کالمز

اسلام میں حکمرانی اور عدل و انصاف کا تصور

سروری در دینِ ما خدمت گری است

عدلِ فاروقی و فقرِ حیدری است

آن مسلماں کہ مِیری کرده‌اند

شہنشاہی فقیری کرده‌اند

در امارت فقر را افزوده‌اند

مثلِ سلمان در مدائن بوده‌اند

حکمرانے بود و سامانے نداشت

دستِ او جز تیغ و قرآنی نداشت

حضرت علامہ اقبال کے ان اشعار کا مطلب و مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ ہمارے دینِ اسلام میں بادشاہی کا تصور نبی اکرم ﷺ کی امت کی بھلائی اور خیرخواہی چاہنا ہے۔ نیز حکمرانوں کے گفتار و کردار میں عدلِ فاروقی اور فقرِ حیدری کی جھلک نظر آنی چاہیے۔ اس پر مسلمانوں کا تابناک ماضی گواہ ہے کہ مسلم حکمرانوں نے بادشاہی میں فقیری کی۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے حکمران اس ذمہ داری پر فائز ہونے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ فقیر ہو گئے۔ اس دعویٰ پر دلیل چاہتے ہو تو مدائن کے گورنر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت و کردار کا مطالعہ کرو۔ (یعنی مدائن میں آنے والا ایک اجنبی تاجر، مدائن کے گورنر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عام مزدوری کرنے والے شخص کے درمیان فرق نہ کر سکا اور انہیں مزدور سمجھ کر اپنا سامان اٹھانے کے لیے کہہ دیتا ہے۔)

اسی طرح ہمارے روشن ماضی کا ایک اہم باب یہ ہے کہ مسلمان حکمرانوں کا سہارا دو ہی چیزیں ہوتی تھیں۔ قرآنِ کریم اور تلوار۔ (تلوار اس لیے تا کہ نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا راستہ صاف کرے، اور قرآن اس لیے تا کہ تلوار کو ظلم کی راہ پر نہ چلنے دے۔)

ان اشعار میں حضرت علامہ نے مسلم حکمرانوں کی سیرت و کردار اور فرائض و ذمہ داریوں کا بیان فرمایا ہے۔ اسلام میں حکمرانی لوٹ کھسوٹ، ظلم و جبر، تکبر و رعونت، اقرباء پروری، گندے اور برے نظریات پھیلانے کا نام نہیں، بلکہ مسلمان حکمران کو اقبال کے بقول ان صفات کا مظہر ہونا چاہیے۔

 ضعیف اگر نظر پڑے، رسولﷺ کا جمال بن 

 قوی اگر ہو سامنے، قہرِ ذوالجلال بن 

 خدا کے آگے سر جھکا کہ سرکشوں کا سر جھکے 

 قضا ستم گروں کی ہو، ستم زدوں کی ڈھال بن 

مسلم حکمران اسلام سے پہلو تہی کرنے کی بجائے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح اپنا سب کچھ اسلام ہی کو سمجھیں۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب شجرۂ نسب پوچھا جاتا تو فرماتے: " سلمان بن اسلام بن اسلام" ، یعنی میرا سب کچھ دینِ اسلام ہی ہے۔ فرنگی چمک دمک سے متاثر آنکھیں اسلامی عدل و انصاف کے واقعات پڑھیں تو ہو سکتا ہے کہ دیمک زدہ فرنگی تہذیب کا غازہ چڑھا ہوا اصلی چہرہ انہیں نظر آ جائے۔

 نہ کر افرنگ کا اندازہ اس کی تابناکی سے 

 ہے بجلی کے چراغوں سے اس جوہر کی براقی 

مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے ایک عام آدمی پر ظلم و ستم کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں تو یہ بات حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچ جاتی ہے۔ آپ باپ بیٹے دونوں کو مدینہ منورہ طلب فرماتے ہیں اور مجلسِ قصاص منعقد ہوتی ہے۔ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان الفاظ سے مظلوم کو درہ پکڑاتے ہیں کہ: "اے مظلوم! بغیر جھجک کے اس معزز کے بیٹے سے اپنا بدلہ لے۔" جب مظلوم اپنا قصاص لے چکا تو حضرت فاروقِ اعظمؓ اسے گورنرِ مصر حضرت عمرو بن العاصؓ کو بھی مارنے کا حکم دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی اچھی طریقے سے تربیت کیوں نہ کی؟ لیکن وہ مظلوم حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہہ کر معاف کر دیتا ہے کہ جس نے مجھ پر زیادتی کی تھی، میں نے اس سے بدلہ لے لیا ہے۔

آخر میں حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہیں: "اے عمرو بن العاص! لوگوں کو تو ماؤں نے آزاد جنا ہے، آپ نے انہیں کب سے غلام بنانا شروع کر دیا ہے؟"

اسی طرح ترکستان میں دریائے سیحون کے کنارے واقع شہر خُجند میں ایک معمار تھا جس کا نام فنِ تعمیر میں بہت بلند تھا۔ حضرت سلطان مراد نے اس معمار کو ایک مسجد تعمیر کرنے کے لیے مقرر فرمایا۔ (آج کے حکمران فوڈ اسٹریٹ، میوزیکل پروگرام اور گراؤنڈ تعمیر کراتے ہیں، اسی لیے ساری قوم انہی چیزوں کی طرف مائل ہو گئی۔ النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُوكِهِمْ، رعایا اپنے بادشاہوں کی راہوں پر چلتی ہے۔) جب مسجدِ مبارکہ مکمل ہوئی تو حضرت سلطان مراد اسے دیکھنے کے لیے آئے۔ آپ کو معمار کا فنِ تعمیر پسند نہ آیا تو غصے میں خنجر سے معمار کا ہاتھ کاٹ ڈالا۔ اس سے آگے حضرت علامہ کی زبانی سنیے! پھر اپنی زبان سے غیروں کی تعریف و توصیف کرنے کی بجائے نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے ترانے پڑھیے!

 جوئے خون از ساعدِ معمار رفت 

 پیشِ قاضی ناتواں و زار رفت 

مظلوم معمار کی کلائی سے خون کے فوارے جاری ہیں۔ اس حال میں وہ فریاد لے کر قاضی کے سامنے گیا۔

 گفت اے پیغامِ حق گفتارِ تو 

 حفظِ آئینِ محمدﷺ کارِ تو 

آپ کی زبان اللہ تعالیٰ کے پیغامِ حق (قرآنِ مجید) کی ترجمان ہے اور حضور نبی کریم ﷺ کے دینِ متین کا تحفظ آپ کی آئینی ذمہ داری ہے۔

 خفتہ گوشِ سطوتِ شاہاں نیم 

 قطع کن از روئے قرآن دعویم 

میں بادشاہوں کے کروفر کا غلام نہیں ہوں، میں تو غلامِ مصطفیٰ ﷺ ہوں۔ اس لیے قرآنِ مجید کے مطابق میرا فیصلہ کیجیے۔

 قاضی عادل بدنداں خستہ لب

 کرد شہ را در حضورِ خود طلب 

یہ دردناک منظر دیکھ کر غصے سے قاضی ہونٹ کاٹنے لگا، پھر فوراً بادشاہ کو اپنے حضور طلب کیا۔

 رنگِ شہ از ہیبتِ قرآن پرید 

 پیشِ قاضی چوں خطاکاراں رسید 

قرآنِ مجید کی ہیبت و جلال کی وجہ سے سلطان مراد کا رنگ اُڑ گیا اور مجرموں کی طرح قاضی صاحب کے سامنے پیش ہو گیا۔

 از خجالت دیدہ بر پا دوختہ

 عارضِ او لالہ با اندوختہ 

شرمندگی کی وجہ سے اس کی نگاہ پاؤں پر جمی تھی اور اس کے رخسار سرخ ہو رہے تھے۔

 یک طرف فریادیِ دعویٰ گرے 

 یک طرف شہنشہِ گردوں فرے 

قاضی کی عدالت میں ایک طرف فریادی اپنا دعویٰ لیے کھڑا تھا اور دوسری طرف جاہ و جلال کا مالک بادشاہ کھڑا تھا۔

 گفت شہ از کردہ خجالت بردہ‌ام 

 اعتراف از جرمِ خود آوردہ‌ام 

بادشاہ نے کہا: میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں اور مجھے اپنے جرم کا اعتراف ہے۔

 گفت قاضی فی القصاص آمد حیوۃ 

 زندگی گیرد بدیں قانون ثبات 

قاضی نے کہا: قرآنِ مجید نے قصاص کو زندگی قرار دیا ہے۔ اسی قانون پر عمل کر کے زندگی استحکام حاصل کر سکتی ہے۔

 عبدِ مسلم کمتر از احرار نیست 

 خونِ شہ رنگیں‌تر از معمار نیست 

 مسلمان غلام، آزاد سے کم نہیں، اور بادشاہ کا خون معمار کے خون سے زیادہ سرخ (قیمتی) نہیں۔

 چوں مراد ایں آیۂ محکم شنید 

 دستِ خویش از آستیں بیرون کشید 

 سلطان مراد نے قرآنِ مجید کا حکم سنتے ہی اپنا ہاتھ قاضی کے سامنے پیش کر دیا۔

 مدعی را تابِ خاموشی نماند 

 آیۂ بالعدل والإحسان خواند 

مدعی عدل و انصاف کا یہ منظر دیکھ کر خاموش نہ رہ سکا، فوراً عدل و احسان کی آیت پڑھی۔

 إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ 

 گفت از بہرِ خدا بخشیدمش 

 بہرِ مصطفیٰ ﷺ بخشیدمش 

میں نے اللہ تعالیٰ جلَّ جلالہ اور نبی کریم ﷺ کی خاطر بادشاہ کو معاف کر دیا۔

 یافت مورے بر سلیمانے ظفر 

 سطوتِ آئینِ پیغمبر نگر 

نظامِ مصطفیٰ ﷺ کی برکت دیکھ کر چیونٹی نے سلیمانؑ پر فتح پائی۔

 پیشِ قرآن بندہ و مولا یکی است 

 بوریا و مسندِ دیبا یکی است 

نبیِ پاک ﷺ کے نظام میں قوی و ضعیف برابر ہیں۔ کوئی بوریا نشین ہو یا تختِ شاہی کا وارث، ان میں کوئی فرق نہیں۔

اسی خیر و برکت والے نظام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت علامہ فرماتے ہیں:

 وہ پرانے چاک عقل جن کو سی سکتی نہیں 

 عشق سیتا ہے انہیں بے سوزن و تار فور 

اسی نظام کی برکت تھی کہ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے: حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہمارے سردار ہیں، اور جن کو انہوں نے آزاد کیا (حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ) وہ بھی ہمارے سردار ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے علماء و مشائخِ عظام اور عوام الناس کو چھوٹی اور بڑی برائی کے بھنور سے نکل کر نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے عملی نفاذ کے لیے جہدِ مسلسل کرنی چاہیے۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0