ پسند نہ کرتے اور مریدوں کو بھی اس کی تلقین فرماتے۔ آپ کے دروازے عوام کے لیے دن رات کھلے رہتے۔

پاکپتن (اجودھن) میں اشاعتِ اسلام اور قبائل کی بیعت

حضرت فرید الدین نے اپنے مشائخ کے سلسلۂ تبلیغ کو آگے بڑھایا۔ اجودھن (موجودہ پاکپتن) کا خطہ کفارِ ہند کا خصوصی علاقہ تھا۔ وہاں آپ کی تشریف آوری سے کایا پلٹ گئی۔ ہندو جوق در جوق آغوشِ اسلام میں آئے اور آپ کی ارادت کا دم بھرنے لگے۔ وہاں کے راجہ جوگی سمجھوناتھ نے بھی اسلام قبول کیا، اور آپ نے اسے مقامِ ولایت تک پہنچایا۔

مولوی محمد شفیع اپنی کتاب "پنجاب میں اسلام کیسے پھیلا" میں لکھتے ہیں کہ آپ غیر مسلموں میں بھی بڑے محترم تھے۔ بہت سے قبائل نے آپ کی سیرت و تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا تھا۔ یہ قبائل سولہ تھے۔ چند قبائل یہ ہیں: وٹو، کھیچی، سیال، گھڑ، بھٹی، کھرل اور بھٹہ وغیرہ۔

صوفیاء کا برصغیر کی تہذیب پر اثر اور خانقاہی نظام

ہم سمجھتے ہیں کہ مشائخِ چشتیہ نے برصغیر کے ماحول کو اپنے ماحول کے مطابق کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ یہاں ذات پات اور اونچ نیچ کا جو فلسفہ صدیوں سے چل رہا تھا اور انسانوں کو بانٹ کر مہین و کمین میں تقسیم کر رکھا تھا، اسلامی تعلیمات اس پر کاری ضرب تھیں۔ مگر یہ ضرب سب سے زیادہ صوفیاء نے لگائی، کیونکہ وہ عوام میں گھل مل گئے اور دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم لگانے میں مصروف ہو گئے۔

ان کی خانقاہیں ایسے مراکز تھیں جہاں دلوں کا علاج ہوتا تھا، مگر یہ خانقاہیں زندگی کے حقائق سے فرار ہونے والوں کی جائے پناہ نہیں تھیں بلکہ علم و دانش کی یونیورسٹیاں تھیں، جہاں اعمال و افعال کو عقل و فکر کے حسین سانچے میں ڈھالا جاتا تھا۔ وہاں جدید علوم بھی تھے اور اخلاقِ کریمانہ بھی۔ وہاں انسانیت کے غموں کا علاج بھی تھا اور بشریت کی لغزشوں کا مداوا بھی۔ وہاں روحانی سکون بھی تھا اور ذہنی جِلا کا سامان بھی۔

ہمارے عظیم ولی نے ان سب روایات کو جب اجودھن میں زندہ فرمایا تو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی اس روشنی کی طرف پروانہ وار لپکے، کیونکہ وہی تو انسان ساختہ نظاموں کی چکی میں بے بسی سے پس رہے تھے، جو ہندو معاشرے میں ضم نہیں ہو سکتے تھے۔ اولیائے اُمت نے ان کی دستگیری فرمائی تو وہ اسلام کی طرف لپکے، اور برصغیر کی آبادی کے وسیع سمندر میں اسلام کی نورانی لہریں بھی پھیلنے لگ گئیں، کیونکہ یہ لہریں عقل، علم اور شعور و آگہی لے کر آئی تھیں۔

(تذکرۂ خواجگانِ چشت، از حکیم محمد حسین، ص 104)

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0