کالمز

نبیِ رحمت ﷺ کی بے زبان جانوروں پر مہربانیاں

ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ربِ کائنات نے ساری کائنات کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، جیسا کہ سورۂ انبیاء کی آیت 107 ہے:

 وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ 

"اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے"

اس آیت کی تفسیر میں نائبِ اعلیٰ حضرت مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے:

کوئی ہو، جن ہو یا انس، مومن ہو یا کافر۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے کہ حضور ﷺ کا رحمت ہونا عام ہے، ایمان والے کے لیے بھی اور اس کے لیے بھی جو ایمان نہ لایا ہو۔ مومن کے لیے تو آپ دنیا اور آخرت دونوں میں رحمت ہیں، اور جو ایمان نہ لایا، اس کے لیے آپ دنیا میں رحمت ہیں کہ آپ کی بدولت عذاب میں تاخیر ہوئی اور خسف، مسخ اور استیصال کے عذاب اٹھا لیے گئے۔

تفسیر روح البیان میں اکابر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمتِ مطلقہ، تامہ، کاملہ، عامہ، شاملہ، جامعہ اور محیطہ بنا کر، جو جمیع مقیداتِ رحمتِ غیبیہ و شہادت، علمیہ و عینیہ، وجودیہ و شہودیہ، سابقہ و لاحقہ وغیرہ تمام جہانوں کے لیے ہے، خواہ عالمِ ارواح ہوں یا عالمِ اجسام، ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول۔ اور جو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہو، لازم ہے کہ وہ تمام جہانوں سے افضل ہو۔

پس معلوم ہوا کہ حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق، بشمول جمیع حیوانات، کے لیے رحمت اور سب پر رحم فرمانے والے ہیں۔

اس تحریر میں حضور ﷺ کا اللہ کریم کی بے زبان مخلوق پر رحمت ہونا احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں بیان کیا جا رہا ہے۔

 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں جانوروں کے حقوق 

مشکوٰۃ شریف، باب آدابِ سفر میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"اپنے جانوروں کی پشت کو منبر نہ بناؤ، (یعنی ان پر سوار ہو کر لوگوں سے بات چیت شروع نہ کر دو، اس حال میں کہ وہ تمہارا بوجھ اٹھائے کھڑے ہوں)، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے تابع کیا ہے تاکہ وہ تمہیں ایسے مقامات تک پہنچا دیں جہاں تم مشقت اٹھائے بغیر نہیں پہنچ سکتے۔ اور تمہارے لیے زمین بنائی ہے، لہٰذا اپنی حاجات اسی پر پوری کرو۔

 جانوروں کا مثلہ کرنے کی ممانعت 

صحیح بخاری شریف، باب ما يُكره من المُثلة میں حدیثِ شریف مروی ہے:

 اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت فرمائے جس نے جانور کا مثلہ کیا (مثلاً اس کے ناک یا کان کاٹے)۔

 جاندار کو نشانہ بنانے کی ممانعت 

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی جاندار کو نشانہ بنانے والے پر لعنت فرمائی۔

نبی کریم ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی جس نے کسی ذی روح کو نشانہ بنایا۔

 جانوروں کو لڑانے کی ممانعت 

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

مشکوٰۃ شریف، کتاب الصید والذبائح

نبی کریم ﷺ نے جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع فرمایا ہے۔

 جانوروں کے منہ کو داغنے کی ممانعت: 

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

نبی کریم ﷺ نے ایک گدھا دیکھا جس کے منہ پر داغ دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس شخص پر جس نے اس جانور کے منہ پر داغ لگایا۔

 (مشکوٰۃ شریف، کتاب الصید) 

 زندہ جانور سے گوشت کاٹنے کی ممانعت: 

حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اس وقت لوگ اونٹوں کے کوہان اور بھیڑوں کی چکیاں کاٹ لیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جو گوشت زندہ جانور سے کاٹا جائے، وہ مردار (حرام) ہے۔

 (مشکوٰۃ شریف، کتاب الصید) 

 جانوروں کو بھوکا پیاسا رکھنے پر وعیدِ شدید: 

حضرت سہل بن حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

نبی کریم ﷺ ایک ایسے اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی پیٹھ بھوک اور پیاس کی وجہ سے پیٹ سے لگ گئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان بے زبان جانوروں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ ان پر اس وقت سوار ہوا کرو جب وہ اس قابل ہوں، اور اسی ( اچھی حالت) میں انکو چھوڑا کرو۔

 (مشکوٰۃ کتاب الصید)

 صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ایک عورت اس وجہ سے دوزخ میں گئی کہ اس نے ایک بلی کو باندھ دیا، نہ اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے وغیرہ کھا لیتی، یہاں تک کہ وہ بھوک اور پیاس کی وجہ سے مر گئی۔

 پیاسے کتے کو پانی پلانے پر بخشش: 

الأدب المفرد، باب رحمة البهائم میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

ایک شخص راستے میں جا رہا تھا۔ اسے سخت پیاس لگی۔ وہ ایک کنویں پر پہنچا، اس میں اترا اور پانی پیا۔ جب باہر آیا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس کے مارے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس شخص نے دوبارہ کنویں میں اتر کر اپنے موزے میں پانی بھرا، اسے اپنے منہ سے پکڑ کر باہر لایا اور کتے کو پلا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ عمل قبول فرما کر اس کی مغفرت فرما دی۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! کیا جانوروں کو کھلانے پلانے میں بھی ہمارے لیے اجر ہے؟ فرمایا: ہر جاندار کو کھلانے پلانے میں اجر ہے۔

 رحمتِ عالم ﷺ کی بارگاہ میں اونٹ کی فریاد: 

سنن ابی داؤد شریف میں حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک باغ میں ایک اونٹ آپ ﷺ کو دیکھ کر رونے لگا۔ آپ ﷺ نے شفقت سے اس کی گردن پر دستِ مبارک پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ ایک انصاری نوجوان کا نام لیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے طلب فرما کر فرمایا: کیا تم اس جانور کےبارے میں اللہ سے نہیں ڈرتے؟ یہ شکایت کر رہا ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے بہت زیادہ کام لیتے ہو۔

 بارگاہِ رحمتِ کائنات ﷺ میں چڑیا کی فریاد: 

مشکوٰۃ شریف میں حدیث درج ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ ہم ایک سفر میں اپنے آقا ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم نے ایک پرندے کے دو بچے پکڑ لیے۔ وہ پرندہ آیا اور بے چینی سے پر پھڑپھڑانے لگا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "کس نے اس کے بچوں کو پکڑ کر اسے ایذا دی ہے؟ اس کے بچے واپس کر دو۔"

 ہرنی کی فریاد: 

امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے دلائل النبوۃ میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان کردہ واقعہ یوں نقل کیا ہے:

نبی کریم ﷺ نے ایک اعرابی کے خیمے کے پاس ایک ہرنی بندھی ہوئی دیکھی۔ آپ ﷺ کو دیکھ کر ہرنی نے عرض کی: "یا رسول اللہ ﷺ! یہ اعرابی مجھے پکڑ کر لے آیا ہے، جبکہ میرے بچے جنگل میں بھوکے ہیں۔ مجھے کھول دیجیے، میں اپنے بچوں کو دودھ پلا کر واپس یہیں آ جاؤں گی۔"

سرکارِ ابدقرار ﷺ نے ہرنی سے واپس آنے کا وعدہ لے کر اسے آزاد کر دیا۔ ہرنی کے جانے کے بعد وہ اعرابی آ پہنچا۔ اس نے شکایت کی کہ آپ نے میرا شکار بھگا دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "فکر نہ کرو، ہرنی ہم سے وعدہ کر کے گئی ہے، ضرور واپس آئے گی۔"

اس نے کہا: "بھاگا ہوا شکار کبھی واپس نہیں آتا۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "اس نے اللہ کے نبی سے وعدہ کیا ہے، ضرور آئے گی۔"

اسی دوران ہرنی واپس آ گئی۔ یہ دیکھ کر وہ اعرابی مسلمان ہو گیا اور ہرنی کو آزاد کر دیا۔

 ہاں، یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاداور یہیں چاہتی ہے ہرنی اولاد 

 اسی در پہ شترانِ ناشاد گلۂ رنج و عنا کرتے ہیں 

 (فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ)

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0