بزمِ آخر کا شمع فروزاں ہوا
نور اول کا جلوہ ہمارا نبی ﷺ
بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں
شمع وہ لے کے آیا ہمارا نبی ﷺ
قرنوں بدلی رسولوں کی ہوتی رہی
چاند بدلی سے نکلا ہمارا نبی ﷺ
ملکِ کونین میں انبیاء تاجدار
تاجداروں کا آقا ہمارا نبیﷺ
عطائے خداوندی سے قیامت تلک اور قلم کی حرمت سے والضحی کے جلوؤں کو عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ بیان کرتے رہیں گے۔ حضور خاتم النبیین ﷺ کی شانِ اقدس بیان کرنے کے لیے اگر دنیا میں موجود سبھی سمندروں کی سیاہی اور سبھی درختوں کے قلم بن جائیں، یقیناً تب بھی شانِ خاتم الرسل ﷺ بیان کرنے کا حق ادا نہ ہو سکے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تخلیق کے لحاظ سے اوّل بنایا ہے اور بعثت کے لحاظ سے آخر بنایا ہے۔ آپ ﷺ نے دنیا میں جلوہ فرما ہوکر عمارتِ نبوت کو اکملیت عطا فرما دی، اور اب تا قیامت کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔
عقیدۂ ختمِ نبوت: قرآنی نصوص اور احادیثِ مبارکہ
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
(سورۃ الأحزاب: آیت 40)
قرآنِ مجید، فرقانِ حمید نے واضح طور پر حضور ﷺ کے لیے ختم الرسل اور خاتم النبیینﷺ کے خطابات کا اعلان کر کے ابد تک کے لیے مہرِ تصدیق ثبت فرما دی ہے، اور جو بزمِ آخر کے شمعِ فروزاں کا منکر ہے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے اور دینِ اسلام میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں۔
یاد رہے کہ حضورِ اقدس ﷺ کا آخری نبی ہونا قطعی ہے، اور یہ قطعیت قرآن، حدیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ قرآنِ مجید کی صریح آیت بھی موجود ہے، اور احادیث تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں، اور امت کا اجماعِ قطعی بھی ہے۔ ان سب سے ثابت ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ سب سے آخری نبی ہیں، اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔ جو حضورِ پُرنور ﷺ کی نبوت کے بعد کسی اور کو نبوت ملنا ممکن جانے، وہ ختمِ نبوت کا منکر، کافر اور اسلام سے خارج ہے۔
خود جنابِ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي
اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بلا شک و شبہ حضور ﷺ پر سلسلۂ نبوت و رسالت ختم ہو گیا ہے، اور اب کوئی نبی یا رسول نہیں آ سکتا۔ اگر کوئی دعویٰ کرے تو وہ قرآن و حدیث کی رو سے سراسر کذاب ہے۔ نبوت کے جھوٹے دعویداروں نے ہر دور میں سر اٹھایا ہے، اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں سے ہر دور میں ان کذابوں کو منہ کے بل روندا ہے، اور ان شاء اللہ قیامت تک محافظانِ عقیدۂ ختمِ نبوت ان کذابوں کا قلع قمع کرتے رہیں گے۔
( فتاویٰ رضویہ، رسالہ: جزاءُ اللهِ عَدُوَّهُ بإظهارِ ختمِ النبوة، جلد 15، صفحہ 630)
فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں ختمِ نبوت کا حکم
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اللہ عزوجل سچا، اور اس کا کلام سچا۔ مسلمان پر جس طرح لَا إِلٰهَ إِلَّا الله ماننا، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو احد، صمد، لَا شَرِيكَ لَهُ (یعنی ایک، بے نیاز اور اس کا کوئی شریک نہ ہونا) جاننا فرضِ اوّل و مناطِ ایمان ہے، یونہی مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ ماننا، اور ان کے زمانے میں خواہ ان کے بعد کسی نبیِ جدید کی بعثت کو یقیناً محال و باطل جاننا فرضِ اجل اور جزءِ ایقان ہے۔"
مزید ارشاد فرماتے ہیں:
وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ نصِ قطعیِ قرآن ہے۔ اس کا منکر، نہ صرف منکر بلکہ شبہ کرنے والا، نہ شاک، کہ ادنیٰ ضعیف احتمالِ خفیف سے وہمِ خلاف رکھنے والا، قطعاً اجماعاً کافر، ملعون، مخلد فی النیران (یعنی ہمیشہ کے لیے جہنمی) ہے۔ نہ ایسا کہ وہی کافر ہو، بلکہ جو اس کے عقیدۂ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے، وہ بھی کافر، اور جو اس کے کافر ہونے میں شک و تردد کو راہ دے، وہ بھی کافر، بَيِّنُ الْكُفْرِ، جَلِيُّ الْكُفْرَانِ (یعنی واضح کافر اور اس کا کفر روشن) ہے۔
فتنۂ قادیانیت کا تعاقب اور اعلیٰ حضرت کا موقف
برصغیر پاک و ہند میں جب قادیانی فتنے نے جنم لیا اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے انکاری سامنے آئے تو اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، پروانۂ شمعِ رسالت، عاشقِ صادق، الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ اور آپ کے خاندان نے بھرپور انداز میں مرزا قادیانی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے کافر و مرتد قرار دیا، اور منکرینِ ختمِ نبوت اور فتنۂ قادیانیت کے رد میں سینکڑوں فتاویٰ تحریر فرمائے، جبکہ کئی معتبر و مصدقہ رسائل بھی اس باطل کے رد و ابطال میں تحریر فرمائے۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے 1320ھ میں السُّوءُ وَالْعِقَابُ عَلَى الْمَسِيحِ الْكَذَّابِ کے صفحہ 62 پر ایسی تحریر فرمائی جس کو پڑھ کر غیرتِ ایمانی تڑپ اٹھتی ہے۔ اعلیٰ حضرت، امامِ عشق و محبت، امامِ اہلِ سنت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کو حضور خاتم النبیین ﷺ سے کس قدر محبت تھی۔ اللہ اکبر!
قارئینِ کرام! ملاحظہ فرمائیں:
طبرانی، المعجم الکبیر میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
إِنِّي أَشْهَدُ عَدَدَ تُرَابِ الدُّنْيَا أَنَّ مُسَيْلَمَةَ كَذَّابٌ
بے شک میں ذرّہ ہائے خاکِ تمامِ دنیا کے برابر گواہیاں دیتا ہوں کہ مسیلمہ (جس ملعون نے زمانۂ اقدس میں دعویٰٔ نبوت کیا تھا) کذاب ہے۔
اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں: وَأَنَا أَشْهَدُ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ
یا رسول اللہ ﷺ! میں بھی گواہی دیتا ہوں، اور محمد ﷺ کی بارگاہِ عالم پناہ کا یہ ادنیٰ کتا، بعددِ دانہ ہائے ریگ و ستارہ ہائے آسمان گواہی دیتا ہے، اور میرے ساتھ تمام ملائکۂ سموات و الارض، حاملانِ عرش گواہ ہیں، اور خود عرشِ عظیم کا مالک گواہ ہے۔
وَكَفَىٰ بِاللّٰهِ شَهِيدًا (اور اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے۔)
کہ ان اقوالِ مذکورہ کا قائلِ بے باک کافر، مرتد اور ناپاک ہے۔
قارئینِ کرام! آئیں، امامِ اہلِ سنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ اس گواہی میں شامل ہو جائیں کہ سرکارِ دو عالم ﷺ کے بعد جو بھی مدعیِ نبوت ہوگا، وہ کھلا کافر اور مرتد ہے۔
ردِّ قادیانیت پر اعلیٰ حضرت کی اہم تصانیف
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے قادیانیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بنیاد رکھی۔ مسئلۂ ختمِ نبوت اور ردِّ مرزائیت کے موضوع پر کئی بلند پایہ کتب تصنیف فرمائیں۔ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی چند کتب، جو مرزا قادیانی کی زندگی میں اس کی تردید کے لیے طبع ہو کر منصۂ شہود پر جلوہ گر ہو چکی تھیں،مگر مرزا لعین کو زندگی بھر ان کا جواب لکھنے کی جرأت نہ ہو سکی۔ اُن کے اسماء درج ذیل ہیں۔
1. حسام الحرمين على منحر الكفر والمين (1320ھ): علمائے حرمین شریفین کی تصدیقات پر مبنی معرکہ آرا فتویٰ۔
2. خلاصہ فوائدِ فتاویٰ (1324ھ): علمائے حرمین کے فتاویٰ کا خلاصہ جو مطبعِ اہلِ سنت بریلی سے شائع ہوا۔
3. قہر الدیان علی مرتد بقادیان (1323ھ): اس رسالے میں آپ نے مرزا قادیانی کے شیطانی الہامات اور اس کی کتب کے کفریہ اقوال کا بطلان فرمایا۔
4. الرسالة المبین ختم النبیین (1326ھ): قادیانیوں کی جانب سے لفظ "خاتم النبیین" کی من گھڑت تاویلات کے جواب میں تحریر کردہ علمی شاہکار۔
5. الجزار الدیان علی المرتد القادیان (1340ھ): اپنے وصال سے محض ایک ماہ قبل (3 محرم الحرام 1340ھ) تحریر کردہ رسالہ۔
6. جزاءُ اللهِ عَدُوَّهُ بإظهارِ ختمِ النبوة (1317ھ): اس تصنیف میں عقیدۂ ختمِ نبوت پر 120 احادیثِ مبارکہ اور ائمہ کی 30 تصریحات جمع فرمائیں۔
اعلیٰ حضرت نے فتویٰ دیتے ہوئے صراحت فرمائی:
حضورِ پُرنور، خاتم النبیین، سید المرسلین ﷺ کا خاتم، یعنی بعثت میں آخرِ جمیع انبیاء و مرسلین بلا تاویل و تخصیص ہونا ضروریاتِ دین سے ہے۔ جو اس کا منکر ہو، یا اس میں ادنیٰ شک و شبہ کو بھی راہ دے، کافر و مرتد ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، ج 6، ص 57)
قادیانیوں کا سماجی بائیکاٹ اور اعترافِ شکست
امامِ اہلِ سنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے مرزا قادیانی کے افکار کا بھرپور علمی رد کیا اور شہر بریلی میں مرزائیوں کا ناطقہ بند کر دیا۔ اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ ہی وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے قادیانیوں کا کھل کر اس وقت سماجی بائیکاٹ خود بھی کیا اور بائیکاٹ کی بھرپور تحریک بھی چلائی۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی جانب سے مرزائیوں کی پُرزور تردید کا اعتراف قادیانی اخبار الحکم، مؤرخہ 10 اکتوبر 1905ء میں بریلی کے رہائشی مرزائیوں اور خود مدیرِ الحکم نے بھی کیا ہے۔ اسی طرح یہ اعتراف قادیانی اخبار البدر نے بھی مؤرخہ 16 اگست 1906ء میں ایک مراسلہ شائع کر کے کیا۔
المختصر! یہ کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ منکرینِ ختمِ نبوت اور ردِّ قادیانیت کے مقابل مردِ مجاہد کی حیثیت سے میدانِ عمل میں اترے اور اس فتنے کا سر اپنے قلم سے قمع کیا۔ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی بھرپور کاوشوں اور مسلسل جدوجہد کو ہر موافق و مخالف تسلیم کرتا ہے، اور بلاشبہ تحفظِ عقیدۂ ختمِ نبوت میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کا اسمِ مبارک اولین صف میں شمار کیا جاتا ہے۔
مدحتِ خاتم النبیین ﷺ میں اعلیٰ حضرت کے اشعار
اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے ختمِ نبوت کے مضمون کو نعت میں بھی نہایت حسین پیرائے میں بیاں فرمایا:
فتحِ بابِ نبوت پہ بے حد درود
ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام
مطلعِ ہر سعادت پہ اسعد درود
مقطعِ ہر سیادت پہ لاکھوں سلام
اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے ختمِ نبوت کے مضمون کو نہایت باریکی سے دیکھا اور فصاحت و بلاغت کی انتہاؤں کو چھوتے ہوئے نہایت حسین اور دلکش پیرائے میں ایک نعت کہی:
سب سے اوّل، سب سے آخر
ابتدا ہو، انتہا ہو
تھے وسیلے سب نبی
تم اصلِ مقصودِ ہدیٰ ہو
پاک کرنے کو وضو تھے
تم نمازِ جانفزاء ہو
سب بشارت کی اذاں تھے
تم اذاں کا مدعا ہو
سب تمہاری ہی خبر تھے
تم مؤخر، مبتدا ہو
قربِ حق کی منزلیں تھے
تم سفر کا منتہیٰ ہو
آخر میں حضورِ اکرم ﷺ کی نبوت کی اکملیت اور خاتمیت کا تذکرہ یوں کیا:
آتے رہے انبیا، کما قیل لہم
والخاتم حقکم کہ خاتم ہوئے تم
یعنی جو ہوا دفترِ تنزیل تمام
آخر میں ہوئی مہر کہ اكملت لكم
تبصرے 0