سود کا لغوی معنی:
لغت میں سود کا معنی زیادتی، بڑھوتری اور بلندی ہے۔
علامہ راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا:
اصل مال پر زیادتی کو سود کہتے ہیں۔ (تفسیر تبیان القرآن)
سود کی اصطلاحی تعریف:
كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا
ترجمہ: ہر وہ قرض جو نفع کھینچے، وہ سود ہے۔
قرآنِ مجید سے سود کی حرمت
اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ-فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَؕ-وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِؕ-وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ
ترجمۂ کنز الایمان وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مَخبوط بنادیا ہو یہ اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سود تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گے۔ (سورۃ البقرۃ، آیت: 275)
ہے جو پہلے لے چکا، اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے، اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے، وہ اس میں مدتوں رہیں گے۔
سود خوروں کے پیٹ پھول جائیں گے:
تفسیر روح البیان میں حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
قیامت کے دن جب لوگ قبروں سے نکلیں گے تو وہ محشر کے میدان میں دوڑتے ہوئے آئیں گے، ہاں مگر جب سود خور اپنی قبروں سے اٹھیں گے تو اٹھتے ہی گر جائیں گے، بے ہوشی اور مرگی والے کی طرح۔
سود سے انسان میں درندوں سے زیادہ بے رحمی :
تفسیر خزائن العرفان میں سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:
اس آیت میں سود کی حرمت اور سود خوروں کی شامت کا بیان ہے۔
سود کو حرام فرمانے میں بہت سی حکمتیں ہیں:
• سود کا رواج تجارتوں کو خراب کرتا ہے۔
•سود سے انسان کی طبیعت میں درندوں سے زیادہ بے رحمی پیدا ہوتی ہے۔
سود خور ظاہر میں انسان اور حقیقت میں شیطان:
تفسیر نور العرفان میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
سود خور ظاہر میں انسان اور حقیقت میں شیطان ہے، جسے غریبوں پر رحم نہیں آتا، اور انہیں برباد کر کے اپنے آپ کو امیر بناتا ہے۔
سود اصل مال کو بھی ہلاک کر دیتا ہے:
تفسیر مظہری میں ہے:
أَيْ يَذْهَبُ بَرَكَتَهُ وَيُهْلِكُ الْمَالَ الَّذِي يَدْخُلُ فِيهِ
ترجمہ: جس مال میں سود شامل ہو، اس کی برکت زائل ہو جاتی ہے اور وہ مال ہلاک ہو جاتا ہے۔
سود کافروں کی غذا ہے۔
مؤمن کے لیے سود میں برکت نہیں ہے۔ یہ کافر کی غذا ہو سکتی ہے، مومن کی نہیں۔ لہٰذا اپنے آپ کو کفار پر قیاس نہ کرو۔
کافر سود لے کر ترقی کرے گا، جبکہ مومن زکوٰۃ دے کر۔ نیز سود کے پیسے سے زکوٰۃ اور خیرات قبول نہیں ہوتیں۔
سود اللہ اور رسول سے اعلانِ جنگ ہے:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْۚ-لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ
ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو ۔پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ تمہیں نقصان ہو۔ (سورۃ البقرۃ، آیات: 278–279 )
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
دو جرموں کے سوا کسی گناہ پر رب تعالیٰ کی طرف سے اعلانِ جنگ نہیں دیا گیا:
1: سود لینا۔
2:اولیاء اللہ سے عداوت رکھنا۔
اے مسلمانو!کیا سود کا کاروبار اب بھی جاری رہے گا؟
کیا اب بھی سود لینے، سود دینے، سود کی دستاویز لکھنے، اس پر گواہ بننے، اور سودی ادارے میں کام کرنے سے باز نہیں آؤ گے؟کیا اب بھی غریبوں کا خون چوسو گے؟
کیا تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کی طاقت رکھتے ہو؟
نہیں، ہرگز نہیں! تو پھر سود سے سچی توبہ کر لو۔
کر لے توبہ، رب کی رحمت ہے بڑی
ورنہ قبر میں سزا ہو گی کڑی
سود کی حرمت احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہلاکت میں ڈالنے والے سات گناہوں سے بچو۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! وہ کیا ہیں؟
1:اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا۔
2:جادو کرنا۔
3:کسی کو ناحق قتل کرنا، جس کا قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہو۔
4:سود کھانا۔
5:یتیم کا مال کھانا۔
6:لڑائی کے دن میدان سے بھاگ جانا۔
7:بھولی بھالی، پاک دامن، مومن عورتوں پر تہمت لگانا، جو زنا سے غافل ہوں۔ (1)
چار آدمیوں کا جنت میں داخلہ ممنوع:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ چار آدمیوں کو جنت میں داخل نہ کرے اور انہیں جنت کی نعمتیں نہ چکھائے:
1:عادی شرابی۔
2:سود خور۔
3:ناحق یتیم کا مال کھانے والا۔
4:ماں باپ کا نافرمان۔ (2)
(1)صحیح البخاری، کتاب الوصایا
(2)بحوالہ: تبیان القرآن
تبصرے 0