کالمز

اسلامی شادی کے اصول اور جدید رسم و رواج: سنت کے مطابق نکاح کیسے کریں؟

اسلامی شادی کے اصول
اسلامی شادی کے اصول

اسلامی شادی کے اصول اور آج کے رسم و رواج

نکاح حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے شروع ہونے والی ایک عظیم عبادت، نسلِ انسانی کے وجود میں آنے اور باقی رہنے کا ذریعہ، اور صالحین و عابدین علیہم الرحمہ کی پیدائش کا سبب ہے۔ نکاح اگر اسلامی اصولوں کے مطابق کیا جائے تو شرم و حیا کے حصول کے ساتھ ساتھ فراخ دستی اور خوشحالی کا سبب بھی ہے۔

شریعتِ مطہرہ نے زندگی گزارنے میں ہماری بہترین راہنمائی فرمائی ہے۔ چنانچہ شادی کرنے کا حکم دیا کہ اس میں بڑی برکت و عافیت اور دین و دنیا کی بہتری ہے، بلکہ نکاح سے تنگ دستی بھی دور ہوتی ہے، کیونکہ بیوی بچے اپنے نصیب کا رزق ساتھ لاتے ہیں۔

حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ:

حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "عورتوں سے نکاح کرو، کیونکہ وہ مال (رزق) ساتھ لاتی ہیں۔"

(کنز العمال، کتاب النکاح، الترغیب فیہ، جلد 16، صفحہ 693، مؤسسة الرسالة، بیروت)

نکاح کی مختلف صورتیں اور شرعی احکام

نکاح سنتِ مؤکدہ ہے، لیکن کبھی واجب اور کبھی فرض بھی ہو جاتا ہے، اور کبھی مکروہ اور حرام بھی ہو جاتا ہے۔

چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے کہ اعتدال کی حالت میں، یعنی نہ شہوت کا بہت زیادہ غلبہ ہو، نہ عِنِّین (نامرد) ہو، اور مہر و نفقہ پر قدرت بھی ہو، تو نکاح سنتِ مؤکدہ ہے، کہ نکاح نہ کرنے پر اڑا رہنا گناہ ہے اور اگر حرام سے بچنا، یا اتباعِ سنت و تعمیلِ حکم، یا اولاد حاصل ہونا مقصود ہو، تو ثواب بھی پائے گا اور اگر محض لذت یا قضائے شہوت منظور ہو تو ثواب نہیں۔

شہوت کا غلبہ ہو کہ نکاح نہ کرے تو (معاذ اللہ) اندیشۂ زنا ہو، اور مہر و نفقہ کی قدرت رکھتا ہو، تو نکاح واجب ہے۔ یونہی جبکہ اجنبی عورت کی طرف نگاہ اٹھنے سے رک نہیں سکتا اور(معاذ اللہ) ہاتھ سے کام لینا پڑے تو نکاح واجب ہے۔ اگر یقین ہو کہ نکاح نہ کرنے میں زنا واقع ہو جائے گا تو نکاح فرض ہے کہ نکاح کرے۔ اگر یہ اندیشہ ہو کہ نکاح کرے گا تو نان و نفقہ نہ دے سکے گا یا جو ضروری باتیں ہیں ان کو پورا نہ کر سکے گا تو نکاح مکروہ ہے، اور ان باتوں کا یقین ہو تو نکاح حرام ہے، مگر نکاح ہو جائے گا۔

(بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 7، صفحہ 6، ضیاء القرآن، لاہور)

رشتے کا انتخاب اور دینی معیار

رشتہ کرنے میں دیندار کا انتخاب کرنا چاہیے، مگر آج کل تو دیندار کی بجائے مال و دولت کو دیکھا جاتا ہے، نہ کہ اس کا حسب و نسب، بس رشتہ طے کر دیا جاتا ہے، جو بعد میں جوڑے کی علیحدگی کا بھی باعث بن جاتا ہے۔

اسلام میں رشتہ کرنے کے بارے میں بھی رہنمائی فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ ابنِ ماجہ کی حدیثِ پاک میں ہے کہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"عورت سے چار وجوہ سے نکاح کیا جاتا ہے: اس کے مال، اس کے حسب، اس کی خوبصورتی اور اس کے دین کی وجہ سے، پس تم دین والی کو ترجیح دو۔"

(ابنِ ماجہ، کتاب النکاح، باب تزویج ذات الدین، جلد 1، صفحہ 597، دار إحیاء الکتب العربیۃ)

یہاں پر قارئینِ کرام کی نظر میں ایک نقطہ اجاگر کرنا اہم سے اہم تر سمجھتا ہوں۔ آج کل کے پُرفتن دور میں، جہاں قادیانی (کافر) چھپ کر مسلم، تعلیم یافتہ اور کاروباری حضرات کو اپنی بچیوں کا رشتہ دینے کے ساتھ ساتھ بیرونِ ممالک میں کاروباری آفرز بھی کرتے ہیں، یہ پکے کافر ہیں اور ان سے مسلمانوں کا نکاح ہرگز نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی بد مذہب سے، اور نہ ہی ان سے دیگر معاملات کریں۔

مروجّہ غیر شرعی رسم و رواج کا شرعی جائزہ

آج کل کے رسم و رواج نے نکاح جیسے عظیم فریضے کو بھی مشکل بنا کر رکھ دیا ہے، جو اسلامی اصولوں کے بالکل برعکس ہیں۔ ذیل میں کچھ رسم و رواج پر مختصراً روشنی ڈالی گئی ہے۔

1.منگنی کی رسم:

منگنی کا مطلب ہے شادی کی نسبت لڑکے اور لڑکی کو شادی کے لیے منسوب کرنا۔ منگنی کی حیثیت ایک وعدے کی سی ہے، لہٰذا منگنی سے وہ میاں بیوی نہیں بن جاتے بلکہ اجنبی ہی ہوتے ہیں۔

مگر آج کل منگنی کی رسم میں لڑکی اور لڑکا ایک ساتھ بیٹھتے ہیں اور ایک دوسرے کو انگوٹھی پہناتے ہیں، اور لاکھوں روپے خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ بے حیائی اور غیر شرعی حرکات کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ادھر منگنی ہوئی، ادھر راتوں کو فون پر باتیں، پھر انفرادی ملاقاتیں، جس کی اسلام میں بالکل اجازت نہیں۔

2.رسمِ حنا (مائیوں کی رسم):

اس رسم میں لڑکے کو عورتیں تیل لگاتی ہیں اور لڑکی کو مہندی لگاتی ہیں۔ تیل اور مہندی کی رسم کئی حرام کاموں کا مجموعہ ہے۔ ناچ گانا، نامحرموں کا چھونا، عورتوں اور مردوں کا اختلاط، سب اس رسم میں ہوتا ہے۔

بعض خاندانوں میں تیل مہندی کی رات دوست احباب شغل کے طور پر مل کر دولہے کے کپڑے پھاڑ دیتے ہیں۔ یہ جائز نہیں، کیونکہ ایک تو کپڑوں کا ضیاع ہے اور دوسرا بے حیائی۔

لڑکے کو مہندی لگانا جائز نہیں، البتہ عورت مہندی اور اُبٹن لگا سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔

3. جہیز اور اس کے معاشرتی اثرات

لفظ جہیز "جہز" سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے تیار کرنا، مہیا کرنا۔ ماں باپ اپنی بچی کو شادی پر جو اشیاء دیں، وہ جہیز کہلاتی ہیں۔ جہیز دینا سنت ہے، مگر موجودہ دور میں آزمائش بن چکا ہے کہ اس کے سبب بچیوں کی شادیاں نہیں ہو پاتیں۔

مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ کثرتِ جہیز نے ایسی تکلیف دہ صورت اختیار کر لی ہے کہ جس کی وجہ سے بہت سے والدین کے لیے اپنی لڑکیوں کا رشتہ کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے دن رات کا چین چھن گیا ہے، محض اس وجہ سے کہ رشتہ کرنے والوں کی طرف سے منہ مانگا جہیز نہیں دے سکتے۔ ان کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ اسلامی معاشرے میں اس کو ختم کرنا ضروری ہے۔

اس سلسلے میں بے تحاشا جہیز دینے والے لوگوں کو پہلے قدم اٹھانا چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور اس برائی کو ختم کرنے میں تعاون کریں، اور وہ جہیز کی مقدار کو کم کریں۔

امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے سننِ نسائی میں "آدمی کا اپنی بیٹی کو جہیز دینا" کے تحت حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت نقل فرمائی ہے کہ حضرت سیدنا مولا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جہیز میں ایک لحاف، ایک مشک، اور ایک چمڑے کا تکیہ، جس میں درختِ خرما کی چھال بھری ہوئی تھی، دیا۔

(سننِ نسائی، کتاب النکاح، جهاز الرجل ابنته، جلد 6، صفحہ 135، المطبوعات الإسلامیة، حلب)

آج کل لڑکی والوں سے ڈیمانڈ کی جاتی ہے، اور ڈیمانڈ پوری نہ کرنے کی صورت میں "رشتہ نہیں ہو گا" جیسی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اور اگر نکاح ہو بھی جائے تو طعن و تشنیع سننا پڑتی ہے، اور بالآخر کچھ عرصہ بعد بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے، جس سے معاشرے میں بے پناہ بگاڑ پڑ رہا ہے، اور یہ تمام کام ناجائز اور حرام ہیں۔

یہی نہیں، آج کل تو لڑکی والوں سے موٹر سائیکل، کار، نقد رقم اور ڈھیروں سامانِ جہیز زبردستی مانگا جاتا ہے، جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔ ہاں، اگر لڑکی والے اپنی خوشی سے لڑکی کو جہیز دیں تو جائز ہے۔

4.بارات پر فائرنگ و آتش بازی:

شادی کے مواقع پر بطورِ اعلان فائرنگ کرنا جائز تو ہے، کہ یہ نکاح کے اعلان میں سے ہے، جس کی اجازت ہے، لیکن موجودہ دور میں عموماً فائرنگ بطورِ اعلان نہیں کی جاتی بلکہ بطورِ تفاخر ہوتی ہے، جس میں کئی مرتبہ حادثات بھی ہوتے دیکھے گئے ہیں، اور یہ قانوناً جرم بھی ہے، لہٰذا اس کی اجازت نہیں۔

شادی پر آتش بازی اسراف ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں ہے:

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا

بیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت 27)

ایک جگہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

5.بارات روک کر پیسے لینا:

یہ رسم بارات روکنے کی رائج ہے، جس میں بارات کو عورتیں روک لیتی ہیں اور پیسے لے کر آگے جانے دیتی ہیں۔ یہ رسم جائز نہیں۔ اس رسم میں بے حیائی، بے پردگی، مذاق و تمسخر یقینی ہوتے ہیں۔

حقِ مہر کے شرعی ضوابط

مہر مقرر کرتے وقت بھی شریعت کی پاسداری کرنی چاہیے کہ کم از کم دس درہم، یعنی دو تولہ ساڑھےسات ماشہ (618.30 گرام) چاندی یا اس کی قیمت ہے۔ اس سے کم نہیں ہو سکتا، خواہ سکہ ہو یا ویسی ہی چاندی یا اس قیمت کا کوئی سامان

(بہارِ شریعت، 2/64)

مہر میں اگرچہ کثیر رقم مقرر کرنا جائز ہے، لیکن مناسب رقم مقرر کرنا شرعاً محمود ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

یعنی عورتوں میں سب سے بہتر وہ عورت ہے جس کا مہر بہت ہی آسانی سے ادا کیا جائے۔

(المعجم الکبیر، جلد 11، صفحہ 65، حدیث: 11100)

دیگر مروجّہ رسومات کی شرعی حقیقت

  • جوتا چھپائی اور دودھ پلائی کی رسم:

ان دونوں رسموں میں عموماً بہت بے پردگی اور مذاق و مسخری ہوتی ہے، اس لیے شرعاً ان کی اجازت نہیں، کیونکہ اس میں جوان سالیاں اپنے دولہے کو تنگ کرتی ہیں، جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔

  • گود بٹھائی کی رسم:

جب دلہن اپنے شوہر کے گھر آ جاتی ہے تو چھوٹا دیور اس کے گھٹنے پر بیٹھ کر اس سے پیسے لیتا ہے، جو کہ اپنی اصل کے اعتبار سے سراسر صحیح و درست نہیں۔ ہاں، اگر دیور نابالغ ہو تو حرج نہیں، اگرچہ ایسا کم ہی ہوتا ہے۔

  • داج و وری دکھانا:

داج کا مطلب ہے جہیز۔ لڑکی والوں کی طرف سے جو سامان، کپڑے وغیرہ بنائے جاتے ہیں، اسے داج کہا جاتا ہے، اور لڑکے والوں کی طرف سے جو سامان لڑکی کے لیے تیار کیا جاتا ہے، اسے وری کہا جاتا ہے۔ وری میں لڑکی کے لیے کپڑے، زیور وغیرہ ہوتے ہیں۔

داج و وری کو بارات یا ولیمہ والے دن لوگوں کو دکھایا جاتا ہے۔ داج و وری شرعی طور پر لوگوں کو دکھانا جائز تو ہے، لیکن یہ کئی قباحتوں سے خالی نہیں، جیسے کئی لوگوں کی دکھانے میں نیت فخر کی ہوتی ہے اور دوسروں کو نیچا کرنے کی ہوتی ہے۔ جن کی حیثیت اتنی نہیں ہوتی اور انہوں نے اپنے بچوں کی شادی کرنا ہوتی ہے، وہ یہ سب دیکھ کر غمگین ہوتے ہیں۔

لہٰذا ایسا نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنے سے غریب عزیز و اقارب کے دل دکھتے ہیں، اور دل دکھانا اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب، خاتم النبیین ﷺ کو پسند نہیں۔

سنتِ ولیمہ اور اسراف سے اجتناب

بے شک ولیمہ ایک سنت ہے، اور ایسا ولیمہ جس میں بے شمار ڈشیں، طرح طرح کی فضول خرچیاں ہوں، اور کھانے کا ضیاع حد سے بھی زیادہ ہو، اسراف میں آتا ہے، جو کہ گناہ ہے۔ ایسا کرنا شرعاً منع ہے۔

حضور نبیِ مکرم ﷺ نے حضرت سیدتنا صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمانے کے بعد جو ولیمہ کیا، اس میں نہ گوشت تھا، نہ ہی کوئی روٹی تھی، بلکہ ولیمے کے کھانے میں کھجور اور گھی کا حلوہ تیار کیا گیا۔

(صحیح بخاری، جلد 3، صفحہ 86، حدیث: 4213)

دو عالم کے مالک و مختار ﷺ نے حضرت سیدتنا زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح پر پوری ایک بکری سے ولیمہ کیا۔ ایسا ولیمہ ازواجِ مطہرات میں سے کسی کا نہیں کیا۔ (صحیح بخاری، جلد 3، صفحہ 453، حدیث: 5168)

یعنی تمام ولیموں میں یہ سب سے بڑا ولیمہ تھا، اور اس ولیمہ کے علاوہ باقی ولیموں میں چھوارے، پنیر وغیرہ کھلائے گئے تھے۔

حاصلِ کلام و دعا

یاد رہے! نکاح ایک مقدس فریضہ ہے، اور یہ نسلِ نوعِ انسانی کے وجود کو بڑھانے کا ذریعہ بھی ہے، لہٰذا ہمیں اسلامی اصولوں پر کاربند ہو کر عمل پیرا ہونا چاہیے، اور جن رسم و رواج کی اسلام میں ممانعت ہے، ہمیں ان سے دست بردار اور کنارہ کش ہو کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔

دعا ہے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں کہ اللہ پاک ہمیں نبیِ رحمت، خاتم النبیین والمرسلین ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل پیرا ہو کر زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہِ النبی الامین ﷺ

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0