کالمز

اسلام میں حکمرانی اور عدل و انصاف کا تصور: سیرتِ فاروقی، اقوالِ اقبال

اسلام میں حکمرانی اور عدل و انصاف کا تصور

اسلام میں حکومت اور اقتدار کوئی طاقت کا مظاہرہ، لوٹ کھسوٹ یا رعونت کا نام نہیں، بلکہ یہ محض خلقِ خدا کی خدمت اور انصاف کی فراہمی کا ایک بھاری ذمہ دارانہ عہدہ ہے۔

حکمرانی کے اس حقیقی تصور کو مفکرِ اسلام حضرت علامہ محمد اقبال نے اپنے اشعار اور اکابرینِ اسلام کے تاریخی واقعات کے ذریعے نہایت خوبصورت انداز میں پیش فرمایا ہے۔

سروری در دینِ ما خدمت گری است عدلِ فاروقی و فقرِ حیدری است

آن مسلماں کہ مِیری کرده‌اند شہنشاہی فقیری کرده‌اند

در امارت فقر را افزوده‌اند مثلِ سلمان در مدائن بوده‌اند

حکمرانے بود و سامانے نداشت دستِ او جز تیغ و قرآنی نداشت

اشعار کا مفہوم و تشریح:

  • ہمارے دینِ اسلام میں حکمرانی اور امارت کا اصل مقصد نبی اکرم ﷺ کی امت کی بھلائی اور خیر خواہی چاہنا ہے۔

  • مسلم حکمرانوں کے گفتار و کردار میں عدلِ فاروقی اور فقرِ حیدری کی جھلک نمایاں ہونی چاہیے۔

  • تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کے حکمرانوں نے اقتدار میں آ کر بادشاہی کے بجائے فقیری کو ترجیح دی اور ان کے تقویٰ میں اضافہ ہوا۔

  • اس کی زندہ مثال حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں؛ مدائن کا گورنر ہونے کے باوجود ان کے پاس کوئی دنیاوی سامان نہ تھا۔ مدائن میں آنے والا ایک اجنبی تاجر، گورنر اور عام مزدور کے درمیان فرق نہ کر سکا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مزدور سمجھ کر اپنا سامان اٹھانے کا کہہ دیا۔

  • مسلمان حکمرانوں کا اصل سہارا دو ہی چیزیں ہوتی تھیں: تلوار (تاکہ نظامِ مصطفیٰ ﷺ کی راہ میں آنے والی رکاوٹیں دور ہوں) اور قرآنِ مجید (تاکہ تلوار کبھی ظلم کی راہ پر نہ اٹھے)۔

مسلم حکمران کا کردار: ستم گروں کی ڈھال

اسلامی ریاست کا حکمران اسلام سے پہلو تہی کرنے کے بجائے حضرت سلمان فارسیؓ کی طرح اپنا سب کچھ دین کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ حضرت سلمان فارسیؓ سے جب شجرۂ نسب پوچھا جاتا تو فرماتے:

"سلمان بن اسلام بن اسلام" (یعنی میرا سب کچھ دینِ اسلام ہی ہے)۔

فرنگی چمک دمک سے متاثر آنکھیں اگر اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو مغرب کی دیمک زدہ تہذیب کی حقیقت آشکار ہو جائے گی۔

نہ کر افرنگ کا اندازہ اس کی تابناکی سے ہے بجلی کے چراغوں سے اس جوہر کی براقی

اگر حکمران بااختیار ہو تو اسے علامہ اقبال کے اس معیار پر پورا اترنا چاہیے:

ضعیف اگر نظر پڑے، رسولﷺ کا جمال بن قوی اگر ہو سامنے، قہرِ ذوالجلال بن

خدا کے آگے سر جھکا کہ سرکشوں کا سر جھکے قضا ستم گروں کی ہو، ستم زدوں کی ڈھال بن

اسلامی عدل کے تاریخی واقعات:

1. سیدنا فاروقِ اعظمؓ اور مصر کے گورنر کا واقعہ

مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے نے ایک عام آدمی (قبطی) پر زیادتی کی، تو یہ فریاد مدینہ منورہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچی۔

آپ رضی اللہ عنہ نے فوری طور پر باپ اور بیٹے دونوں کو مدینہ طلب کیا اور مجلسِ قصاص قائم کی۔ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے مظلوم کو درہ تھما کر ارشاد فرمایا:

"اے مظلوم! بغیر کسی جھجک کے اس معزز کے بیٹے سے اپنا بدلہ لے۔"

مظلوم نے اپنا قصاص لے لیا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو تاریخی تنبیہ فرمائی:

"اے عمرو بن العاص! لوگوں کو تو ان کی ماؤں نے آزاد جنا تھا، تم نے انہیں کب سے غلام بنانا شروع کر دیا؟"

2. سلطان مراد اور معمار کا تاریخی کیس (قاضی کی عدالت)

ترکستان کے شہر خُجند کے ایک ماہر معمار نے سلطان مراد کے حکم پر ایک مسجد تعمیر کی۔ جب مسجد مکمل ہوئی تو سلطان کو اس کی ساخت پسند نہ آئی اور اس نے غصے میں معمار کا ہاتھ کاٹ دیا۔

معمار فریاد لے کر قاضی کی عدالت میں پہنچ گیا۔ اس پر علامہ اقبال کے اشعار پیشِ خدمت ہیں:

جوئے خون از ساعدِ معمار رفت

پیشِ قاضی ناتواں و زار رفت

(مظلوم معمار کلائی سے بہتے خون کے ساتھ فریاد لےکر قاضی کے پاس گیا)

گفت اے پیغامِ حق گفتارِ تو

حفظِ آئینِ محمدﷺ کارِ تو

(اس نے عرض کی: آپ کی زبان اللہ تعالیٰ کے پیغامِ حق (قرآنِ مجید) کی ترجمان ہے اور نبی کریم ﷺ کے دینِ متین کا تحفظ آپ کی آئینی ذمہ داری ہے۔)

خفتہ گوشِ سطوتِ شاہاں نیم

قطع کن از روئے قرآن دعویم

(میں بادشاہوں کے کروفر کا غلام نہیں ہوں، میں تو غلامِ مصطفیٰ ﷺ ہوں، آپ قرآن کے مطابق میرا فیصلہ کریں)

قاضی عادل بدنداں خستہ لب

کرد شہ را در حضورِ خود طلب

(قاضی نے غصے میں ہونٹ کاٹے اور فوراً بادشاہ کو عدالت میں طلب کر لیا)

رنگِ شہ از ہیبتِ قرآن پرید

پیشِ قاضی چوں خطاکاراں رسید

(قرآن کی ہیبت سے سلطان کا رنگ اڑ گیا اور مجرموں کی طرح قاضی صاحب کے سامنے پیش ہو گیا۔)

از خجالت دیدہ بر پا دوختہ

عارضِ او لالہ با اندوختہ

(شرمندگی سے بادشاہ کی نگاہیں پاؤں پر جمی تھیں اور رخسار سرخ تھے۔)

یک طرف فریادیِ دعویٰ گرے

یک طرف شہنشہِ گردوں فرے

(قاضی کی عدالت میں ایک طرف فریادی اپنا دعویٰ لیے کھڑا تھا اور دوسری طرف جاہ و جلال کا مالک بادشاہ کھڑا تھا۔)

گفت شہ از کردہ خجالت بردہ‌ام

اعتراف از جرمِ خود آوردہ‌ام

(بادشاہ نے کہا: میں اپنے عمل پر شرمندہ ہوں اور جرم کا اعتراف کرتا ہوں)

گفت قاضی فی القصاص آمد حیوۃ

زندگی گیرد بدیں قانون ثبات

قاضی نے کہا: قرآنِ مجید نے قصاص کو زندگی قرار دیا ہے۔ اسی قانون پر عمل کر کے زندگی استحکام حاصل کر سکتی ہے۔

عبدِ مسلم کمتر از احرار نیست

خونِ شہ رنگیں‌تر از معمار نیست

(مسلمان غلام آزاد سے کم نہیں اور بادشاہ کا خون معمار سے زیادہ قیمتی نہیں)

چوں مراد ایں آیۂ محکم شنید

دستِ خویش از آستیں بیرون کشید

(سلطان مراد نے قرآنِ مجید کا حکم سنتے ہی اپنا ہاتھ قاضی کے سامنے پیش کر دیا۔)

مدعی را تابِ خاموشی نماند

آیۂ بالعدل والإحسان خواند

(مدعی عدل و انصاف کا یہ منظر دیکھ کر خاموش نہ رہ سکا، فوراً عدل و احسان کی آیت پڑھی۔)

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ

گفت از بہرِ خدا بخشیدمش

بہرِ مصطفیٰ ﷺ بخشیدمش

"میں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خاطر بادشاہ کو معاف کر دیا!"

علامہ اقبال اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

یافت مورے بر سلیمانے ظفر

سطوتِ آئینِ پیغمبر نگر

نظامِ مصطفیٰ ﷺ کی برکت دیکھ کر چیونٹی نے سلیمانؑ پر فتح پائی۔

پیشِ قرآن بندہ و مولا یکی است

بوریا و مسندِ دیبا یکی است

نبیِ پاک ﷺ کے نظام میں قوی و ضعیف برابر ہیں۔ کوئی بوریا نشین ہو یا تختِ شاہی کا وارث، ان میں کوئی فرق نہیں۔

نفاذِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ وقت کی اہم ضرورت:

اسی نظام کی برکت تھی کہ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے: حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہمارے سردار ہیں، اور جن کو انہوں نے آزاد کیا (حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ) وہ بھی ہمارے سردار ہیں۔

وہ پرانے چاک عقل جن کو سی سکتی نہیں

عشق سیتا ہے انہیں بے سوزن و تار فور

اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے علماء و مشائخِ عظام اور عوام الناس کو چھوٹی اور بڑی برائی کے بھنور سے نکل کر نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے عملی نفاذ کے لیے جہدِ مسلسل کرنی چاہیے۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0