حضور خواجہ غریب نواز کا نامِ مبارک حسن ہے اور آپ کے مشہور القابات میں معین الدین، عطائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سلطان الہند ہیں۔ خواجہ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی سردار اور آقا کے ہیں۔
ولادتِ مبارک: ۱۴ رجب المرجب ۵۳۷ ہجری (بمطابق ۱۱۴۳ عیسوی)
وصالِ باکمال: ۶ رجب ۶۳۳ ہجری (بمطابق ۱۲۳۶ عیسوی)
سرزمینِ ہند میں جہاں عرصۂ دراز سے کفر و شرک کا دور دورہ تھا اور ظلم و جبر کی فضا قائم تھی اور لوگ اخلاق و کردار کی پستی کا شکار تھے، اس خطے کے لوگوں کو نورِ ہدایت سے روشناس کروانے، ظلم و ستم سے نجات دلانے اور لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کرنے والے بزرگانِ دین میں حضرت خواجہ معین الدین سید حسن چشتی اجمیری قدس سرہ العزیز کا اسمِ گرامی بہت نمایاں ہے۔
ابتدائی حیات، علمی اسفار اور اکتسابِ فیض
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے سجستان یا سیستان کے علاقۂ سنجر میں ایک پاکیزہ علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ حصولِ علم کے لیے آپ نے ملکِ شام، بغداد اور کرمان وغیرہ کا طویل سفر اختیار فرمایا۔ اس دوران آپ نے کثیر بزرگانِ دین سے اکتسابِ فیض کیا، جن میں نمایاں نام یہ ہیں:
حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ (آپ کے پیر و مرشد)
پیرِ حضور غوثِ پاک حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ
بارگاہِ رسالت ﷺ سے ولادتِ ہند کا حکم
زیارتِ حرمین کے دوران بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو ہند کی ولایت عطا ہوئی اور وہاں دین کی خدمت بجا لانے کا حکم ملا۔ (سیر الاقطاب، ص: ۱۴۲)
چنانچہ آپ رحمۃ اللہ علیہ سرزمینِ ہند تشریف لائے اور اجمیر شریف کو اپنا مستقل مسکن بنایا اور دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کا آغاز فرمایا۔
اخلاق و کردار کے ذریعے اشاعتِ اسلام اور کرامات
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی دینی خدمات میں سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اخلاق، کردار اور گفتار سے اس خطے میں اسلام کا بول بالا فرمایا۔ لاکھوں لوگ آپ کی نگاہِ فیض سے متاثر ہو کر کفر کی اندھیریوں سے نکل کر اسلام کے نور میں داخل ہو گئے۔
حتیٰ کہ جادوگر سادھو رام، سادھو جے پال اور حاکمِ سبزوار جیسے ظالم و سرکش لوگ بھی آپ کی ہیبت اور روحانیت دیکھ کر آپ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو گئے۔(معین الہند ، ص: ۵۶، ملخصاً)
سبزوار کے ظالم حاکم کی توبہ کا واقعہ
مؤرخین لکھتے ہیں: ایک بادشاہ بڑا ظالم اور بدمزاج تھا۔ اس کا شہر کے اطراف میں ایک نہایت خوبصورت باغ تھا، جس میں صاف و شفاف پانی کا ایک حوض تھا۔ حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا وہاں سے گزر ہوا تو آپ اس باغ میں تشریف لے گئے اور جو حق کے پانی سے غسل فرما کر نماز ادا کر کے وہیں بیٹھ کر تلاوتِ قرآنِ پاک میں مصروف ہو گئے ۔
اتنے میں بادشاہ کے آنے کا شور بلند ہوا، مگر آپ اطمینان کے ساتھ ذکرِ الٰہی میں مصروف رہے۔ جب ظالم حاکم اپنی شان و شوکت کے ساتھ باغ میں داخل ہوا تو حوض کے کنارے سادے سے لباس میں ایک نیک صفت شخص کو دیکھ کر آگ بگولہ ہو گیا اور اپنے سپاہیوں پر غضب ناک ہو کر بولا کہ اس شخص کو کس نے میرے باغ میں بیٹھنے کی اجازت دی؟ سپاہی سہمے ہوئے تھے کہ اچانک آپ کی نظر اس بادشاہ پر پڑی، وہ بادشاہ ایک دم کانپنے لگا اور لرزتے ہوئے زمین پر گرا اور بے ہوش ہو گیا۔
آپ نے پانی منگوا کر اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے تو اسے ہوش آ گیا۔ ہوش میں آتے ہی وہ نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ اپنی کوتاہی کی معافی مانگنے لگا اور پھر اپنے تمام خادموں سمیت آپ کے ہاتھوں پر توبہ کر کے آپ کی غلامی میں داخل ہو گیا۔
(ہند کے راجہ، ص: ۷۴)
سلسلۂ چشتیہ کا آغاز اور خلفاء کی خدمات
ہند میں خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی آمد ایک زبردست اسلامی، روحانی اور سماجی انقلاب کی پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ ہی کے طفیل ہند میں سلسلۂ چشتیہ کا آغاز ہوا۔ (تاریخ مشائخِ چشت، ص: ۱۳۶)
آپ نے اصلاح و تبلیغ کے لیے اپنے تلامذہ و خلفاء کی ایسی جماعت تیار کی، جس نے برصغیر کے کونے کونے میں اسلام پھیلا دیا:
دہلی: حضرت شیخ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ
ناگور: حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ
خلفاء کے خلفاء کا عظیم کردار
اس مشن کو عروج تک پہنچانے میں آپ کے خلفاء کے خلفاء نے بھی تاریخ ساز کردار ادا کیا:
حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ: پاکپتن شریف کو مرکز بنایا۔
حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمۃ اللہ علیہ: ہانسی کو مرکز بنایا۔
حضرت شیخ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ: دہلی کو مرکز بنا کر خدمات سرانجام دیں۔
علمی تصانیف اور تلاوتِ قرآن کا معمول
حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر و تصنیف کے ذریعے بھی اشاعتِ دین اور مخلوقِ خدا کی اصلاح فرمائی۔ آپ کی مشہور تصانیف درج ذیل ہیں:
انیس الارواح
کشف الاسرار
گنج الاسرار
دیوانِ معین (معین الہند، ص: ۱۰۳)
تلاوتِ قرآن اور مقبولیت
حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ حافظِ قرآن بھی تھے۔ آپ ہر دن اور ہر رات میں ایک ایک بار ختمِ قرآن فرمایا کرتے تھے اور ہر ختمِ قرآن کے بعد غیب سے آواز آتی:
"اے معین الدین! میں نے تیرا ختمِ قرآن قبول کیا۔" (سیر الاقطاب، ص: ۱۳۶)
آپ فرماتے ہیں:
"جو شخص قرآنِ کریم کو دیکھتا ہے، اللہ پاک کے فضل و کرم سے اس کی بینائی زیادہ ہو جاتی ہے اور اس کی آنکھ کبھی نہیں روتی اور نہ خشک ہوتی ہے۔"
۲۰ سال پیر و مرشد کی خدمت اور دربارِ رسالت ﷺ سے بشارت
کتاب ہند کے راجہ میں ہے کہ آپ تقریباً 20 سال لگا تار اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ رہے اور پیر و مرشد کے ساتھ ہی حاضریِ مدینہ منورہ سے مشرف ہوئے۔
بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری کے وقت مواجہہ شریف کے سامنے پیر و مرشد نے جب آپ کو سلام عرض کرنے کا حکم دیا، تو آپ نے نہایت ادب و احترام کے ساتھ سلام پیش کیا۔ اندرونِ روضۂ انور سے آواز آئی:
’’وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ يَا قُطْبَ الْمَشَائِخِ!‘‘
یہ جوابِ باصواب سن کر پیر و مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ نے بارگاہِ خداوندی میں سجدۂ شکر ادا کیا اور فرمایا: "اب تم کمالِ درجہ کو پہنچ گئے ہو۔"
نوے لاکھ (9 Million) افراد کا قبولِ اسلام اور عظیم اثرات
حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً ۴۵ سال سرزمینِ ہند پر دینِ اسلام کی بے لوث خدمت سرانجام دی اور ظلمت کدے میں اسلام کا اجالا پھیلایا۔
آپ کی کوششوں سے لوگ جوق در جوق اسلام قبول کرنے لگے، چنانچہ تاریخی روایات کے مطابق دہلی سے اجمیر شریف تک کے سفر کے دوران تقریباً نوے لاکھ (90 Lakhs) افراد آپ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ (معین الارواح)
اجمیر شریف میں ہی آپ کا وصال ہوا اور یہیں آپ کا مزارِ اقدس مرجعِ خلائق ہے۔ آج براعظم پاک و ہند میں ایمان و اسلام کی جو بہار نظر آ رہی ہے، اس میں آپ کی سعیِ بے مثال کا بنیادی حصہ ہے۔
تبصرے 0