کالمز

پاکستان بنانے والے کون؟ تحریکِ پاکستان میں علماء و مشائخِ اہلِ سنت کا تاریخی کردار

پاکستان بنانے والے کون؟
پاکستان بنانے والے کون؟

اسلام اور آزادی کی تحریکوں میں علماء و مشائخ کا تاریخی کردار

تاریخ شاہد ہے کہ ملتِ اسلامیہ پر جب بھی کوئی مشکل وقت آیا تو علماءِ حق اور مشائخ نے اس کے خلاف جہاد میں امتِ مسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ دین کے فروغ و نفاذ کی ہر کوشش میں وہ ہمیشہ آگے آگے رہے ہیں۔ اسلام اور اس کے شعائر کے خلاف جب کسی نے ہرزہ سرائی کی، انہوں نے للکارا۔ الغرض غیر ملکی تسلط سے ہندوستان کو آزاد کرانے کی تحریک ہو یا اسلامی مملکت کے حصول کی جدوجہد، ہمارے اسلاف اور ان کے لاکھوں عقیدت مندوں نے اپنے خونِ جگر سے ایسی تحریکوں کو پروان چڑھایا اور اس کے ثمرات سے قوم کو متمتع ہونے کا موقع فراہم کیا۔

۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی اور اسلاف کی قربانیاں

۱۸۵۷ء میں درج ذیل اکابر علماء و مشائخ اور ان کے ارادت مندوں نے انگریزی سامراج کا تختہ الٹنے میں جو بیش بہا قربانیاں دیں، ان کے بغیر جنگِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کا تصور بھی ممکن نہیں:

  • علامہ فضلِ حق خیرآبادی

  • مفتی کفایت علی کافی

  • مولانا امام بخش صہبائی

  • مفتی عنایت احمد کاکوری

  • مولانا فیض احمد بدایونی

  • مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی

  • سید وہاج الدین مرادآبادی

  • مولانا نقی علی خان (والدِ ماجد امام احمد رضا)

  • مولانا رضا علی خان (جدِ امجد امام احمد رضا)

تحریکِ جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء محض ایک وقتی اور ہنگامی جذبہ نہ تھا، بلکہ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے ایک منظم پروگرام کی بنیاد تھی، جس نے آگے چل کر تحریکِ پاکستان کا روپ دھارا۔

امام احمد رضا خان بریلوی اور دو قومی نظریے کا احیاء

حضرت شیخ احمد سرہندی کی پیروی کرتے ہوئے امام احمد رضا نے ’’دو قومی نظریہ‘‘ کا احیاء کیا اور اس ضمن میں تحریری دستاویز ۱۳۳۹ھ / ۱۹۲۰ء میں پیش کی۔ ’’دو قومی نظریہ‘‘ ہی یہ نظریہ ہے جس کی بنیاد پر پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔

عہدِ امام احمد رضا اور اس کا ماضیِ قریب اور مستقبل، جو ایک صدی پر پھیلا ہوا ہے، انقلابات کا دور تھا۔ امام احمد رضا انقلابِ ۱۸۵۷ء سے ایک سال قبل بریلی میں پیدا ہوئے اور وہیں تحریکِ ترکِ موالات کے ہنگامی دور میں انتقال ہوا۔ افسوس! کہ آج ہماری تحریکِ آزادی کی تاریخ جس انداز میں پیش کی جا رہی ہے، اس میں تعصب کا عنصر نمایاں ہے۔ جنہوں نے دین و ملت کی بے لوث خدمت کی، وہ پسِ منظر میں چلے گئے اور جن لوگوں نے ان کے مقابلے میں معمولی کام کیا، مبالغہ آرائی اور پروپیگنڈا کے ذریعے ان کی خدمات کو رائی سے پہاڑ بنا کر دکھایا گیا۔

تاریخ نگاری کا المیہ: ممتاز مؤرخین کے اعترافات

اس حقیقت کا پاکستان کے مشہور مؤرخ پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق حسین نے محفل میں برملا اظہار فرمایا :

"اب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تاریخ میں اب تک جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ سب یک طرفہ ہے۔"

اس حقیقت کا اظہار قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبۂ تاریخ کے استاد پروفیسر ڈاکٹر اسلم سید نے بھی سنہ ۱۹۹۴ء میں اسلام آباد میں ہونے والی علمی مجلس میں کیا، اس مجلس کی صدارت قومی اسمبلی کے اسپیکر کر رہے تھے۔

اصل حقائق کو مسخ کرنا، یہ تاریخ کا المیہ ہے، یہ تاریخ نگاری کا المیہ ہے، یہ اسلاف سے بے وفائی اور آنے والی نسلوں سے دھوکا اور بغاوت نہیں تو اور کیا ہے!شاہراہِ پاکستان، کہ جس پر تحریکِ پاکستان چلی اور ۱۹۴۷ء کو قیامِ پاکستان ممکن ہوا، کو اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو امام احمد رضا، ان کے خلفاء و تلامذہ اور معتقدین کے گہرے نقوش جابجا نظر آتے ہیں۔

تحریکِ پاکستان کا تاریخی پس منظر اور امام احمد رضا کی بصیرت

برصغیر کی تاریخ میں متعدد سیاسی و مذہبی تحریکیں رونما ہوئیں:

  • 1884ء: انڈین نیشنل کانگریس کا قیام عمل میں آیا۔

  • 1905ء: تحریکِ ریشمی رومال کا آغاز ہوا۔ اسی زمانے میں جمعیت انصار الاسلام قائم ہوئی۔

  • 1906ء: آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی۔

  • 1911ء: جنگِ طرابلس ہوئی۔

  • 1912ء: جنگِ بلقان ہوئی۔

  • 1914ء: پہلی جنگِ عظیم شروع ہوئی۔

  • 1919ء: تحریکِ خلافت شروع ہوئی۔ اسی سال جمعیت علماءِ ہند بنی۔

  • 1920ء: گاندھی جی نے تحریکِ ترکِ موالات شروع کی، جس کا مقصد انگریزوں کا بائیکاٹ کر کے ان پر دباؤ ڈالنا اور ہندوستان کی آزادی کے لیے راستہ ہموار کرنا مشہور کیا گیا۔ اسی زمانے میں تحریکِ ہجرت اور تحریکِ ترکِ گاؤکشی چلی۔

ان تمام تحریکوں کا مقصد مسلمانوں کو کمزور سے کمزور کرنا تھا۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی دوربین نگاہ ان تحریکوں کے حضرات کو دیکھ رہی تھی۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

"دشمن اپنے دشمن کے لیے تین باتیں چاہتا ہے، اول اس کی موت کہ جھگڑا ہی ختم ہو۔ دوم، یہ نہ ہو تو اس کی جلاوطنی کہ اپنے پاس نہ رہے۔ سوم، یہ بھی نہ ہو سکے تو اخیر درجہ اس کی بے بسی کہ عاجز بن کر رہے۔"

تحریکِ خلافت کے ذریعے ہندوستان کے بے دست و پا مسلمانوں کو انگریزوں سے لڑا کر ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ تحریکِ ہجرت میں مسلمانوں کو ہندوستان سے جلا وطن کر کے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔ تحریکِ ترکِ موالات میں مسلمانوں کے پاس جو کچھ تھا، وہ سب کچھ لٹا کر عاجز اور بے بس بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔

مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے امام احمد رضا کے تاریخی رسائل

امام احمد رضا نے مسلمانوں کی سیاسی، معاشی اور مذہبی رہنمائی کے لیے درج ذیل کتب و رسائل تحریر فرمائے:

  1. معاشی استحکام (1912ء): رسالہ "تدبیرِ فلاح و نجات و اصلاح"

  2. سیاسی استحکام و دو قومی نظریہ (1920ء): رسالہ "المحجة المؤتمنة في آية الممتحنة"

  3. تحریکِ خلافت و ہجرت کی شرعی حقیقت: رسالہ "دوام العيش في أئمة من قريش" اور "إعلام الأعلام بأن هندوستان دار الإسلام"

  4. ردِ تحریکِ ترکِ گاؤکشی: رسالہ "أنفس الفكر في قربان البقر"

اس سے کس کو انکار ہے کہ پاکستان دو قومی نظریے کے تحت وجود میں آیا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ امام احمد رضا نے اس وقت دو قومی نظریے کا پرچار کیا، جبکہ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال بھی اس طرف متوجہ نہیں تھے۔

اس حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے ممتاز ادیب و دانشور، سابق سینیٹر، سابق وفاقی وزیر، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل آف پاکستان، مولانا کوثر نیازی لکھتے ہیں:

’’انہوں نے متحدہ قومیت کے خلاف اس وقت آواز اٹھائی، جب علامہ اقبال اور قائداعظم بھی اس کی زلفِ گرہ گیر کے اسیر تھے۔ دیکھا جائے تو ’’دو قومی نظریے‘‘ کے عقیدے میں امام احمد رضا مقتدا ہیں اور یہ دونوں حضرات مقتدی۔‘‘

پاکستان کی تحریک کو کبھی فروغ نہ حاصل ہوتا، اگر امام احمد رضا سالوں پہلے مسلمانوں کو ہندوؤں کی چالوں سے باخبر نہ کرتے۔

تقسیمِ ہند کی تجویز اور علمائے اہلِ سنت کی پیش رفت

  • 1915ء: چوہدری رحمت علی نے بزمِ شبلی لاہور کے اجلاس میں اسلامی ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

  • 1917ء: دہلی کے عبدالجبار خیری اور عبد الستار خیری (خیری برادران) نے اسٹاک ہوم (Stockholm) میں تقسیمِ ہند کی تجویز پیش کی۔

  • 1925ء: امام احمد رضا کے وصال (م: ۱۹۲۱ء) کے چار سال بعد، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ پریس سے عبدالقدیر نامی ایک بزرگ کا رسالہ شائع ہوا، جس میں تقسیمِ ہند کی مفصل تجویز پیش کی گئی اور جغرافیائی حدود کی نشاندہی کی گئی اور ساتھ ہی تقسیم کے طریقۂ کار کی وضاحت بھی کی گئی۔

پاکستان کے مشہور مؤرخ خواجہ رضی حیدر نے اس حقیقت کا انکشاف کیا کہ امام احمد رضا کے تلمیذ و خلیفہ صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مرادآبادی غالباً پہلے عالمِ دین ہیں، جنہوں نے واشگاف الفاظ میں تقسیمِ ہند کی تجویز ان الفاظ میں پیش کر کے پاکستان کا مطالبہ کیا:

’’ملک تقسیم کر کے ہندو و مسلم علاقے تشکیل دیے جائیں۔ ہر علاقے میں اسی علاقے والے کی حکومت ہو۔‘‘

مولانا نعیم الدین مرادآبادی نے امام احمد رضا کی پیش کردہ دو قومی نظریے کے تحت یہ تجویز پیش فرمائی اور پھر اس تحریک کو تیز کرنے کے لیے 1925ء میں ایک تنظیم ’’الجمعیۃ العالیۃ المرکزیۃ‘‘ کی بنیاد ڈالی۔

تلامذہ و خلفائے امام احمد رضا کی عملی جدوجہد

امام احمد رضا نے ۱۹۲۰ء میں دو قومی نظریے کی دستاویز پیش کی اور اس کے ایک سال بعد ۱۹۲۱ء میں وہ رحلت فرما گئے۔ مگر اپنے پیچھے وہ ایک ایسی جماعت چھوڑ گئے، جس نے اس مشن کو آگے بڑھایا، بلکہ آپ کی حیات ہی میں یہ حضرات سرگرم ہو گئے تھے۔

۱. جماعتِ رضائے مصطفیٰ کا کردار

۱۹۱۹ء سے قبل جماعتِ رضائے مصطفیٰ قائم ہو چکی تھی۔ اس جماعت نے ’’اتمامِ حجت نامہ‘‘ کے عنوان سے ستر سوالات پر مشتمل ایک سوال نامہ ترکِ موالات کے حامی علماء کو پیش کیا۔

۲. پروفیسر سید سلیمان اشرف کی علمی خدمات

امام احمد رضا کے خلیفہ اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے پروفیسر سید سلیمان اشرف (صدرِ شعبۂ دینیات) نے مسئلۂ ہندو مسلم متحدہ قومیت پر صدرِ جمعیت علماءِ ہند مولانا ابوالکلام آزاد سے مذاکرات کیے اور ۱۹۲۰ء کے ایک جلسۂ عام میں، جو جمعیت کے زیرِ اہتمام بریلی میں ہو رہا تھا، اپنے مؤقف کا بے باکانہ اظہار کیا۔

۳. مولانا نعیم الدین مرادآبادی اور تحریکِ آزادی

مولانا نعیم الدین مرادآبادی نے مولانا محمد علی جوہر سے ملاقات کر کے انہیں مشرکینِ ہند کے ساتھ مسلمانوں کے اختلاط و اتحاد کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا۔ مولانا موصوف نے تحریکِ ترکِ موالات کے نتیجے میں ہونے والی ہندو مسلم اخوت کے خلاف دو مقالات بھی لکھے، جو ماہنامہ ’’السواد الاعظم‘‘ کے شمارہ شوال ۱۳۳۸ھ / ۱۹۱۹ء میں شائع ہوئے، جبکہ امام احمد رضا ابھی زندہ تھے۔

آل انڈیا سنی کانفرنس اور مطالبۂ پاکستان

۱۹۲۵ء میں مرادآباد میں امام احمد رضا سے عقیدت رکھنے والے علماء و مشائخ کی چار روزہ کانفرنس ہوئی، جس میں آل انڈیا سنی کانفرنس قائم کی گئی۔ پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری صدر اور مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی ناظمِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔ آل انڈیا سنی کانفرنس نے پورے ہندوستان میں جگہ جگہ بڑے بڑے اجتماعات منعقد کیے اور لوگوں کو ایک اسلامی ریاست، پاکستان، کی حمایت و تائید پر آمادہ کیا۔ اس کا ایک بہت بڑا اور تاریخی اجلاس ۱۶ تا ۱۹ مارچ ۱۹۲۵ء کو جامعہ نعیمیہ مرادآباد میں ہوا، جس کی صدارت امام احمد رضا کے بڑے صاحبزادے حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان نے کی۔ یہاں آپ نے اپنے تاریخی خطبۂ صدارت میں ان تمام امور کی نشاندہی فرمائی، جو ۱۹۴۶ء تک منظرِ عام پر آئے۔

آل انڈیا سنی کانفرنس کے منشور کے اہم اقتباسات

مولانا نعیم الدین مرادآبادی نے بحیثیتِ ناظمِ اعلیٰ آل انڈیا سنی کانفرنس، لاہور کے مولانا ابوالحسنات محمد احمد کے استفسار پر جو مکتوب روانہ کیا,اس سے ان کے عزم و حوصلے کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ امام احمد رضا کے تربیت یافتہ یہ حضرات تحریکِ پاکستان کے لیے کتنے پُرجوش اور مخلص تھے۔ موصوف کے مکاتیب کے بعض اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں:

  • "آل انڈیا سنی کانفرنس کا نام جمہوریتِ اسلامیہ مرکز یہ ہے، یہ دو ایوانوں پر مشتمل ہوگی۔ ایک ایوانِ عام اور دوسرا ایوانِ علماء۔ ایوانِ علماء کا نام جمہوریتِ علماء ہوگا۔"

  • "پاکستان کی تجویز سے جمہوریتِ اسلامیہ کو کسی طرح دستبردار ہونا منظور نہیں، خواہ جناح (محمد علی جناح) اس کے حامی رہیں یا نہ رہیں۔"

  • "الیکشن کے موقع پر کانگریس کے حق میں رائے دینے سے مسلمانوں کو روکنا بالکل بجا ہے اور اس میں کچھ بھی تامل نہیں۔

تاریخی بنارس کانفرنس (۱۹۴۶ء)

۱۹۵۴ء میں آل انڈیا سنی کانفرنس کی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ کانفرنس کا ایک بہت بڑا اجلاس طلب کیا۔ چنانچہ ۲۷ تا ۳۰ اپریل ۱۹۴۶ء کو بنارس میں چار روزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاک و ہند مشترکہ ہندوستان کے گوشے گوشے سے تقریباً پانچ ہزار علماء و مشائخ نے شرکت کی، جبکہ عام اجلاس میں حاضرین کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بھی متجاوز تھی۔

اس عظیم الشان اجتماع میں امام احمد رضا کے تلمیذ اور خاندانِ اشرفیہ کے آفتاب مولانا سید محمد محدث کچھوچھوینے خطبۂ صدارت میں فرمایا:

’’جن سنیوں نے لیگ (مسلم لیگ) کے اس پیغام کو قبول کیا ہے اور جس مسئلے میں لیگ کی تائید کرتے ہیں، وہ صرف اس قدر ہے کہ ہندوستان کے ایک حصے پر اسلام کی، قرآن کی آزاد حکومت ہو۔‘‘

’’ہم سے مسلم لیگ کو اسی کی امید رکھنی چاہیے کہ اس کا جو قدم سنیوں کے سمجھے ہوئے پاکستان کے حق میں ہوگا (یعنی اسلام اور قرآن کی آزاد حکومت) اور اس کے جس پیغام میں اسلام و مسلمین کا نفع ہوگا، آل انڈیا سنی کانفرنس کی رہنمائی اس کو قبول کرنا ہوگی اور ضرور کرنا پڑے گی۔‘‘

اسی سال اجمیر شریف کے اجلاس میں حضرت محدث کچھوچھوی نے اعلان کیا:

’’اب بحث کی لعنت چھوڑو۔اب غفلت سے باز آؤ، چلے چلو، ایک منٹ بھی نہ رکو،پاکستان بنا کر دم لو کہ یہ کام، اے سنیو! سن لو! کہ صرف تمہارا ہے۔‘‘

آل انڈیا سنی کانفرنس کے اجلاس ۲۷ تا ۳۰ اپریل ۱۹۴۶ء منعقدہ بنارس میں پیش کردہ یہ قرارداد خاص طور پر قابلِ توجہ ہے:

بنارس کانفرنس کی متفقہ قرارداد:

’’یہ اجلاس مطالبۂ پاکستان کی پرزور حمایت کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ علماء و مشائخ اہلِ سنت اسلامی حکومت کے قیام کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے ہر امکانی قربانی کے واسطے تیار ہیں۔‘‘

برادرانِ جوہر اور قائد اعظم محمد علی جناح کے اندازِ فکر میں تبدیلی

تحریکِ خلافت کے آغاز میں عدمِ تعاون کے فتوے پر دستخط لینے کے لیے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جوہر امام احمد رضا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو امام احمد رضا نے فرمایا :

" مولانا! آپ کی اور میری سیاست میں فرق ہے، آپ ہندو مسلم اتحاد کے حامی ہیں اور میں مخالف "

امام احمد رضا کی اس بات کا ان کے دل پر اثر ہوا۔پھر مولانا محمد علی جوہر ۱۹۳۰ء میں گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن جانے سے پہلے امام احمد رضا کے خلیفہ مولانا نعیم الدین مرادآبادی سے ملنے آئے تو انہوں نے بھی ہندو مسلم اتحاد کے خطرناک نتائج کی جانب توجہ دلائی۔ اس پر مولانا محمد علی جوہر نے کہا کہ اگر زندہ رہا تو اس کی تلافی کی کوشش کروں گا۔‘‘


قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت اور تبدیلی

تحریکِ پاکستان سے پہلے جب قائداعظم ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے اور فرماتے تھے کہ:

"میں طبعی طور پر راسخ کانگریسی ہوں اور کانگریس کی تائید و حمایت میرے لیے باعثِ اطمینان ہے، قوم وار اختلاف کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتا۔"

اس وقت امام احمد رضا دو قومی نظریہ پیش فرما چکے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ۱۹۳۰ء میں تحریکِ ترکِ موالات شروع کی۔ (یہ وہی سال ہے جب امام احمد رضا کا ترکِ موالات پر مفصل رسالہ ’’المحجة المؤتمنة في آية الممتحنة‘‘ شائع ہوا۔) حقائق کی روشنی میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام احمد رضا کے اس رسالے کے مندرجات سے جس طرح ڈاکٹر محمد اقبال باخبر تھے،اسی طرح قائداعظم بھی باخبر تھے۔ فکرِ رضا سے متاثر ہو کر قائداعظم نے بمبئی کے اجلاس میں فرمای:

"میں یہ کہنے سے بھی باز نہیں رہ سکتا کہ گاندھی جی نے جو پروگرام اختیار کیا ہے، وہ قوم کو غلط راستے پر لیے جا رہا ہے۔ ان کا پروگرام قوم کو صراطِ مستقیم کی بجائے گڑھے کی طرف لے جا رہا ہے۔"

بعد میں مزید فرمایاا:

"میرا نصب العین یہ ہے کہ انگریز ہندوستان پر قبضہ رکھنا چاہتا ہے۔ گاندھی جی مسلمانوں پر مسلط ہونے کے تمنائی ہیں، لیکن ہمیں دونوں کی محکومی منظور نہیں۔ ہم آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ ہم نہ انگریز کی غلامی پر قناعت کر سکتے ہیں، نہ ہندو کی غلامی چاہتے ہیں۔"

مسلم لیگ کی بنیاد ۱۹۰۶ء میں ڈھاکہ میں پڑی، مگر ۱۹۳۶ء، ۳۷ء تک اس نے مسلمانوں کے لیے خصوصیت سے کوئی مثبت کردار ادا نہ کیا۔ قائداعظم محمد علی جناح، جو کہ پہلے ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے، اور جب ہندوؤں سے عملی طور پر سابقہ پڑا تو اپنے تلخ تجربات کی روشنی میں دو قومی نظریے کے حامی ہوئے۔ ۱۹۳۷ء میں مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے تو ان کے اندازِ فکر میں انقلابات نے جنم لیا۔ پھر ۱۹۴۰ء میں لاہور میں قراردادِ پاکستان منظور کر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ پیش کر دیا۔

ان کے اس مطالبے سے بہت قبل امام احمد رضا اور دیگر علماء و مشائخ دو قومی نظریہ پیش کر کے اسلامی ریاست کا مطالبہ کر چکے تھے۔ امام احمد رضا نے ۱۹۲۰ء میں دو قومی نظریے کی تحریری دستاویز پیش کر کے مسلمانانِ ہندوستان میں اسلام اور اسلامی ریاست کا سچا جذبہ پیدا کیا۔

امام احمد رضا کے تلمیذ و خلیفہ مولانا نعیم الدین مرادآبادی نے واشگاف الفاظ میں تقسیمِ ہند کی تجویز ان الفاظ میں پیش کر کے پاکستان کا مطالبہ کیا:

’’ملک تقسیم کر کے ہندو مسلم علاقے تشکیل دیے جائیں، ہر علاقے میں اسی علاقے والے کی حکومت ہو۔‘‘

علامہ محمد اقبال اور فکرِ رضا کا اثر

مولانا عبدالقدیر بدایونی (یا عبدالقدیر بلگرامی) نے ۱۹۲۵ء میں علامہ اقبال سے پانچ برس قبل تقسیمِ ہند کا مفصل لائحۂ عمل پیش کیا تھا۔ علامہ اقبال نے امام احمد رضا کے فتاویٰ کا مطالعہ کیا تھا اور ان کی فقہی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا تھا:

"وہ (مولانا احمد رضا) بے حد ذہین اور باریک بین عالمِ دین تھے۔ فقہی بصیرت میں ان کا مقام بہت بلند تھا۔ ان کے فتاویٰ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر اعلیٰ اجتہادی صلاحیتوں سے بہرہ ور اور پاک و ہند کے کیسے نابغۂ روزگار فقیہ تھے۔ ہندوستان کے اس دورِ متاخرین میں ان جیسا طباع اور ذہین فقیہ بمشکل ملے گا۔"

جب ہندوؤں کی سازشوں کا انکشاف ہوا تو علامہ اقبال نے صوبائی خلافت کمیٹی سے استعفیٰ دیتے ہوئے فرمایا:

"اسلام کا ہندوؤں کے ہاتھ بک جانا گوارا نہیں ہو سکتا، افسوس! اہلِ خلافت اپنی اصلی راہ سے بہت دور جا چکے ہیں، وہ ہم کو ایسی قومیت کی راہ دکھا رہے ہیں جس کو کوئی مخلص ایک منٹ کے لیے بھی قبول نہیں کر سکتا۔"

پھر ۱۹۳۰ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے الہ آباد اجلاس میں علامہ اقبال نے تاریخی خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

"میری آرزو ہے کہ پنجاب، صوبۂ سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک واحد اسلامی ریاست قائم کر دی جائے۔"

انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے اسلام اور اسلامی ریاست کا نعرہ بلند کیا تو پورا ہندوستان ہل پڑا۔ علماء و مشائخِ اہلِ سنت ہی وہ طاقت تھے جنہوں نے عوام کے دلوں میں اسلامی ریاست کی تڑپ قائم رکھی، جس کے بغیر قیامِ پاکستان ناممکن تھا۔

قائداعظم محمد علی جناح جانتے تھے کہ اگر علماء و مشائخ تحریکِ پاکستان کی حمایت نہ کرتے تو قیامِ پاکستان مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا چنانچہ قیامِ پاکستان کے بعد جب پرچم کشائی کا وقت آیا تو قائداعظم محمد علی جناح نے انہی کو منتخب کیا۔

غرض یہ کہ ہمارے بزرگ علماء و مشائخ کی جدوجہد سے پاکستان کا قیام ممکن ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے تاقیامت قائم رکھے اور دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین!

قیامِ پاکستان اور اسلامی دستور کی تدوین

قیامِ پاکستان کے بعد آل انڈیا سنی کانفرنس نے اس جدید اسلامی ریاست کے لیے دستورِ اسلامی کی تدوین پر توجہ دی۔

۱۹۴۸ء میں ناظمِ اعلیٰ مولانا محمد نعیم الدین مرادآبادی نے پورے پاکستان کا دورہ کیا اور علماء و مشائخ سے تبادلۂ خیال کیا۔ طے یہ پایا کہ مولانا موصوف پاکستان کے لیے اسلامی دستور کا خاکہ بنا کر قومی اسمبلی سے منظور کروائیں۔ ابھی مولانا ۱۱ دفعات ہی تحریر کر پائے تھے کہ اکتوبر ۱۹۴۸ء میں ان کا وصال ہو گیا۔

مولانا کے بعد ان کے رفقاء، حضرت غزالیِ زماں علامہ احمد سعید کاظمی اور دیگر علماء کرام نے اسے مکمل کیا اور اسلامی دستور کی بنیادی دفعات پر مشتمل ایک یادداشت ترتیب دی۔ اور آج جماعتِ اہلِ سنت اس جدوجہد کے میدانِ عمل میں موجود ہے اور نظامِ مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کے نفاذ کی خاطر قربانی دینے کا عزم رکھتی ہے۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0