کالمز

سودی نظام کی روک تھام کے لیے اقدامات: اسلام کی کامل رہنمائی اور معاشی متبادل

سودی نظام کی روک تھام کے لیے اقدامات
سودی نظام کی روک تھام کے لیے اقدامات

سود کی حرمت نصوصِ قرآنی و حدیثیہ سے قطعاً حتمی ثابت ہے، جس سے کوئی بھی صاحبِ ایمان اختلاف کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ تاہم اسے حرام مان کر بھی عملاً بہت سے لوگ سودی لین دین کو اپنائے ہوئے ہیں اور موجودہ دور میں اس کو ناگزیر تصور کرتے ہیں اور اکثر کہتے سنے جاتے ہیں کہ سود کے بغیر کوئی بھی معاشی نظام چل ہی نہیں سکتا۔

دربارۂ سود خوری و خورانی یہ فکر یکسر غلط اور اسلام سے قطعی طور پر متصادم ہے، لیکن عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں جکڑی ہوئی اقوام اور افراد اس قدر بے بس یا بے حس ہو چکے ہیں کہ انہیں سود کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں، حالانکہ ذرا سی غور و فکر سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے کہ آج کے سرمایہ دارانہ نظام کی روحِ رواں یہی سود ہے، اور اس نظام کو انسانیت کا معاون و مددگار تصور کرنے والے کی مثال اُس مریض کی سی ہے جو بیماری کی تکلیف سے بچنے کے لیے زہر کھانا شروع کر دے۔

سودی نظام انسانیت کا دشمن ہے۔ یہ انسان کو انسانیت کے درجے سے گرا کر درندگی کے درجے میں پہنچا دیتا ہے۔ دھن دولت والے بینکوں سے قرضے لے کر صنعتیں لگاتے اور کاروبار چمکاتے ہیں۔ قرضے پر جو سود بینکوں کو ادا کرتے ہیں، وہ عوام سے وصول کرنے کے لیے اشیاء کی قیمت میں اضافہ کر کے فروخت کرتے رہتے ہیں۔ یوں سود کا نقصان صرف عام آدمی کو ہوتا ہے۔ سود خور کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ نتیجتاً امراء کی دولت بڑھتی چلی جاتی ہے اور غرباء کی غربت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ لہٰذا اس ظالمانہ ابلیسی نظامِ سود کو کسی بھی طرح انسانیت کا خیرخواہ نہیں کہہ سکتے۔

سود کی اپنی خرابیوں اور تباہ کاریوں کے سبب اسلام نے سود کی تمام شکلوں کو حرامِ قطعی قرار دیا ہے اور دنیا کو سود کی آمیزش سے مکمل طور پر پاک ایسا نظام عطا کیا ہے، جس کی برکت و افادیت حدِ بیان سے باہر ہے۔

دربارۂ سود: اسلام کی جامع رہنمائی

اسلام دنیا میں رائج وہ واحد مذہب ہے جو ملت و فرد، ہر دو کو زندگی کے ہر معاملے میں کامل رہنمائی دیتا ہے اور اپنے ماننے والوں کو کسی بات میں کسی غیر مذہب و ملت اور نظام کا محتاج نہیں رہنے دیتا۔ چونکہ اس دنیاوی زندگی میں معاشی نظام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اسلام اس شعبے میں اقوامِ عالم کو بہترین، قابلِ عمل، غیر ضرر رساں نظام عطا کرتا ہے۔ یہ وہ واحد مذہب ہے جس نے سودی نظام کی برائی کو نہایت واشگاف الفاظ میں بیان کیا ہے اور اس کا متبادل پاکیزہ نظامِ معیشت پیش کیا ہے۔

۱. اسلام کا ذخیرہ اندوزی (Hoarding) پر وار

ذخیرہ اندوزی سرمایہ داروں کا بہت بڑا ہتھکنڈہ ہے۔ بڑے بڑے تاجر اشیاء کو روک کر مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں۔ جب مارکیٹ میں طلب بڑھ جاتی ہے تو مرضی کے داموں اشیاء فروخت کر کے عوام کو لوٹ لوٹ کر اپنی تجوریاں بھرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا اسلام نے ذخیرہ اندوزی سے بڑی شدت سے روکا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاا:

الْمُحْتَكِرُ مَلْعُونٌ

"ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون (لعنتی) ہے۔"

۲. سٹے بازی (Speculation) کی ممانعت

موجودہ طریقِ تجارت میں سٹے کا چلن عام ہے۔ تاجر مال کے بدلے مال کا لین دین کرنے کے بجائے صرف کاغذ پر کاروبار کرتے ہیں۔ اس طریقۂ کار میں مڈل مین بہت اہمیت حاصل کر چکا ہے، حالانکہ مال کو وجود میں لانے میں اس کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ لہٰذا وہ اس کے منافع کا حق دار بھی نہیں ہوتا، لیکن فائدے میں بہرحال وہی رہتا ہے۔ لہٰذا اسلام نے سٹے کے کاروبار کو بھی ناجائز قرار دیا ہے۔ ابنِ ماجہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جامع ارشاد مروی ہے کہ:

لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ

"نہ بیچ جو مال تیرے پاس موجود نہیں ہے۔"

بطورِ مثال ذکر کیے گئے سود خوروں اور سرمایہ داروں کے ان دھندوں کے علاوہ بھی کئی استحصالی صورتیں موجودہ دور میں رائج ہیں۔

سودی طریقِ کاروبار کی روک تھام کے لیے قرآنی احکام و احادیث

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مقدس میں سود کو بدترین جرم و گناہ قرار دیا ہے اور اس کی ایسی سزا سنائی ہے جو کسی اور گناہ کی نہیں۔ فرمایا:

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّـٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِىَ مِنَ الرِّبَآ اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ ۝ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُـوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّـٰهِ وَرَسُوْلِهٖ

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم سچے مسلمان ہو تو باقی ماندہ سود چھوڑ دو، ورنہ تمہارے خلاف اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے۔

(البقرۃ: 278، 279)

اور فرمایا:

وَاَحَلَّ اللّـٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَنْ جَآءَهٝ مَوْعِظَـةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَـهٝ مَا سَلَفَ ؕ وَاَمْرُهٝٓ اِلَى اللّـٰهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ ۝

اللہ نے تجارت کو حلال کیا، جب کہ سود کو حرام قرار دیا ہے۔ جسے اس کے رب کی طرف سے نصیحت پہنچ گئی، وہ سود سے رک جائے اور اس کی (سابقہ سود خوری کا معاملہ) اس کے رب کے سپرد ہے، اور جو دوبارہ سودی کاروبار کرے گا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں، ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ (البقرۃ: 275)

نبی کریم ﷺ نے سود کی برائی کو کچھ یوں بیان فرمایا:

الرِّبَا سَبْعُونَ حُوبًا، أَيْسَرُهَا أَنْ يَنْكِحَ الرَّجُلُ أُمَّهُ

(ابنِ ماجہ)

ترجمہ: سود کی برائی کے ستر درجے ہیں، سب سے کم درجے کی برائی یہ ہے جیسے کوئی اپنی ماں سے زنا کرے۔

اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ، وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ

(مسلم)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاہدہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر، اور فرمایا: (گناہ میں) یہ سب برابر ہیں۔

مال جمع کرنے کی مذمت اور انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت

مال جمع کرنے کی برائی:

قرآنِ مقدس نے مال جمع کرنے، کارِ خیر میں خرچ نہ کرنے اور سودی معاملات میں لگانے کی مذمت سخت ترین الفاظ کے ساتھ فرمائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِۙ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍۙ‏ ۝ يَّومَ يُحۡمٰى عَلَيۡهَا فِىۡ نَارِ جَهَـنَّمَ فَتُكۡوٰى بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوۡبُهُمۡ وَظُهُوۡرُهُمۡ​ؕ هٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ فَذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَكۡنِزُوۡنَ‏ ۝

(ترجمہ) جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے رہتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، ان کو دردناک عذاب کی بشارت سنا دیں، جس دن جہنم کی آگ میں سونا چاندی گرم کر کے اُن کی پیشانیوں کو، پہلوؤں کو اور پشتوں کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ ہے تمہارا مال جسے تم نے جمع کیا تھا، اب چکھو جس کو تم جمع کرتے تھے۔

(التوبہ: 34، 35)

انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت

اسلام دوسروں کا استحصال کرنے کی بجائے اپنے پیروکاروں کو احسان کا حکم دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ ان کے مال میں غرباء و مساکین کا حق ہے:

وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ

(الذاریات: 19)

ترجمہ: اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق ہے۔

اور پرہیزگاروں کے اوصاف گنواتے ہوئے فرمایا ہے:

وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ

(البقرۃ: 3)

ترجمہ: اور ہمارے دیے ہوئے میں سے راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔

قرضِ حسنہ اور آفت زدہ انسانوں کی مدداور ترغیب

قرضِ حسنہ کی ترغیب

اسلام سود کی برائیاں واضح کر کے اس سے روکتا اور قرضِ حسنہ کے فضائل سنا سنا کر اس کی ترغیب دیتا ہے۔ قرضِ حسنہ سے مراد ہے بے سود قرض دینا۔ جو مال غرباء و مساکین کو فی سبیل اللہ دیا جائے، وہ قرآن کے مطابق اللہ کو قرض دینا ہے، اسے قرضِ حسنہ کہا گیا، اور یہ بھی قرضِ حسنہ کی صورت ہے کہ کسی کو بغیر سودی منفعت کے قرض دیا جائے۔

ابنِ ماجہ میں مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

شبِ معراج میں نے جنت کے دروازے پر لکھا ہوا پایا کہ صدقے کا ثواب دس گنا اور قرض دینے کا ثواب اٹھارہ گنا ہے۔ میں نے جبریل سے اس کی وجہ پوچھی تو کہا: سائل مانگتا ہے، جبکہ اس کے پاس کچھ مال موجود بھی ہو، جبکہ قرض وہی مانگتا ہے جسے واقعی ضرورت ہو۔

مشکل میں کام آنے کی فضیلت

دشواری کا شکار بندہ سخت پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے۔ اسے مشکل سے نکالنے کے لیے قرضِ حسنہ دینا بہت بڑی نیکی ہے۔ مسلم شریف میں مروی ایک حدیثِ پاک کا مفہوم کچھ یوں ہے:

سرکار ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کی دنیا میں کوئی پریشانی دور کی، اللہ قیامت کی پریشانی اس سے دور کرے گا، اور جس نے کسی پریشان حال کے لیے آسانی مہیا کی، اللہ اسے دنیا و آخرت میں آسانی عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد کرتا ہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔

سود سے نجات کا لائحہ عمل: سادہ زندگی اور شرعی متبادل

۱. سود سے بچنے کے لیے سادہ زندگی کی ترغیب

بعض لوگ بجائے سادہ زندگی گزارنے کے پرتعیش زندگی کے عادی ہو جاتے ہیں۔ جب اپنے وسائل میں رہتے ہوئے نفسانی خواہشات کی تکمیل نہیں کر پاتے تو سود کا سہارا لیتے ہیں اور یوں عیاشیوں کی لت انہیں ذلت و رسوائی اور خست و بدحالی کے گڑھے میں گرا دیتی ہے۔ لیکن اگر قرآن کے بیان کردہ ایک سیدھے سادے اصول کو اپنا لیا جائے تو سود کا خیال بھی نہ آنے پائے۔ وہ اصولِ قرآنی یہ ہے: كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا

"کھاؤ پیو لیکن حد سے نہ بڑھو۔"

۲. مضاربت و شراکت کی ترغیب

اسلام نے تجارت کو حلال، جبکہ سود کو حرام قرار دیا ہے۔ تجارت کی مختلف صورتیں ہیں۔ بعض صورتیں وہ بھی ہیں جن میں مالی لحاظ سے کمزور لوگ بھی رزقِ حلال کمانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ انہی صورتوں میں مضاربت اور شراکت بھی آتی ہیں۔ اسلام نے ان طریقوں کو جائز بتا کر سودی معاملات کا قلع قمع کر دیا ہے۔ لہٰذا سود سے بچنے اور اس کی روک تھام کے لیے شراکت اور مضاربت کو اپنانا چاہیے۔

  • مضاربت کیا ہے؟

مضاربت ایسی تجارتی شراکت کا نام ہے جس میں ایک فریق کا سرمایہ اور دوسرے فریق کی محنت مل کر کام کریں۔ اس میں سرمایہ اور محنت کی مناسبت سے منافع کی تقسیم مابینِ فریقین ہوتی ہے۔ شریعت میں مضاربت کے تفصیلی احکام موجود ہیں، جن کی روشنی میں اس اندازِ تجارت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

  • شراکت کیا ہے؟

شراکت یہ ہے کہ چند افراد اپنا سرمایہ ملا کر کاروبار کریں اور اپنے اپنے سرمائے کی مناسبت سے نفع و نقصان میں شریک ہوں۔ شراکت کو بھی شریعت نے اچھی طرح واضح کر دیا ہے، تاکہ مسلمان اس اندازِ تجارت سے بھی فیض یاب ہو سکیں۔

الغرض سود سے نجات کے لیے اسلامی طرزِ زندگی اور اسلامی اخلاق کو اپنانے کی ضرورت ہے اور اسلام کی بتائی ہوئی تجارت کی جائز صورتوں کو کام میں لانا چاہیے۔

اختتامی نوٹ و حدیثِ مبارکہ

نوٹ:

تحریکِ لبیک پاکستان اس کی عملی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ تحریک کو کامیابیوں اور کامرانیوں سے ہمکنار فرمائے۔

ان کی مخلصانہ کوششوں سے سودی نظام کا خاتمہ ہو اور اسلامی معاشی نظام کے ذریعے ملک و قوم حقیقی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو۔

وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ

حدیثِ مبارکہ:

رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

زمین و آسمان میں سرکش جنات اور انسانوں کے علاوہ ہر چیز جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0