کون جیتا ہے شبِ ہجر سحر ہونے تک
عمر اک چاہیے، یہ عمر بسر ہونے تک
حضرت علامہ مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی پیکرِ علم و عمل تھے۔ وہ عمل پر یقین رکھتے تھے۔ جہاں جہاد کی ضرورت ہوتی، اس سے بھی گریز نہ کرتے اور سخت جدوجہد سے اپنا مقصود حاصل کر لیتے۔ ان کے حوصلے بہت بلند تھے۔ وہ عُجب اور خود پسندی کو پسند نہ فرماتے تھے اور محسن کشی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کے مزاج میں خواہ مخواہ کی فتنہ انگیزی نہ تھی۔ وہ کوشش کرتے کہ امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دانائی و حکمت سے دبا دیں۔
علمی بصیرت اور فقہی خدمات
ایک مثال عرض کرتا ہوں۔ علماءِ اہلِ سنت کا ایک فتویٰ شائع ہوا جس سے ایک طرف حضرت مجدد الفِ ثانی اور حضرات نقشبندیہ علیہم الرحمہ کا دامنِ عصمت داغدار ہوتا تھا، اور دوسری طرف امام احمد رضا محدث بریلوی پر الزام آتا تھا۔ فقیر نے اس سلسلے میں رفعِ فساد کے لیے مفتی صاحب کی خدمت میں استفتا پیش کیا۔ آپ نے اس کا عادلانہ، عارفانہ، حکیمانہ اور مؤثر جواب عنایت فرمایا، جس سے ایک طرف حضرت مجدد الفِ ثانی کا دامنِ عصمت محفوظ ہو گیا اور دوسری طرف امام احمد رضا خان محدث بریلوی پر الزام نہ رہا۔
مفتی صاحب کا یہ اہم فتویٰ "امام ربانی مجدد الفِ ثانی" کی دوسری جلد کے پہلے باب میں شامل ہے، جسے امام ربانی فاؤنڈیشن، کراچی 2004ء سے چار پانچ جلدوں میں شائع کر رہی ہے۔
اخلاص، للّٰہیت اور شخصیت
حضرت مفتی صاحب کے اخلاص اور للّٰہیت کا یہ عالم تھا کہ اپنی سوانح لکھنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔ فرماتے تھے کہ اس میں شائبۂ حظِ نفس بھی ہے۔ جب فقیر نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات اور انعامات کو یاد کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ بغیر نفسانی خواہش کے اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے احسانات و انعامات کا ذکر کرے اور ذکر کرنے دے۔ یہ سن کر مفتی صاحب مسکرائے اور خاموش ہو گئے۔
اب مناسب ہے کہ اہلِ محبت اس طرف توجہ فرمائیں، تاکہ حضرت مفتی صاحبؒ کی تابناک زندگی آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ بن جائے۔
حضرت مفتی صاحب خشک مولوی نہ تھے جو صرف کھاتا پیتا ہے، کھلاتا نہیں، بلکہ وہ کھلاتے پلاتے بھی خوب تھے۔ فقیر جب بھی لاہور حاضر ہوتا، جامعہ نظامیہ میں حضرت مفتی صاحب سے ملاقات کے لیے ضرور جاتا۔ وہ قسم قسم کی نعمتوں سے دسترخوان سجا دیتے، پھر علمی دسترخوان بھی بچھاتے، مطبوعات اور مسودات دکھاتے، اور دکھا کر خوش ہوتے۔ کبھی دورۂ حدیث کے طلبہ کو بلا کر نصیحت و ہدایت کے لیے بھی حکم فرماتے۔
ایک مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ فقیر نے طلبہ کے سامنے علمِ لدنی کی اہمیت کو اجاگر کرنا چاہا۔ مفتی صاحب نے خیال فرمایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ طلبہ دَرسی علوم کو بے فائدہ سمجھ کر اس سے ہاتھ اٹھا لیں۔ فوراً لقمہ دیا اور درسی علوم کی اہمیت پر روشنی ڈالنا چاہی۔ فقیر نے عرض کیا کہ ان علوم کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے، لیکن ان کے حاصل کرنے کے بعد طالبِ علم کو مطمئن ہو کر نہ بیٹھنا چاہیے، بلکہ عطائے ربانی کا انتظار کرنا چاہیے، تاکہ علمِ لدنی سے بھی سرفراز ہو۔
حضرت مجدد الفِ ثانی نے فرمایا:
"علمِ حضوری کے سامنے علمِ حصولی کچھ بھی نہیں۔ علمِ حصولی صورتوں کا علم ہے، اور علمِ حضوری سیرتوں کا علم ہے۔ اس لیے علمِ حصولی سے فارغ ہو کر علمِ حضوری کی طلب رکھنی چاہیے، تاکہ مطلوب حاصل ہو۔"
حضرت مفتی صاحب جب کبھی کراچی تشریف لاتے، غریب خانے کو ضرور رونق بخشتے۔ کبھی علامہ غلام نبی فخری ساتھ ہوتے، کبھی علامہ منیب الرحمٰن ساتھ ہوتے، اور کبھی علامہ غلام محمد ساتھ ہوتے۔ مفتی صاحب کی محبت و اخلاص رہ رہ کر یاد آتی ہے۔
حضرت مفتی صاحب عاجزوں کے ساتھ عاجز اور قاہروں کے ساتھ قاہر تھے۔ بے باک، حق گو، اور بھری محفل میں علماء کو ٹوک دیا کرتے تھے۔ بڑے بڑے علماء ان کے سامنے بات کرتے ہوئے جھجکتے تھے۔ وہ سلف و صالحین کا نمونہ تھے۔ ان کے قہر میں بھی محبت تھی۔ وہ سلف و صالحین کی پیروی میں نجات سمجھتے تھے۔ صاحبِ استقامت تھے، ڈانواں ڈول نہ ہوتے تھے۔
ولادت اور ابتدائی تعلیم
حضرت مفتی صاحب 29 شعبان 1352ھ / 18 دسمبر 1933ء کو مانسہرہ، ضلع ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ علمائے عصر سے علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل کی۔ پھر 1955-56ء میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی کے خلیفہ علامہ ابوالبرکات قادری رضوی سے دارالعلوم حزب الاحناف (لاہور) سے، اور محدثِ اعظم پاکستان علامہ محمد سردار احمد قادری رضوی سے جامعہ رضویہ مظہر الاسلام (فیصل آباد) سے سندِ فراغت حاصل کی اور دستارِ فضیلت سے سرفراز ہوئے۔
علامہ سید ابوالبرکات کی یاد آگئی۔ کیسی محبت اور کس قدر خلوص والے یہ علماء تھے۔
طالبِ علمی کے زمانے میں، 1952-55ء کے دوران، فقیر جب حاضر ہوتا تو والدِ ماجد مفتیِ اعظم شاہ محمد مظہر اللہ کی نسبت کی وجہ سے فقیر کو اپنے ساتھ مسند پر بٹھاتے۔ مولانا مسعود صاحب سے چائے منگوا کر پلاتے۔
پھر جب بزمِ مظہری، لاہور کی سرپرستی میں داتا دربار میں پہلی محفلِ میلاد النبی ﷺ منعقد ہوئی تو فقیر کی درخواست پر محفلِ پاک میں خود تشریف لائے اور سواری کے انتظام کی بھی تکلیف نہ دی۔ تقریر فرمائی اور خود ہی تشریف لے گئے۔
محدثِ اعظم پاکستان والدِ ماجد کے عقیدت مندوں میں سے تھے، اور برادرِ مکرم مفتی محمد مظفر احمد (جو فنِ افتا و فتویٰ نویسی میں اپنی مثال آپ تھے) کے خاص محسنین میں تھے۔ جب کراچی تشریف لاتے تو ان سے ضرور ملتے۔
حضرت والدِ ماجد کے ایک فرزندِ طریقت نے جون، جولائی کی گرمیوں میں لوہاری گیٹ کے اندر ایک تنگ و تاریک مکان میں فقیر کی دعوت کی، اور فقیر کے حوالے سے حضرت علامہ ابوالبرکات سید احمد اور صدر المشائخ حضرت فضل عثمان مجددی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی دعوت دے دی۔ دونوں حضرات تشریف لے آئے۔ جب فقیر نے دیکھا تو خوشی بھی ہوئی مگر شرمندگی بھی ہوئی کہ اس فرزندِ طریقت نے ان حضراتِ عالیہ کو اس شدید گرمی میں کیوں تکلیف دی۔ مگر ان دونوں حضرات نے اپنی محبت و شفقت کا ایسا نقش فقیر کے دل پر مرتسم کر دیا۔ علیہما الرحمۃ والرضوان سندِ فراغت سے پہلے، 1953ء میں، حضرت مفتی صاحب مولانا محمد سردار احمد کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں بیعت فرما چکے تھے۔
تدریس اور جامعہ نظامیہ رضویہ کا قیام
طالبِ علمی کے زمانے ہی سے مفتی صاحب نے تدریس کا آغاز کر دیا تھا۔ پھر فراغت کے بعد مختلف مدارس میں یہ فرض انجام دیا۔ ابتدا ہی سے تدریس کے ساتھ ساتھ انتظامی معاملات اور سرمایہ کی فراہمی کا بھی تجربہ ہو گیا، جو آگے چل کر کام آیا۔ جامعہ نظامیہ میں دیگر مشاغل کے علاوہ تدریس کا سلسلہ آخری دم تک جاری رہا۔
حضرت مفتی صاحب بڑے فرض شناس تھے اور اپنی کلاس کا پورا پورا پاس رکھتے تھے۔ جب تک گھنٹہ نہ بج جاتا، کلاس ختم نہ کرتے تھے۔ آنے جانے والے بھی کلاس میں مخل نہ ہو سکتے تھے۔ آپ بڑے اصول پسند، وقت کے پابند اور فرض شناس تھے۔
درس و تدریس کے علاوہ مختلف مساجد میں امامت و خطابت کے بھی فرائض انجام دیے۔ آپ کا سب سے بڑا تعمیری کارنامہ جامعہ نظامیہ رضویہ کے لیے زمین کا حصول اور عمارت کی تعمیر میں آپ کی بے مثال جدوجہد ہے۔ آپ نے جامعہ کے لیے تن، من، دھن کی بازی لگا دی اور اپنی بے مثال جدوجہد سے جامعہ نظامیہ رضویہ کو اہلِ سنت کے تمام مدارسِ عربیہ میں نہایت ممتاز کر دیا۔ پھر چند سال پہلے شیخوپورہ کے قریب جامعہ نظامیہ رضویہ کا جدید اور عظیم کیمپس قائم کیا۔
چند سال پہلے جب فقیر حاضر ہوا تو مفتی صاحب نے خوشی خوشی وہ علم دکھایا جس میں جامعہ کی مختلف عمارات کے عکس تھے۔ فقیر نے عرض کیا: "یہ معدوم ہیں یا موجود؟"
مفتی صاحب بہت مسکرائے اور فرمایا: "نہیں، موجود ہیں، میں آپ کو لے جا کر دکھاؤں گا۔"
فقیر نے یہ بات کیوں پوچھی، اس کی وضاحت کے لیے ایک تلخ تجربے کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔
عرصہ ہوا، کچھ علماءِ اہلِ سنت فقیر کے پاس آئے اور اپنے مدرسے کا نہایت دلپذیر اور دلکش علم دکھایا۔ ایک ایک عمارت کا عکس دیکھتا گیا۔ جب علم دیکھ چکا تو انہوں نے دوسرا علم کھولا، جس میں اس مدرسے کے متعلق علمائے اہلِ سنت کی تعارفی آراء درج تھیں۔ جب اس سے فارغ ہوا تو مولوی صاحب نے فرمائش کی کہ فقیر بھی کچھ لکھ دے۔
فقیر نے عرض کیا: "فقیر دیکھ کر لکھتا ہے، کسی کے لکھے پر نہیں لکھتا۔ آپ کسی روز مدرسہ دکھا دیں، ان شاء اللہ فقیر بھی لکھ دے گا۔"
پھر ان علماء میں سے کوئی فقیر کے پاس نہ آیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مدرسے کی زمین تو ہے، مگر صرف ایک کمرہ بنا ہوا ہے، اور وہ عظیم الشان عمارتیں جو علم میں دکھائی گئی تھیں، سب کی سب معدوم تھیں۔اسی لیے فقیر نے مفتی صاحب سے سوال کیا تھا کہ یہ عمارتیں معدوم ہیں یا موجود؟ مفتی صاحب شیخوپورہ کا جدید کیمپس دکھانے کے لیے خود لے گئے۔ اگرچہ ابھی پورے منصوبے پر عمل نہ ہوا تھا، لیکن جو کچھ بن چکا تھا، اسے دیکھ کر سخت حیران ہوا۔ کلاس رومز کے علاوہ پانچ سو طلبہ کے لیے عظیم الشان ہاسٹل، اساتذہ کے رہنے کے لیے خوش نما بنگلے، جو ہمارے بڑے بڑے کالجوں میں بھی دستیاب نہیں۔ مفتی صاحب نے فرمایا: "یہاں رہائش بھی مفت، کھانا بھی مفت، پھر بھی اساتذہ یہاں رہنا پسند نہیں کرتے۔" اب تو یہ کیمپس اور بھی شاندار ہو گیا ہوگا۔ آج مفتی صاحب کی قبر بھی اسی کیمپس میں ہے، جو ان کی بلند ہمتی کی یادگار ہے۔
تنظیمی اور تحریکی خدمات
1354/ 1974ء میں مفتی صاحب تنظیم المدارس کے ناظمِ اعلیٰ مقرر ہوئے، جس کے لیے آپ نے مؤثر کردار ادا کیا، اور اس عہدے پر بار بار مقرر ہوتے رہے۔ اس تنظیم کی سند M.A کے برابر تسلیم کی جاتی ہے، بلکہ فقیر سمجھتا ہے کہ یہ سند M.A سے بھی بلند ہے۔ یہ حقیقت مدرسہ عالیہ مسجد فتح پوری، دہلی میں درسِ نظامی کے چند سال گزارنے کے بعد کھلی، ورنہ یہ حقیقت پوشیدہ رہتی۔ مدارسِ عربیہ کے بہت سے طلبہ نے اس سند کی بنیاد پر مختلف یونیورسٹیوں سے ڈاکٹریٹ کی اسناد حاصل کیں۔ بڑے فاضلانہ مقالات لکھے، جو کسی بھی یونیورسٹی سے صرف M.A کرنے والا ہرگز نہ لکھ سکتا۔ اس کے علاوہ ان اسناد کی بنیاد پر اچھی اچھی ملازمتیں بھی حاصل ہوئیں۔
مفتی صاحب جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی ناظمِ نشر و اشاعت بھی رہے اور جمعیت علماء پاکستان، لاہور کے صدر بھی۔ تحریکِ ختمِ نبوت میں بھی حصہ لیا، قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، اور 1977ء میں تحریکِ نظامِ مصطفیٰﷺ میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔
رضا فاؤنڈیشن اور فتاویٰ رضویہ کی اشاعت
جامعہ نظامیہ رضویہ کی تعمیر کے علاوہ سب سے اہم کام، جو مفتی صاحب نے کیا، وہ رضا فاؤنڈیشن کا قیام ہے، جس کی سرپرستی میں امام احمد رضا محدث بریلوی کی فتاویٰ رضویہ کی بارہ جلدوں کی تخریج و تدوین کا عظیم کام انجام پایا۔
جب پہلی جلد شائع ہوئی تو علماءِ اہلِ سنت سے جو توقع تھی، وہ پوری نہ ہوئی۔ مال تو تھا، مگر خریدار نہ تھے۔ بالعموم اہلِ سنت کو کتابیں خریدنے اور پڑھنے کی عادت نہیں۔ جب فقیر نے عرض کیا کہ دوسری جلد بھی شائع کروائیں تو فرمایا: "پہلی جلد کے پیسے آ جائیں تو دوسری چھپواؤں۔"
یہ سن کر بہت افسوس ہوا، لیکن مفتی صاحب کی بلند ہمتی برقرار رہی۔ فقیر نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے، اور وہ اپنا وعدہ ضرور پورا فرمائے گا۔ آپ ضرورچھپوائیں۔
خدا کی شان! جو علماء امام احمد رضا سے نفرت کرتے تھے، وہی بڑھ چڑھ کر فتاویٰ رضویہ خریدنے لگے، کیونکہ فتاویٰ رضویہ ایسی نادر کتاب ہے جو غیر مفتی کو بھی مفتی بنا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے غیب سے اس کا سامان کر دیا۔ تخریج و تدوین کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک جلد کے بعد دوسری جلد چھپتی رہی، یہاں تک کہ مفتی صاحب کی زندگی میں 25 جلدیں شائع ہو گئیں، جبکہ دو جلدیں مزید تیار تھیں۔
حضرت مفتی صاحب یہ جلدیں بڑی پابندی سے ہر سال فقیر کو ارسال فرماتے رہے، یہاں تک کہ آخری مطبوعہ چوبیسویں جلد بھی وصال سے چند ماہ پہلے ارسال فرمائی۔
فتاویٰ رضویہ کے علاوہ مفتی صاحب نے رضا فاؤنڈیشن کی طرف سے امام احمد رضا محدث بریلوی کی دوسری تصانیف (معرَّبہ و غیر معرَّبہ) اور آپ پر لکھی جانے والی متعدد عربی کتابیں بھی شائع فرمائیں، مثلاً:
1۔ بساتین الغفران
2۔ الإمام الأكبر المجدد الشيخ محمد أحمد رضا خان والعالم العربي (مطبوعہ 1988ء)
3۔ الدولة المكية بالمادة الغيبية (مطبوعہ 1322ھ)
4۔ كفل الفقيه الفاهم في أحكام القرطاس والدراهم (مطبوعہ 1423ھ / 2002ء)
5۔ أنباء الحي (مطبوعہ 1423ھ / 2002ء)
6۔ رسائل الإمام أهل السنة الشيخ أحمد رضا خان القادري
امام احمد رضا محدث بریلوی کی کتابوں کی تدوین، تخریج اور طباعت کا معیار اتنا بلند ہے کہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ کتابیں پاکستان سے شائع ہوئی ہیں، بلکہ بیروت کی مطبوعات معلوم ہوتی ہیں۔ اس سے مفتی صاحب کے جمالیاتی ذوق کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
عرصہ ہوا، علامہ محمد ظفر الدین کی تالیف صحیح البخاری شریف (جامع الرضوی) کی غیر مطبوعہ پہلی جلد کا مخطوطہ تخریج، تدوین اور طباعت کے لیے حضرت مفتی صاحب کو پیش کیا گیا تھا، جو فقیر کو علی گڑھ میں ڈاکٹر مختار الدین آرزو نے عنایت فرمایا تھا۔
مفتی صاحب نے بڑی محنت اور جانفشانی سے اس کو مدون کرایا، اور چند ماہ بعد اطلاع دی کہ مخطوطہ کی تخریج و تدوین کا کام مکمل ہو گیا ہے، اب طباعت کا مرحلہ باقی ہے۔
اس مہم میں مفتی صاحب کا حصہ تو ہے ہی، لیکن جامعہ نظامیہ رضویہ کے محترم اساتذہ نے بھی جو تن، من، دھن کی بازی لگائی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کی بے لوث خدمات کو کسی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ تھوڑے مشاہرے میں وہ کام کرتے ہیں جو بڑی بڑی جامعات اور تحقیقی اداروں میں لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی نہیں ہو پاتے۔
علمی ورثہ اور دعائیہ کلمات
اللہ تعالیٰ سب اساتذۂ کرام کو اجرِ عظیم عطا فرمائے، اور حضرت مفتی صاحب کے صاحبزادگان: مولانا محمد سعید احمد، مولانا محمد عبد المصطفیٰ، مولانا محمد عبد المجتبیٰ اور مولانا محمد غلام مرتضیٰ زید مجدہم کو مفتی صاحب کے اس مشن کو جاری رکھنے اور مزید ترقی دینے کی توفیقِ خیرِ رفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
بحمد اللہ تعالیٰ، فقیر کا جامعہ نظامیہ رضویہ کے اساتذہ سے قدیم تعلق ہے۔ جس زمانے میں مفتی اعجاز ولی خان یہاں پڑھایا کرتے تھے، اسی زمانے سے یہ تعلق قائم ہے۔ جامعہ نظامیہ کے اساتذہ میں علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری اور مولانا محمد عبد الستار سعیدی فقیر کے خاص مخلصین میں ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ان حضرات، تمام اساتذۂ کرام اور جملہ طلبہ کو دونوں جہانوں میں سرفراز فرمائے، اور وہ علم و دانش کی شمعیں روشن کرتے رہیں۔
ہر لحظہ نیا طور، نئی برقِ تجلی
اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے
تبصرے 0