جس طرح حضور ﷺ کے وجودِ بابرکات کی تعظیم و تکریم ایمان کا مقتضا ہے، اسی طرح حضور ﷺ کے نامِ پاک کی تعظیم و توقیر کا بھی حکم وارد ہوا ہے۔ جیسا کہ صاحبِ کنز العمال نے نامِ پاک ﷺکی تعظیم و تکریم سے متعلق پانچ احادیث نقل فرمائی ہیں، جو درج ذیل ہیں:
(۱) پہلی حدیث:
حضور نبی کریم ﷺ کے نامِ مبارک پر اولاد کا نام رکھنا
حضرت بزار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، وہ روایت کرتے ہیں حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے بچے کا نام محمد رکھو تو اسے مارو مت اور اسے محروم نہ کرو۔
(۲) دوسری حدیث:
آپ ﷺ کے نام والے بچوں کا احترام
حضرت مولائے کائنات، علی المرتضیٰ، شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ الکریم سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے بچے کا نام محمد رکھو تو اس کی تعظیم و توقیر کرو، اور جب وہ مجلس میں پہنچ جائے تو اسے بیٹھنے کی جگہ دو۔
(۳) تیسری حدیث:
آپ ﷺ کے نام والے بچوں کو محروم نہ کرو
حضرت دیلمی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: تم اپنے بچے کا نام محمد رکھو تو اسے محروم مت کرو، کیونکہ "محمد" کے نام میں برکت دی گئی ہے، یہاں تک کہ اس گھر میں بھی برکت دی گئی ہے جس میں محمد نام کا کوئی شخص رہتا ہو۔
(۴) چوتھی حدیث:
آپ ﷺ کے نام والے بچے کو گالیاں دینے سے اجتناب کرنا
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: کس قدر افسوس کی بات ہے کہ تم اپنےبچے کا نام محمد بھی رکھتے ہو اور اُسے گالیاں بھی دیتے ہو۔
(۵) پانچویں حدیث:
آپ ﷺ کے نام والے بچے کو ملعون نہ بنانا
یہ حدیثِ مبارکہ بھی حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، جس میں حضور ﷺ نے فرمایا: تم اپنے بچے کا نام محمد بھی رکھتے ہو اور اس پر لعنت بھی بھیجتے ہو۔
شیخ الاسلام حضرت علامہ حافظ انوار اللہ چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ ان پانچوں احادیث کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں روایات کنز العمال شریف میں ہیں۔ ان تمام روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ نامِ مبارک کی تعظیم، ادب اور احترام کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ کے نام والے بچے کا بھی ادب و احترام کرنا چاہیے۔
تعظیمِ نامِ محمد ﷺ کا ایک ایمان افروز واقعہ:
حضرت ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب حلیہ میں حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک نہایت بدکار شخص تھا۔ اس نے سو برس تک خدا کی ایسی ایسی نافرمانیاں کیں اور خدا کی مخلوق پر ایسے ایسے ظلم ڈھائے کہ لوگ اس سے نفرت کرنے لگے۔ جب اس کا انتقال ہو گیا تو لوگوں نے اس کے ظلم، شقاوت اور بدکاریوں کی وجہ سے اسے اس لائق بھی نہیں سمجھا کہ اسے عزت و اکرام کے ساتھ دفن کریں۔ چنانچہ نہایت حقارت اور ناقدری کے ساتھ لوگوں نے اس کی لاش کو ایک کوڑے خانے پر لا کر پھینک دیا، جہاں گاؤں بھر کی نجاست اور غلاظت ڈالی جاتی تھی۔
وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ تھا۔ خداوندِ ذوالجلال کی طرف سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم صادر ہوا کہ فلاں گاؤں کے کوڑے خانے پر ایک شخص کی لاش پڑی ہوئی ہے، اسے وہاں سے اٹھا کر عزت و تکریم کے ساتھ فوراً کسی قبرستان میں دفن کرو۔
وہاں پہنچنے کے بعد جب لوگوں کے ذریعے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس شخص کی سیاہ کاریوں، ظلم شقاوت کی تفصیل معلوم ہوئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداوندِ قدوس کی بارگاہ میں عرض کی: گاؤں کے سارے لوگ گواہی دے رہے ہیں کہ یہ شخص سو برس کی طویل مدت تک تیری نافرمانی کرتا رہا۔ یہ اپنے زمانے کا بدترین شخص تھا اور یہ کسی عزت و تکریم کے لائق نہیں ہے۔
ارشادِ خداوندی ہوا: لوگ سچ کہتے ہیں، لیکن اس کی صرف ایک خوبی کی وجہ سے میں نے اس کے سارے گناہ بخش دیے اور جنت کی ستر حوروں کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا۔ وہ خوبی یہ تھی کہ جب بھی وہ تورات کھولتا تو نامِ محمد ﷺ کو بوسہ دیتا اور آنکھوں سے لگاتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس عنایتِ بیکراں پر حیران رہ گئے۔
اب اس واقعہ کے ذیل میں شیخ الاسلام حضرت علامہ حافظ انوار اللہ چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ کے یہ گراں قدر جملے ملاحظہ فرمائیے۔ تحریر فرماتے ہیں:
"اگر اس ادب کی وقعت کا خیال کیا جائے تو حق تعالیٰ کو غضب میں لانے والے عمر بھر کے اعمال پر سبقت کر کے سب کو بخشوا لینا اسی کا کام تھا۔ غرض یہ کہ جب ادب کا یہ رتبہ ہو کہ گزشتہ امت والوں کو اس خوبی کے ساتھ سرفراز کرے تو ہم، جو خاص غلام ہیں، اس سے کس قدر توقع ہوگی؟ اس پر بھی اگر نامِ مبارک کو دیکھ کر اور سن کر کبھی بوسہ نہ لیں تو اتنا ضرور چاہیے کہ حق تعالیٰ سے اس کی توفیق طلب کریں۔"
فرمانِ مبارک حضور سیدنا امیر المجاہدین رحمۃ اللہ علیہ
• جب رسول اللہ ﷺ کا مبارک دین تخت پر ہو گا، تب کوئی کسی کا حق نہیں مار سکے گا۔
• آج ہمارے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، بعد میں ہمارے جیسے بھی نہیں ملیں گے۔
• ہماری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، ہماری جنگ کفر اور ان کے چمچے، جو پاکستان پر مسلط ہیں ان سے ہے۔
تبصرے 0